Abdul Hanan Raja.Column

کمزور دفاع کھوکھلے نعرے اور وینزویلا

کمزور دفاع کھوکھلے نعرے اور وینزویلا
عبدالحنان راجہ
ریاست کے پاس قدرت کے عطا کردہ ذخائر ہوں، وسیع رقبہ ہو، ملک نباتاتی حسن سے مالا مال ہو اور معدنیات کے ذخائر بھی، یہ سب دشمن کی عسکری طاقت سے بچانے کو ناکافی۔ وینزویلا اس کی تازہ مثال۔ اس حملہ سے دوسری بات جو سمجھ آئی کہ تکبر اور طاقتور کے ساتھ ہمہ وقت ٹکرائو اور الجھائو ذلت آمیز انجام سے دوچار کرتا ہے۔ وینزویلا کے صدر کے انجام سے اہل پاکستان کے تمام طبقات کے لیے بھی اسباق ہیں اور ہر ایک کو حسب حال سمجھنا ہو گا۔2026 ء کے آغاز میں امریکی صدر کی حیران کن کاروائی نے جہاں کمزور ممالک کی خودمختاری دائو پر لگا دی وہیں امریکی صدر ٹرمپ کی شخصیت کا یہ پہلو بھی نکھر کر سامنے آیا کہ وہ کانگریس، کابینہ اور سینٹ سے منظوریوں کے چکر میں پڑتے ہیں اور نہ اپنے کسی فیصلہ پر انتظار کی تکلیف اٹھانے کے قائل۔ سو طاقتور بدمست ہاتھی کے ساتھ معاملات کیسے کرنے ہیں یہ دنیا کے اکثر ممالک کی قیادتوں کا امتحان بالخصوص پاکستان کے لیے۔
وینزویلا پر امریکی حملہ نے روس کے دفاعی نظام کی معذوری بھی آشکار کر دی روسی ٹیکنالوجی اب کس مقام پر کھڑی ہے یہ سوالیہ نشان کہ بھارت کے بعد وینزویلا میں ناکامی سی امریکی دفاعی نظام کی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔ وینزویلا ان بدقسمت ممالک میں شامل کہ جو سب سے زیادہ پٹرولیم کے 303بلین سے زائد کے ذخائر ہونے کے باوجود معاشی قوت بن سکا اور نہ اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا سکا۔ وجہ اندرونی چپقلش، بدعنوانی اور بدانتظامی۔ یہی وجہ رہی کہ ریڈار اندھے ہوئے، اور لولا لنگڑا دفاعی نظام چند گھنٹوں میں راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ اربوں ڈالر، معدنی ذخائر، بلند و بالا عمارات اور کھوکھلے نعرے اسے بچا نہ پائے۔ ناقابل تسخیر دفاع اور عزم مصمم ایسی حقیقت کہ جس سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔ وینزویلا کے صدر اس انجام کا شکار نہ ہوتے اگر اندر کی صفوں میں غدار نہ ہوتے۔ اسی لیے باحمیت قومیں غداروں کو معاف نہیں کرتیں۔
وال سٹریٹ جنرل اور رائٹرز میں دفاعی تجزیہ نگاروں نے خبردار کیا ہے کہ تیل کے ذخائر کی لالچ امریکہ کے خلاف گوریلا وار شروع کر سکتی ہے۔ وینزویلا کی پیچیدہ جغرافیائی صورتحال، گھنے جنگلات اور پہاڑی سلسلہ گوریلا جنگجووں کے لیے موزوں ترین جبکہ یہ تخریب کاری عالمی دنیا کو تیل کے بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔ نکولس مادورو لاطینی امریکہ کے تمام کارٹلز کے لیے گاڈ فادر کا درجہ رکھتے تھے اس صورتحال میں امریکہ کے لیے پرامن طریقہ سے تیل کے ذخائر پر قبضہ برقرار رکھنا دشوار ہو سکتا ہے۔ امریکی حملہ کے بعد اقوام متحدہ بھی اپنا جواز کھو چکا طاقتور کے آگے اس ادارے کا کردار مشکوک اور محدود ہونے لگا ہے۔
یہ سوال ہر قاری کے ذہن میں جنم میں لیتا ہے کہ قدرتی ذخائر اس ملک کو کیوں نہ بچا سکے تو ماہرین اس کی بڑی وجوہات بیان کرتے ہیں کرپشن، انتظامی کمزوری، تیل پر 90فیصد انحصار اور غیر سنجیدہ قیادت کہ جو طاقتور پڑوسی کے خلاف مسلسل محاذ آرائی اختیار اور تند و تیز بیانات سے اسے مشتعل کر رہا تھا۔وینزویلا میں معاشی عدم استحکام اور تیل کے پیداوار میں کمی کا سلسلہ ہوگوشاویز کے دور میں شروع ہوا جب انہیں شوشلسٹ انقلاب کا شوق چرایا۔ ماہرین کے مطابق اسی اقدام سے کرپشن نے جڑیں مضبوط کیں۔ شاویز کے انقلاب کے بعد امریکی و دیگر غیر ملکی کمپنیاں وینزویلا سے رخصت ہو گئیں جس سے معیشت کو بڑا جھٹکا لگا۔ 2007ء میں وینزویلا نے ExxonMobilکے اثاثے ضبط کر لیے جبکہ بین الاقوامی ثالثی کورٹ کے فیصلے کے باوجود وینزویلا نے اسے اربوں ڈالر کے معاوضے ادا نہیں کیے۔ موجودہ صدر کی امریکی مخالف مہم اور مبینہ طور پر انڈر ورلڈ کی سرپرستی اور دنیا کے سب سے زیادہ کروڈ آئل کے ذخائر نے امریکہ کو حملہ پر اکسایا۔ اس جیسے دیگر ممالک کے لیے دنیا اب غیر محفوظ ہو چکی۔ یہ سوال آنے والے کئی سال تک ذہنوں کو پریشان کئے رکھے گا۔

جواب دیں

Back to top button