CM RizwanColumn

حرم کی پاسبانی کیلئے مثر پاکستانی مساعی

جگائے گا کون؟
حرم کی پاسبانی کیلئے مثر پاکستانی مساعی
تحریر: سی ایم رضوان
آج مسلم دنیا میں انتشار و افتراق کا ماحول، دنیا بھر میں مسلم خون کی ارزانی اور مشرق وسطیٰ کی خطرناک صورت حال کو دیکھ کر مسلم دنیا کے ہر ذی شعور شہری کے ذہن میں بے ساختہ علامہ اقبال کا یہ مشہور مصرع گونج جاتا ہے کہ ’’ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے ‘‘ کیونکہ یہ مصرع اور یہ خیال محض ایک شاعرانہ خواب نہیں، بلکہ عالمِ اسلام کی بقا، تزویراتی خود مختاری اور اقتصادی استقلال کا جامع عملی فارمولا ہے لہٰذا آج اکیسویں صدی کے پیچیدہ جیو اسٹریٹجک اور معاشی ماحول میں اقبال کے اس فلسفے کو محض جذباتی خیال سے نکال کر عملِ پیہم میں ڈھالنے کے لئے مسلم حکمرانوں کو ایک منظم فریم ورک کے تحت فوجی و تزویراتی خود انحصاری کے لئے تفرقہ انگیزی اور بیرونی مداخلت کا خاتمہ کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب مسلم ممالک کا اپنا مضبوط حفاظتی ڈھانچہ ہو۔ جس کے تحت ’ مکہ دفاعی معاہدے ‘ جیسے علاقائی پلیٹ فارمز کو وسیع تر کر کے تمام اہم مسلم ممالک ( پاکستان، سعودی عرب، ترکی، ایران، انڈونیشیا) کے لئے کھولا جائے۔ جدید ترین ملٹری ٹیکنالوجی، ڈرونز، سائبر سکیورٹی اور ایئر ڈیفنس سسٹمز کی مشترکہ تیاری اور پیداوار پر کام کیا جائے تاکہ غیر ملکی ہتھیاروں پر انحصار ختم ہو۔ تمام مسلم ممالک کے درمیان کسٹمز ڈیوٹی اور تجارتی رکاوٹوں کو کم کر کے آزادانہ تجارت کو فروغ دیا جائے۔ پٹرولیم، خام مال اور مصنوعات کی باہمی تجارت کے لئے ڈالر کے بجائے باہمی کرنسیاں یا مشترکہ ڈیجیٹل کرنسی متعارف کروائی جائے۔ اسلامی ترقیاتی بینک کے دائرہ کار کو بڑھا کر غریب مسلم ممالک میں انفراسٹرکچر، انڈسٹری میں سرمایہ کاری کی جائے۔ یہ بھی پیش نظر رہے کہ اقبال کا نظریہ علم اور عمل کی بنیادی اہمیت پر زور دیتا ہے لہٰذا یہ بھی وقت کی ضرورت ہے کہ مسلم ممالک کی بہترین یونیورسٹیوں ( مثلاً نسٹ پاکستان، شاہ فہد یونیورسٹی سعودی عرب، میٹو ترکی) کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر سائنس و ٹیکنالوجی اور اے آئی کے لئے مشترکہ فنڈ قائم کیا جائے۔ مسلم دنیا کے سکالرز اور انجینئرز کے لئے ویزا فری ترسیل یا مخصوص سائنسدان ویزا جاری کیا جائے تاکہ برین ڈرین کا مقابلہ کیا جا سکے۔ آج کی دنیا میں جنگیں میڈیا اور سائبر بیانیے سے جیتی جاتی ہیں۔ مغرب کے مرکزی میڈیا کی جانب سے اسلامو فوبیا اور مسلم دنیا سے متعلق منفی تاثر کے مقابلے کے لئے ایک کثیر اللسانی ( عربی، اردو، ترکی، انگریزی) مشترکہ گلوبل میڈیا ہائوس قائم کیا جائے۔ مسلم ممالک کے طلبہ اور نوجوانوں کے درمیان تعلیمی اور ثقافتی وفود کا تبادلہ بڑھایا جائے تاکہ فکری اور مسلکی ہم آہنگی پیدا ہو۔ سب سے بڑھ کر حرم کی پاسبانی کا بنیادی تقاضا ہے کہ مسلم ممالک اپنے تنازعات غیروں کی ثالثی کے بغیر خود حل کریں۔ او آئی سی یا کسی دیگر معاہدے کے تحت ایک فعال اور بااختیار تزویراتی کونسل بنائی جائے جو مسلم ممالک ( مثلاً عرب و عجم کے تنازعات) کے درمیان فوری مذاکرات اور مصالحت کرائے۔ صد شکر کہ اب علامہ اقبالؒ کے اس ویژن کی عملی تشکیل کا آغاز ہو چکا ہے؛ جہاں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور ایران جیسے کلیدی ممالک اب بلاک بندیوں سے نکل کر مشترکہ دفاع اور سفارت کاری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگر معاشی اور ٹیکنالوجیکل شراکت داری کو بھی اسی رفتار سے جوڑ دیا جائے تو یہ اتحاد دنیا کا بااثر اور مضبوط ترین تزویراتی بلاک بن سکتا ہے۔
عالم اسلام کے اتحاد کی ابتدا کے طور پر دیکھا جائے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے ارکان پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ سطحی وفد کی تہران میں ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی سے ملاقات کے بعد محسن رضائی کا حالیہ بیان کہ خطہ ایک نئی، مثبت صورت حال کے قیام کی طرف گامزن ہے علاقائی سفارت کاری میں ایک مثبت، کھلے اور تعمیراتی موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ محسن رضائی نے کہا کہ چاروں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور معاشی تعاون کا ایسا آغاز بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ ایران اسلامی ممالک کے درمیان علاقائی سلامتی اور تزویراتی یک جہتی کو روایتی بیانات کی بجائے اب عملی شکل دینے پر آمادہ ہے۔ محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ماضی میں اسلامی کانفرنسوں میں بلاکس بنانے اور یک جہتی پر بات تو ہوتی تھی، لیکن غیر ملکی بالخصوص امریکی مداخلت اور دھمکیوں کے باعث عملی قدم نہ اٹھایا جا سکا تھا۔ اب مکہ اتحاد کے حکام کے دورہ تہران کو انہوں نے اس بات کا ثبوت قرار دیا ہے کہ خطہ کے ممالک اب بیرونی دبا کی بجائے اپنے فیصلے خود کر رہے ہیں۔ جس سی ممالک کے مابین اعتماد سازی اور تنازعات میں کمی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور محسن رضائی کے یکساں مثبت بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اس دفاعی بلاک کو اپنے لئے کسی خطرے کے طور پر نہیں دیکھ رہا، بلکہ باہمی تعاون اور کشیدگی میں کمی کے فریم ورک پر بات چیت کے لئے تیار ہے۔ یوں مکہ معاہدے کے رکن ممالک اور ایران کے درمیان دیرینہ تحفظات کو ختم کرنے اور مشترکہ سکیورٹی چیلنجز کے حل کے لئے ایک نیا سفارتی نظام بنانے کی راہ کھل رہی ہے۔ مشرقِ وُسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے اسلامی بلاک میں دہائیوں پر محیط تنا اب باطل حریفانہ تعلقات کے بجائے مشترکہ سکیورٹی تعاون میں تبدیل ہو رہا ہے۔
خطہ میں علاقائی امن، تنازعات میں کمی اور ایک نئے دفاعی و سفارتی توازن کی امید پیدا ہونے کی اس صورتِ حال کے پیچھے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار بجا طور پر بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒکی تاریخی فکر کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہ کردار اس نقطہ نظر سے بھی اہم ہے کہ انہوں نے مکہ معاہدے کو عالمِ اسلام کے درمیان پُل کے طور پر استعمال کیا ہے اور اس معاہدے کے ارکان اور ایران کے درمیان پہلی اعلیٰ سطحی گفتگو کی شروعات کے لئے تاریخی سفارتکاری کی ہے۔ پاکستان نے یہ موقف اپنایا کہ اس معاہدے کا مقصد کسی اسلامی ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ خطے کو درپیش مشترکہ سکیورٹی چیلنجز کا حل خود نکالنا ہے۔ اس سے قبل فیلڈ مارشل نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سکیورٹی کونسل کے حکام سے ملاقات کر کے ان تحفظات کو دور کیا کہ مکہ معاہدہ ایران کو تنہا کرنے کا نام ہے، بلکہ اس کے برعکس تہران کے ساتھ سکیورٹی مشاورت کی راہ ہموار کی۔ بین الاقوامی میڈیا پاکستان کی اس پالیسی کو ایک تزویراتی توازن کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ دنیا اس بات کی معترف ہے کہ پاکستان خطے میں نئی جنگ کے خطرات اور کشیدگی کو کم کرنے کا ایک مثر ذریعہ بنا ہے۔ سعودی عرب اور ترکی کی تزویراتی شراکت دار کے ساتھ ساتھ ایران کی اعتماد سازی حاصل کرنا پاکستان کی عسکری و سیاسی سفارت کاری کی بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔ دوسری طرف تاریخ پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا اسلامی اتحاد کا نقطہ نظر بھی واضح ہے لہٰذا پاکستان کا اپنے ہمسایہ اور اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا یہ اقدام کوئی نیا یا عارضی فیصلہ نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی ازلی اور بنیادی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔
قیامِ پاکستان کے فوراً بعد 1947ء اور 1948ء میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے خدو خال واضح کیے۔ قائد اعظمؒ نے نومولود ریاست کی خارجہ پالیسی کا سب سے بنیادی ستون اسلامی برادری کے مابین اسلامی دفاعی اتحاد کو قرار دیا۔ اس حوالے سے عید (1948ئ) کے موقع پر اپنے ایک اہم پیغام میں قائد اعظم نے عالمِ اسلام کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’ میرا پیغام تمام برادر اسلامی ممالک کے لئے دوستی اور نیک خواہشات کا ہے۔ ہم سب اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ فلسطین، انڈونیشیا اور کشمیر کی صورتِحال ہمارے لئے آنکھیں کھول دینے والی ہونی چاہیے۔ صرف اکٹھے ہو کر ہی ہم بیرونی خطرات کا مقابلہ کر سکتے ہیں‘‘۔ قائد اعظمؒ کا نظریہ تھا کہ مسلم ممالک جب تک الگ الگ رہیں گے، بین الاقوامی طاقتیں انہیں سیاسی اور معاشی طور پر استعمال کرتی رہیں گی۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ اسلام ایک مشترکہ عالمی رشتہ اور ضابطہ ہے جو نسل اور جغرافیائی حدود سے ماورا تزویراتی خود مختاری فراہم کرتا ہے۔ تہران کا موجودہ اجلاس اور مکہ معاہدے کے توسیعی سکیورٹی فریم ورک میں پاکستان کا مثبت کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اپنے تزویراتی ڈی این اے پر گامزن ہے اور 1969ء میں رباط ( مراکش) میں او آئی سی کے قیام میں پاکستان کی قائدانہ پیش رفت سے لے کر 1976ء کی تاریخی لاہور اسلامی سربراہی کانفرنس تک، پاکستان نے ہمیشہ مسلم ممالک کے درمیان پل کا کام کیا ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ متوازن اور قریبی تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ ان دو اہم اسلامی ممالک کے درمیان محاذ آرائی خطے پر اثر انداز نہ ہو لہٰذا موجودہ صورت حال دراصل قائد اعظم محمد علی جناح کی اس 77سالہ پرانی سوچ کی جدید عملی شکل ہے، جس میں پاکستان عالمِ اسلام میں تفریق کی بجائے استحکام، دفاعی اتحاد اور سفارتی مصالحت کا علمبردار بن کر یوں ابھرا ہے کہ مسلم ممالک کا مشترکہ دفاع اور ان کے مابین سفارتی توازن قائم ہو۔ پاکستان کی موجودہ کاوشیں بلاشبہ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے تزویراتی اور فکری ویژن کی عملی تعبیر ہیں۔ یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ مساعی موجودہ دور کے چیلنجز اور تقاضوں کی کماحقہ تشفی کرتی ہے۔ یہاں یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان بیرونی طاقتوں کے زیرِ اثر بلاک بنانے کے بجائے مسلم دنیا کا اپنا ایک مضبوط اور با اعتماد حفاظتی فریم ورک تشکیل دے رہا ہے، جو قائد اعظم کے اصل مقصد کی تعبیر ہے۔ موجودہ پاکستانی سول و عسکری قیادت کا یہ تاریخی کریڈٹ ہے کہ وہ عرب و عجم کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لئے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ طویل عرصے سے سعودی عرب، ایران یا دیگر بلاکس کے درمیان پائے جانے والے تحفظات کو دور کرنے اور ’’ مکہ معاہدے ‘‘ کے تحت تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کا سہرا پاکستان کے سر جاتا ہے۔ یہ اقبال کے اس فلسفے کا عکاس ہے جس میں مسلم دنیا کو علاقائی کشیدگی کو چھوڑ کر اپنے اجتماعی تحفظ کا سوچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ اسی فلسفہ کی پیروی میں موجودہ عالمی تناظر، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں بدلتے سکیورٹی حالات، بیرونی مداخلتوں اور ممکنہ جنگی خطرات کے پیشِ نظر پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت نے محض زبانی بیانات تک محدود رہنے کے بجائے خطے کو کسی بڑے بحران سے بچانے اور مسلم ممالک کے درمیان تنازعات میں کمی کے لئے ایک واضح اور عملی ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان ایک ایسی ایٹمی، تزویراتی طاقت ہے جو عالمِ اسلام میں امن اور یک جہتی کا پل بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی موجودہ قیادت بانیانِ پاکستان کے اس بنیادی مشن کو حقیقت کا روپ دے رہی ہے کہ پاکستان کو عالمِ اسلام کی بقا، استحکام اور یک جہتی کے لئے ہمیشہ ایک مثبت اور قائدانہ کردار ادا کرنا ہے۔

جواب دیں

Back to top button