Column

عقل کی دولت اور خوش اخلاقی

عقل کی دولت اور خوش اخلاقی
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
انسان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ دولت، صحت، علم، حسن، قوت، شہرت اور اقتدار، سب اپنی اپنی جگہ بڑی نعمتیں ہیں، لیکن ان سب نعمتوں کو صحیح سمت دینے والی چیز عقل ہے۔ عقل نہ ہو تو دولت انسان کو غرور میں مبتلا کر سکتی ہے، علم اسے تکبر میں مبتلا کر سکتا ہے اور اقتدار اسے ظلم کی طرف لے جا سکتا ہے۔
اسی لیے حضرت علیؓ سے منسوب ایک نہایت بامعنی حکمت میں عقل کو سب سے بڑی دولت ، حماقت کو سب سے بڑی ناداری، خود پسندی کو سب سے بڑی تنہائی اور حسنِ اخلاق کو سب سے بڑی شرافت قرار دیا گیا ہے۔ یہ چند مختصر جملے دراصل انسانی زندگی کے لیے ایک مکمل اخلاقی دستور کی حیثیت رکھتے ہیں۔
دنیاوی دولت انسان کو سہولتیں فراہم کرتی ہے، مگر عقل اسے یہ سمجھنے کی صلاحیت دیتی ہے کہ ان سہولتوں کو کہاں اور کیسے استعمال کرنا ہے۔ دولت مند شخص اگر عقل سے محروم ہو تو اپنی دولت ضائع کر سکتا ہے ، جبکہ ایک صاحبِ عقل انسان محدود وسائل میں بھی اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔
عقل انسان کو اچھے اور برے، حق اور باطل، فائدے اور نقصان کے درمیان فرق کرنا سکھاتی ہے۔ عقل کا مطلب محض ذہانت نہیں۔ بہت سے لوگ ذہین ہوتے ہیں، مگر دانا نہیں ہوتے۔ ذہانت مسائل حل کرنے کی صلاحیت ہے، جبکہ عقل یہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے کہ کون سا مسئلہ حل کرنا ضروری ہے اور کون سا مسئلہ پیدا ہی نہیں کرنا چاہیے۔ یہی فرق انسان کو محض ہوشیار سے صاحبِ حکمت بناتا ہے۔
اس کے مقابلے میں حماقت حقیقی ناداری ہے۔ احمق کے پاس دولت ہو تو وہ اسے برباد کر سکتا ہے۔ علم ہو تو اس کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔ اختیار ہو تو اپنے لیے دشمن پیدا کر سکتا ہے اور اچھے تعلقات ہوں تو اپنی نادانی سے انہیں بھی کھو سکتا ہے۔ اس لیے اصل امیری جیب کا بھرا ہونا نہیں، ذہن کا روشن ہونا ہے۔ انسان کے اردگرد لوگوں کا ہجوم ہو اور پھر بھی وہ تنہا ہو، یہ ایک عجیب مگر عام انسانی کیفیت ہے۔ خود پسند شخص اپنی ذات کو مرکز سمجھتا ہے۔ اسے اپنی تعریف پسند ہوتی ہے، اپنی غلطی تسلیم کرنا مشکل لگتا ہے اور دوسروں کی خوبی دیکھ کر خوش ہونے کے بجائے اسے اپنی برتری خطرے میں محسوس ہونے لگتی ہے۔
خود پسندی آہستہ آہستہ انسان اور معاشرے کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔ لوگ اس سے نفرت کریں یا نہ کریں، اس سے فاصلے ضرور اختیار کرنے لگتے ہیں۔ یوں وہ شخص جو خود کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے، بالآخر لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ کھو دیتا ہے۔ اس کے برعکس عاجزی انسان کو کمزور نہیں بناتی بلکہ اسے مضبوط بناتی ہے۔ عاجزی کا مطلب خود کو بے قدر سمجھنا نہیں، بلکہ اپنی خوبیوں کے ساتھ اپنی کمزوریوں کو بھی تسلیم کرنا ہے۔ جو شخص اپنی غلطی مان سکتا ہے، وہ اپنی اصلاح بھی کر سکتا ہے؛ اور جو اپنی اصلاح کر سکتا ہے، وہ زندگی میں آگے بڑھ سکتا ہے۔
انسان کا خاندان، نسب، دولت اور منصب اسے معاشرے میں ایک مقام دے سکتے ہیں، مگر لوگوں کے دل میں جگہ حسنِ اخلاق سے بنتی ہے۔ ایک بدخلق انسان بڑے عہدے پر بیٹھ کر بھی لوگوں کے دلوں میں عزت پیدا نہیں کر سکتا، جب کہ ایک خوش اخلاق انسان معمولی حیثیت میں رہ کر بھی دوسروں کے لیے محبوب بن جاتا ہے۔ حسنِ اخلاق صرف میٹھی زبان کا نام نہیں۔ یہ برداشت، درگزر، نرم مزاجی، سچائی، ایثار، احترام اور دوسروں کے دکھ کو محسوس کرنے کا نام ہے۔ کسی کمزور کے ساتھ ہمارا رویہ، کسی ماتحت سے ہماری گفتگو اور کسی اختلاف رکھنے والے شخص کے ساتھ ہمارا برتا ہمارے اصل کردار کی گواہی دیتا ہے۔
انسان کی اصل شرافت اس وقت سامنے آتی ہے جب اسے کسی ایسے شخص سے معاملہ کرنا پڑے جس سے اسے کوئی فائدہ نہ ہو۔ حضرت علیؓ سے منسوب اس حکمت کا ایک نہایت اہم حصہ دوستوں کے انتخاب سے متعلق ہے۔ انسان اپنے ماحول سے متاثر ہوتا ہے۔ اچھی صحبت انسان کے اندر اچھی عادتیں پیدا کرتی ہے اور بری صحبت رفتہ رفتہ برائی کو معمول بنا دیتی ہے۔ اسی لیے احمق کی دوستی سے بچنے کی نصیحت کی گئی ہے۔ احمق شخص ضروری نہیں کہ بدنیت ہو۔ وہ کبھی خیرخواہ بھی ہو سکتا ہے، مگر اس کی نادانی اس کی نیک نیتی کو بھی نقصان میں بدل سکتی ہے۔ وہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے گا، مگر غلط فیصلہ کرکے نقصان پہنچا دے گا۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ صرف اچھی نیت کافی نہیں؛ نیت کے ساتھ بصیرت بھی ضروری ہے۔ اسی طرح بخیل کی دوستی سے پرہیز کا حکم دیا گیا ہے۔ دوستی کا اصل امتحان خوشی میں نہیں بلکہ مشکل وقت میں ہوتا ہے۔ جو شخص آسودگی کے دنوں میں قریب رہے لیکن ضرورت کے وقت پیچھے ہٹ جائے، وہ حقیقی رفیق نہیں۔ بخیل صرف مال کا بخیل نہیں ہوتا؛ بعض لوگ وقت، توجہ، محبت اور تعاون میں بھی بخیل ہوتے ہیں۔ اس کے بعد بدکار کی صحبت سے بچنے کی تاکید ملتی ہے۔ انسان اکثر سمجھتا ہے کہ وہ برے شخص کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اپنی اصلاح برقرار رکھ سکتا ہے، مگر صحبت کا اثر خاموشی سے شخصیت میں داخل ہوتا رہتا ہے۔ پہلے برائی عجیب لگتی ہی، پھر معمول بن جاتی ہے اور آخرکار انسان اسے برائی سمجھنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ اسی لیے بری صحبت سے بچنا دراصل اپنے کردار کی حفاظت کرنا ہے۔
آخر میں جھوٹے شخص کی دوستی سے بچنے کی نصیحت سامنے آتی ہے۔ جھوٹا شخص سراب کی مانند ہوتا ہے حقیقت کو اس طرح بدل کر پیش کرتا ہے کہ انسان کو دور نزدیک اور نزدیک دور دکھائی دینے لگتا ہے۔ جھوٹ اعتماد کو کھا جاتا ہے اور اعتماد کے بغیر کوئی مضبوط تعلق قائم نہیں رہ سکتا۔ آج کے دور میں یہ نصیحت پہلے سے کہیں زیادہ اہم اختیار کر گئی ہے۔ سوشل میڈیا نے صحبت کا دائرہ بہت وسیع کر دیا ہے۔ اب انسان صرف اپنے محلے یا شہر کے لوگوں سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ دنیا بھر کے افراد اس کی سوچ اور رویے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہر مقبول شخص قابلِ تقلید نہیں، ہر خوب صورت بات درست نہیں اور ہر پُراعتماد لہجہ سچائی کی ضمانت نہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم لوگوں کو ان کے الفاظ سے زیادہ ان کے کردار سے پہچانیں۔ آج کے انسان کے لیے پیغامان نصیحتوں کا دائرہ صرف فرد تک محدود نہیں۔ یہ خاندان، معاشرے اور تعلیمی اداروں کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ اگر ہم بچوں کو صرف کامیابی حاصل کرنا سکھائیں گے مگر یہ نہیں سکھائیں گے کہ کامیابی کو صحیح مقصد کے لیے کیسے استعمال کرنا ہے، تو ہماری تعلیم ادھوری رہے گی۔ ہمیں نئی نسل کو یہ سمجھانا ہوگا کہ عقل صرف امتحان میں اچھے نمبر لینے کا نام نہیں۔ عقل یہ بھی ہے کہ انسان دوست کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرے، غصے میں فیصلہ نہ کرے، اپنی غلطی تسلیم کرے، دوسروں کی عزت کرے اور وقتی فائدے کے لیے اپنے کردار کا سودا نہ کرے۔آخرکار انسان کی زندگی اس کے فیصلوں اور تعلقات سے بنتی ہے۔ عقل اسے درست راستہ دکھاتی ہے، حسنِ اخلاق اسے لوگوں کے دلوں تک پہنچاتا ہے، عاجزی اسے انسان بنائے رکھتی ہے اور اچھی صحبت اسے راستے پر قائم رکھتی ہے۔مولا علیؓ سے منسوب یہ حکمت ہمیں ایک ایسا آئینہ فراہم کرتی ہے جس میں ہم اپنی ذات کو دیکھ سکتے ہیں۔ اگر ہمارے پاس دولت ہے تو دیکھیں کہ کیا ہمارے پاس عقل بھی ہے؛ اگر لوگ ہمارے گرد ہیں تو دیکھیں کہ کیا ہم خود پسندی کا شکار تو نہیں؛ اگر ہمارے پاس عزت ہے تو دیکھیں کہ کیا ہمارا اخلاق اس عزت کے قابل بھی ہے؛ اور اگر ہمارے دوست بہت ہیں تو دیکھیں کہ ان کی صحبت ہمیں بہتر بنا رہی ہے یا بدتر۔
حقیقی کامیابی یہی ہے کہ انسان کے پاس عقل کی روشنی، اخلاق کی خوشبو، عاجزی کی خوب صورتی اور اچھی صحبت کا سرمایہ ہو۔ دولت چھن سکتی ہے، منصب بدل سکتا ہے، شہرت ماند پڑ سکتی ہے، مگر عقل اور کردار انسان کے ساتھ رہیں تو وہ کم وسائل میں بھی بڑا انسان بن سکتا ہے۔ اصل دولت عقل ہے، اصل شرافت اخلاق ہے، اصل طاقت کردار ہے اور اصل سرمایہ اچھی صحبت ہے۔ یہی وہ دولتیں ہیں جو انسان کو دنیا میں بھی باوقار بناتی ہیں اور اس کی زندگی کو معنویت بھی عطا کرتی ہیں

جواب دیں

Back to top button