Column

5فروری: یوم یکجہتی کشمیر! 

5فروری: یوم یکجہتی کشمیر!

تحریر : عابد ضمیر ہاشمی

5فروری یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن پاکستان اور آزاد کشمیر میں یہ دِن جوش و جذبہ سے منایا جائے گا۔ تقریبات کا انعقاد ہو گا جس میں بھارت کا مکروہ چہرہ دُنیا کو دکھانے کی سعی ہوگی۔ یہ دِن دُنیا بھر میں مقیم پاکستانی اور کشمیری اس جذبے کے ساتھ مناتے ہیں کہ مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام، جو ہندوستان کے خلاف جد و جہد آزادی میں مصروف ہیں، کے ساتھ اظہار یکجہتی ہو اور اس طرح کشمیری عوام کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔ اس دن سرکاری اور پرائیویٹ سطح پر جلسے جلوس، سیمینار اور پاکستان و آزاد کشمیر کو ملانے والے کوہالہ پل اور راستوں پر انسانی زنجیریں بنائی جاتی ہیں۔

اہل ِ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے ساتھ اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھنے کے اپنے عہد کا اعادہ کرتی ہے۔ اب ہر روز ہی اظہار یکجہتی منایا جائے پھر بھی کم ہے، کیونکہ مودی سرکار نے ظلم و بربریت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے،5اگست 2019ء کو جبری طور پر یک طرفہ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے، کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، اور پھر مزاحمت کے ڈر سے آج تک محاصرہ، لاک ڈائون برقرار، وادی کشمیر، چھائونی کے ساتھ ہی، دُنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہو چکی، جس میں 90لاکھ انسان خوراک، ادویات کی شدید قلت، سخت سردی کے باعث زندگی موت کی کشمکش میں ہیں۔

برصغیر پاک و ہند کے شمال مغرب میں واقع ایک ریاست ہے جس کا کل رقبہ 69547مربع میل ہے۔ 1947ء کے بعد ریاست جموں کشمیر میں تقسیم ہو گئی۔ اس وقت بھارت 39102مربع میل پرجبری طور قابض ہے جو مقبوضہ کشمیر کہلاتا ہے۔ اس کا دارالحکومت سری نگر ہے۔ بقیہ علاقہ آزاد کشمیر کہلاتا ہے جو 25ہزار مربع میل رقبہ پر پھیلا ہوا ہے اور اس کا دارالحکومت مظفر آباد ہے۔ ریاست کی کل آبادی ایک کروڑ کے قریب ہی، جس میں سے 40لاکھ آزاد کشمیر میں ہیں۔

ہندو راجائوں نے تقریباً 4ہزار سال تک اس علاقے پر حکومت کی۔ 1846ء میں انگریزوں نے ریاست جموں کشمیر کو 75 لاکھ روپوں کے عوض ڈوگرہ راجا غلام سندھ کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔ کشمیر کی آبادی 80فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ہندو راجا نے بزور شمشیر مسلمانوں کو غلام بنا رکھا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد ہندو مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمانوں کی مرضی کے خلاف 26اکتوبر 1947ء کو بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا اس کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت میں جنگ کا آغاز ہوا۔ سلامتی کونسل کی مداخلت پر یکم جنوری 1949ء کو جنگ بندی ہو گئی۔ سلامتی کونسل نے 1948ء میں منظور شدہ دو قراردادوں میں بھارت اور پاکستان کو کشمیر سے افواج نکالنے اور وادی میں رائے شماری کشمیر کرانے کے لیے کہا۔

اس وقت بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے رائے شماری کرانے کا وعدہ کیا، مگر بعد ازاں اس وعدے سے منحرف ہو گئے۔ پاکستان نے بھارت سے آزاد کرائے گئے علاقے میں آزاد کشمیر کی ریاست قائم کردی جبکہ مقبوضہ کشمیر کا تنازعہ اب بھی جاری ہے۔ بھارت نے یک طرفہ تقسیم کر کے آزادی کشمیر تحریک کو مزید دوائم بخشا، حالانکہ اس مسئلے کے حل میں اقوام متحدہ کا عالمی فورم، کشمیری عوام کے استصواب رائے کے مطالبے کو تسلیم کر چکا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اب بھی یہی مسئلہ تنازع کی صورت میں برقرار ہے اور دونوں ممالک اس سلسلے میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ کشمیر کا بچہ بچہ آج بھی اسے پاکستان کا حصہ ہی تسلیم کر تا ہے اور وہاں کشمیر کی آزادی کے نام پر شہادت پانے والوں کو آج بھی پاکستان پرچم میں لپیٹ کر سپرد خاک کیا جا تا ہے۔ ویسے تو کشمیری حریت پسند، اپنی آزادی کی یہ جنگ گزشتہ 75سال سے بدستور لڑ رہے ہیں جس کی پاداش میں 40لاکھ سے زائد کشمیری بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگ آزادی کی اس راہ میں جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ 74سال سے وہاں تعینات بھارتی فوجیوں، سپیشل فورسز اور پولیس نے، جن کی تعداد آج 8لاکھ سے زائد ہو چکی ہے، مسلمان نہتے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔

روزانہ کی بنیادوں پر وہاں خواتین کی عصمتیں تار تار کی جا رہی ہیں، مائوں اور بہنوں سے ان کے سہاگ چھینے جا رہے ہیں، لاکھوں بچے یتیم ہو رہے ہیں، مگر آج بھی ان کشمیریوں کے لب پر ایک ہی صدا گونج رہی ہے: ’’ کشمیر بنے گا پاکستان‘‘۔

بھارتی افواج کے مظالم میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے، جس کے تحت نہ صرف مرد، خواتین اور بچوں کو شہید کیا جا رہا ہے بلکہ خواتین کی عصمتیں لوٹی جا رہی ہیں، جبکہ کشمیر کے نونہال مستقبل سمیت نوجوانوں کی آنکھیں نکالی جا رہی ہیں اور ان پر ربڑ اور لوہے کی وہ گولیاں برسائی جا رہی ہیں جن کے نتیجے میں لاتعداد افراد بلاناغہ معذور ہو رہے ہیں۔ مگر ماسوائے اللہ کے، ان کا بھری دنیا میں کوئی ان کے حقیقی حال سے واقف نہیں۔

عالمی فورم اور اقوام متحدہ بھی خاموش تماشائی بن کر اس ظلم و بربریت کو دیکھ رہے ہیں جبکہ انسانی حقوق کا چیمپئن امریکا، بھارت سے تجارتی تعلقات بہتر بنانے کے لیے اس سے پینگیں بڑھا رہا ہے اور شاید وہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت ہی کا حصہ تسلیم کر چکا ہے، وہ کسی نہ کسی طریقے سے بھارت کی سرپرستی کرنے میں مصروف عمل ہے۔ مگر اس سلسلے میں مظلوم کشمیریوں کے عزائم کچھ اور ہیں اور ان کی رگ رگ میں جدوجہد آزادی، خون کی مانند بہہ رہی ہے؛ اور وہ الحاق پاکستان چاہتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے 1946ء میں مسلم کانفرنس کی دعوت پر سرینگر کا جب دورہ کیا۔ وہاں قائداعظمؒ کی دور اندیش نگاہوں نے سیاسی، دفاعی، اقتصادی اور جغرافیائی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کشمیر کو ’’ پاکستان کی شہ رگ‘‘ قرار دیا۔

مسلم کانفرنس نے بھی کشمیری مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے 19جولائی 1947ء کو سردار ابراہیم خان کے گھر سری نگر میں باقاعدہ طور پر قرارداد الحاق پاکستان منظور کی، مگر بھارت نے اسے یکسر مسترد کر دیا۔ اس پر کشمیریوں نے بھارتی افواج کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کردی جو اب تک جاری ہے۔

کشمیری عوام اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں، وہ آزادی لے کر رہیں گے، انہیں اوچھے ہتھکنڈوں سے نہ ڈرایا جاسکتا ہے نہ دبایا جاسکتا ہے؛ کشمیر کی آزادی اور الحاق پاکستان تک ہماری جدوجہد بدستور جاری رہے گی خواہ اس کے نتیجے میں ہمیں اپنے گود کے بچوں کی جانوں کا نذرانہ کیوں نہ دینا پڑے۔ آزادی کشمیر کی جنگ عقیدے اور آزادی کی جنگ ہے جس کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

5فروری کو منائے جانے والے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر نہ صرف پورا پاکستان بلکہ پورا آزاد کشمیر بھی اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں سے مکمل طور پر اظہار یکجہتی کرتا ہی۔ آج کا دن تقاضا کرتا ہے کہ زبانی نہیں بلکہ اب ایک بار پھر مسلمان فاتح محمود غزنوی، شہاب الدین غوری اور سلطان صلاح الدین ایوبی بنیں، تاکہ کشمیر کو آزادی کی دولت سے مالا مال کیا جا سکے۔ اور یکجہتی کشمیر کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

عابد ضمیر ہاشمی

جواب دیں

Back to top button