تازہ ترینخبریںپاکستان سے

عمران خان کیخلاف غداری کی درخواست خارج ، وکیل کو ایک لاکھ روپے جرمانہ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مبینہ امریکی خط کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست  ناقابل سماعت دیتے ہوئے مسترد کردی۔

عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دائر درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا اور ناقابل سماعت دیتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔اسلام آبادہائیکورٹ نے درخواست گزار پر1 لاکھ روپے ہرجانہ بھی عائد کردیا۔

عدالت نے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ غیرسنجیدہ درخواست عائد کرکے عدالت کا وقت ضائع کرنے کی کوشش کی گئی،سابق منتخب وزیراعظم پر عائد الزامات فرسودہ ہیں۔

اس سے قبل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے 8مارچ کو تحریک عدم اعتماد جمع کرائی،وزیراعظم27مارچ تک اس معاملے پر خاموش رہتےہیں اور پھر 27مارچ کو وزیراعظم کہتے ہیں کہ یہ دھمکی آمیزخط ملا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ یہ خط نہیں کیبل تھا،خط اورکیبل میں فرق ہے۔

درخواست گزار نے کہا تھا کہ اخبارات ،میڈیا میں ہر جگہ اسے خط لکھا جارہا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دئیے کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اورآپ اس کوکیوں سیاسی کرناچاہتے ہیں؟ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ کیا پروسیجر کی خلاف ورزی ہوئی۔

درخواست گزاراقبال حیدر نے کہا کہ اس سے پہلے پرویز مشرف نے بھی آئین شکنی کی تھی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مولوی اقبال حیدر کو عمران خان کا پرویز مشرف کے ساتھ موازنہ کرنے سے روک دیا تھا اور ریمارکس دئیے کہ عمران خان منتخب وزیراعظم تھے پرویز مشرف سے موازنہ نہ کریں۔

دائر درخواست میں موقف

مولوی اقبال حیدر کی طرف سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدم اعتماد کے دوران وزیراعظم نے خط موجود ہونے کا دعویٰ کیا ۔ خط کے دعوے سے ملکی مفاد کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ سیکرٹری دفاع کو خط سے متعلق تحقیقات کا حکم جاری کیا جائے،عدالت سیکرٹری داخلہ و دفاع کے ذریعے انکوائری کرائے کیوں کہ تحقیقات کرکے معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے جانا وفاق کی ذمہ داری تھی۔

عدالت سے یہ استدعا بھی کی گئی تھی کہ درخواست پر فیصلہ ہونے تک وزیراعظم، وزرا اور سفیر اسد مجید کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے۔غداری کا مقدمہ چلانے کیلئے شکایت ٹرائل کورٹ کو بھجوانے کا حکم دیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button