تازہ ترینخبریںپاکستان سے

عمران خان بے شمار خوبیوں کے مالک اور سچے عاشق رسولﷺ ہیں، قاسم علی شاہ کی جہان پاکستان سے گفتگو

لاہور (انٹرویو، ضیاءتنولی ) معروف موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ نے کہا ہے کہ عمران خان اور وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کسی منصوبہ بندی کا حصہ نہیں تھی۔

سابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کے لیے درخواست کرچکا ہوں، میرا اوڑنابچھونا بطور اُستاد شفاف انداز میں حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے عام آدمی کو موٹیویٹ کرنا ہے، بحیثیت اُستاد اپنے فرائض بلاخوف و خطر انجام دیتا رہوں گا۔

وزیراعظم شہبازشریف اور عمران خان سے بالترتیب حالیہ ملاقاتوں کے بعد ”جہان پاکستان“ کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں قاسم علی شاہ کا کہنا تھا کہ عمران خان سے الیکشن میں ٹکٹ کی درخواست کرنا درحقیقت ایک عام آدمی کے سوال کو اُجاگر کرنا تھا نہ کہ اِس کا مقصد اپنی ذات کے لیے ٹکٹ کا حصول تھا۔

ایک سوال کے جواب میں قاسم علی شاہ نے کہا کہ عمران خان بے شمار خوبیوں کے مالک ہیں وہ سچے عاشق رسولﷺ ہیں اور پاکستان کے عام آدمی کی سب سے بڑی اُمید بھی ہیں لیکن انسان کو اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے اُن کو اُن کے چند قریبی ساتھیوں نے ہائی جیک کیا ہوا ہے جو اُن کو اپنے نرغے سے باہر نہیں نکلنے دیتے۔

انہوں نے کہاکہ وہ براہ راست سیاست میں ہنگامی بنیادوں پر قدم رکھنے کے ہرگز خواہش مند نہیں ہیں۔ میں نے عمران خان سے جس انداز میں الیکشن کے لیے ایم پی اے یا ایم این اے کا ٹکٹ حاصل کرنے کا سوال اٹھایا، درحقیقت اُس کے پیچھے ایک عام آدمی کیلئے پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے حصول کی بات کو پی ٹی آئی کے سربراہ سے بیان کرانا تھا تاکہ عام آدمی کی پاکستان میں موجود موروثی سیاست کے خلاف اُمید سے وابستہ عملی سیاست میں شمولیت کا تشخص سامنے لایاجاسکے،

تاکہ عام آدمی عمران خان کی اِس بارے میں سوچ سے اپنا راستہ متعین کرسکے ۔قاسم علی شاہ نے کہا کہ میں اِس نکتے پر قائم ہوں کہ میں نے ملاقات میں وزیراعظم شہبازشریف کو پاکستان کے لیے فکر مند پایا تاہم عمران خان کے بارے میں جو میرے الفاظ سخت گیری سے سوشل میڈیا پر منسوب کیے جارہے ہیں، اُن کو دو سیاسی فریقین کے مابین متنازعہ شکل دے کر اُستاد کے طالبعلم کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنے کے مترادف ہے۔

قاسم علی شاہ کا کہنا تھا کہ وہ شعور بیدار کرنے کی کوشش سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور بلاامتیاز علم کی شمع روشن کیے جائیں گے، بلاشبہ روشنی، اندھیرے سے اپنا ٹکراﺅ جاری رکھتی ہے ، ہمیں اپنی من چاہی سیاسی وابستگی کو حرف آخر نہیں سمجھناچاہیے، اپنی بات کرنے کے بعد لوگوں کو شائستگی کے ساتھ سننا چاہیے اور اپنا فیصلہ شائستگی کے ساتھ سنانا چاہیے تاکہ درستگی یا غلطی کی گنجائش کو سامنے رکھتے ہوئے شفاف راستوں کا انتخاب معاشرے میں ہم سب کے لیے آسانیاں پیدا کرسکے۔

قاسم علی شاہ کا کہنا تھا کہ معمول کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت وزیراعظم شہبازشریف اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے اُن کے انٹرویو کے لیے بات کی تھی اور ابھی آصف علی زرداری کا انٹرویو باقی ہے، لہٰذا جو حلقے اُن کی ملاقاتوں کو سیاسی مخالفت کا رنگ دے کر اپناکاروبار چمکانا چاہتے ہیں انہیں بالآخر مایوسی ہوگی کیونکہ میری ملاقاتوں کے مقاصد قطعی سیاسی نہیں، انہوں نے انٹرویو کے آخر میں انکشاف کیا کہ وہ بھی عمران خان کے ووٹر ہیں اور پچھلے عام انتخابات میں انہوں نے عمران خان کو ووٹ دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button