
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 111 پیٹروکیمیکل اور فارماسیوٹیکل تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، جس سے صنعتی سپلائی چینز اور کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف بین الاقوامی معاہدے پر عمل درآمد بھی متاثر ہوا ہے۔
ایران کے نمائندے ہادی فرج وند نے تنظیم برائے ممانعتِ کیمیائی ہتھیار (او پی سی ڈبلیو) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کی کیمیائی صنعتوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائی نے سپلائی چینز کو متاثر کیا ہے اور کیمیکل ویپنز کنونشن پر عمل درآمد میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔‘
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق، ہادی فرج وند کا کہنا تھا کہ امریکی حملوں سے متاثر ہونے والی تنصیبات میں پیٹروکیمیکل اور دوا ساز صنعتوں کے مراکز شامل ہیں۔
ایران اس سے قبل بھی او پی سی ڈبلیو میں اپنی صنعتی اور کیمیائی تنصیبات پر حملوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ایسی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے خطرناک کیمیائی مادوں کے اخراج کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، جو عوامی صحت اور ماحولیات کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔







