Abdul Hanan Raja.Column

جنگ کے سائے میں امید کی کرن

جنگ کے سائے میں امید کی کرن
عبدالحنان راجہ
جنگ اور بلاوجہ محاذ آرائی کبھی دانش مندوں کا مشغلہ نہیں رہا۔ ممالک اور خطوں کو جنگ میں دھکیلنے کے لیے جوازات کی حاجت نہیں ہوتی ہاں مگر امن کی فاختہ مشکل سے ہاتھ آتی ہے کہ یہ حکمت، تدبر، بصیرت اور اعصاب کا صبر آزما کھیل ! گزشتہ 8، نو ماہ سے تنہا پاکستان ہی اسی راہ کا مسافر اور دنیا بھی اب امن کی اقوام متحدہ کی بجائے پاکستان میں دیکھتی ہے۔ یہی وجہ کہ گزشتہ عرصہ کے دوران مضبوط اعصاب کے مالک راہنما و مذاکرات کے علمبردار سمجھے جانے والے ممالک بھی حوصلہ ہار بیٹھے تو امن کے علمبردار بھی امید گنوا بیٹھے۔ کہنہ مشق تجزیہ نگاروں کی پیشین گوئیاں دم توڑتی رہی اور جنگ و امن کے مابین آنکھ مچولی رہی۔ مگر اسکے باوجود دنیا کے نقشے پر صرف ایک ملک جی ہاں پاکستان نے ہمت ہاری نہ حوصلہ کہ وہ محض جنگ بندی ہی کی کوششوں میں مصروف نہیں بلکہ وہ اسرائیل کے نامکمل ایجنڈا کو تاقیامت نامکمل رکھنے کے لیے بھی کوشاں خطے سے امریکی نفوذ کا بتدریج خاتمہ چاہتا ہے تو دوست ممالک کے مابین طاقت کے عدم توازن کے خدشات دور کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل۔ یمن جنگ کے بعد کہ جب سعودی عرب اور ایران کے مابین تلخیاں و دوریاں بڑھیں تو ایسے لگ رہا تھا کہ یہ معاملہ کسی بھی وقت دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کو عروج پر پہنچا سکتا ہے مگر پاکستان نے ہمت نہیں ہاری اور نتیجہ آج ایران میں سعودی وزیر داخلہ کی موجودگی۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان نے اب کی بار ترکیہ، سعودی عرب کو ساتھ رکھا اور ان سطور کی اشاعت تک دورہ کے خدوخال واضح اور معاملات پر پیش رفت سامنے آ چکی ہو گی۔ گرچہ ایران میں اعتدال پسند اور پاسداران انقلاب میں اختلافات ہیں اور خطے کے برادر ممالک کی تشویش بھی یہی ہے کہ قدامت پسندوں کو ایران کی عوام کی مشکلات کے ساتھ خطے کی عوام کے سنگین ہوتے مسائل کا ادراک کرایا جائے۔ امن کی کوششوں کے کٹھن سفر میں کئی نشیب و فراز بھی آئے اور متعدد بار امیدیں بھی دم توڑتی رہیں۔ مگر اسلام آباد کبھی تھکا اور نہ ناامید ہوا کہ اس کی کوششیں مخلصانہ۔ گزشتہ روز چار ملکی دورہ کہ جس کا اہتمام فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی کوششوں سے ہوا میں اسلام آباد معاہدہ کا اس کی اصل روح کے ساتھ نفاذ ہے کہ اس کی توثیق اگر ایرانی قیادت نے کر رکھی ہے تو چین اور روس کو بھی اس کی حمایت حاصل البتہ گزرے وقت اور بداعتمادی کی وجہ سے بعض تبدیلیاں ہو سکتی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان سطور کی تحریر کے دوران تہران میں بات چیت کو نتیجہ خیز بنانے اور عملی اقدامات کے TORsطے کیے جا رہے ہوں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ چار ملکی مذاکراتی گروپ تکنیکی مشکلات کے حل کے لیے آگے بڑھ سکتا ہے ۔ اس دورہ سے یہ ابہام ختم ہو گیا کہ مذاکرات میں کوئی تعطل ہے یا رکاوٹ ہے مذاکراتی عمل بتدریج جاری ہے اور سیاسی بیانات ان مذاکرات پر اثر انداز نہیں ہو رہے ۔
باوثوق ذرائع کے مطابق یہ چار ملکی اجلاس پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر کی تجویز پر بلایا گیا ہے اور ایران نے بھی اس پر رضامندی کا اظہار کیا۔ آر فور ممالک کی مذاکراتی کوششیں خطے میں جہاں امریکی نفوذ کے خاتمہ کی جانب اہم تو پائیدار امن کے لیے بھی ناگزیر کہ جس سے اسرائیل کی بڑھتی جارحیت اور مسلم کشی کو روکنا بھی شامل ہے۔ یہ بات بھی اہم کہ دو ہفتے قبل باکو میں ہونے والے CICAکے اجلاس کے دوران بھی چار ملکی اتحاد نے اسرائیلی صدر کی تقریر کے اعلان کے ساتھ ہی بھر پور احتجاج کے ساتھ واک آئوٹ کر کے یک جان ہونے کا ثبوت دیا اور 8دیگر مسلم ممالک بھی ہم آواز بنے یہی پاکستان کی خواہش اور بلاشبہ اس وقت پاکستان ہی امت مسلمہ کے اتحاد کا نقیب ہے اور اتحاد و امن کی کوششوں میں رکاوٹ درپردہ و نادانستہ طور پر صیہونی عزائم کی تکمیل ہی ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button