Column

پٹرول بم پھر برس پڑا، مہنگائی کے مارے عوام پر ایک اور وار

پٹرول بم پھر برس پڑا، مہنگائی کے مارے عوام پر ایک اور وار
تحریر : غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان میں مہنگائی کے ستائے عوام ابھی پچھلے معاشی جھٹکوں سے سنبھل بھی نہیں پاتے کہ ایک نیا وار ان کے دروازے پر دستک دے دیتا ہے۔ کبھی بجلی کے بلوں میں اضافہ، کبھی گیس کے نرخ بڑھنے کی خبر، کبھی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بے قابو اضافہ اور اب ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عام آدمی کی زندگی کو مسلسل ایسے معاشی امتحان سے گزارا جا رہا ہے جس کا کوئی اختتام دکھائی نہیں دیتا۔
پٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے اثرات پورے معاشی نظام میں پھیل جاتے ہیں۔ ایک طرف موٹر سائیکل اور گاڑی چلانے والے شہری کا ماہانہ بجٹ متاثر ہوتا ہے تو دوسری طرف ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔ مال برداری مہنگی ہوتی ہے تو بازار میں آنے والی اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ یوں پیٹرول کی قیمت میں ہونے والا ایک اضافہ بالآخر غریب کے باورچی خانے تک پہنچتا ہے۔
پاکستان کا متوسط اور غریب طبقہ پہلے ہی شدید معاشی دبائو میں ہے۔ محدود آمدنی رکھنے والا شخص اپنی تنخواہ کا بڑا حصہ گھر کے راشن، بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بل، کرایے اور علاج معالجے پر خرچ کرتا ہے۔ ایسے میں اگر سفر کے اخراجات بھی بڑھ جائیں تو اس کے پاس بچتا ہی کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے محض ایک اقتصادی خبر نہیں بلکہ گھر کے ماہانہ بجٹ میں ایک نئے بحران کا آغاز ہوتا ہے۔
حکومت کی جانب سے عموماً قیمتوں میں اضافے کی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، روپے کی قدر، درآمدی اخراجات اور دیگر معاشی عوامل اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن عام شہری کا سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ہر معاشی مشکل کا بوجھ اسی کی جیب پر کیوں ڈالا جاتا ہے؟۔
اگر عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوجائے تو عوام کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، اگر ملکی کرنسی دبائو میں آئے تو پٹرول مہنگا ہوجاتا ہے، اگر حکومت کو آمدنی بڑھانی ہو تو پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس بڑھ جاتا ہے اور اگر معیشت مشکل میں ہو تو عوام سے مزید قربانی مانگی جاتی ہے۔ پھر یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ ریاستی نظام میں عام آدمی کے لیے ریلیف کی گنجائش کہاں ہے؟۔
ایک مزدور جو روزانہ موٹر سائیکل پر کئی کلومیٹر سفر کرکے اپنے کام کی جگہ پہنچتا ہے، اس کے لیے پٹرول کی قیمت میں اضافہ براہ راست اس کی آمدنی میں کمی کے مترادف ہے۔ وہ شخص جو ماہانہ محدود تنخواہ حاصل کرتا ہے، اسے سفر کے بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کرنے کے لیے گھر کے کسی دوسرے خرچ میں کمی کرنا پڑتی ہے۔ کبھی بچوں کے لیے دودھ کم ہوجاتا ہے، کبھی گوشت خریدنا مشکل ہوجاتا ہے، کبھی بچوں کی تعلیمی ضروریات موخر ہوتی ہیں اور کبھی علاج تک ملتوی کرنا پڑتا ہے۔
یہی صورتحال کسان کی بھی ہے۔ زرعی مشینری، ٹریکٹر، ٹیوب ویل، فصل کی ترسیل اور زرعی پیداوار کی منڈی تک منتقلی میں ایندھن بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو کسان کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اس اضافی لاگت کا اثر بالآخر صارف تک پہنچتا ہے۔ یوں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کسان اور صارف دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
ٹرانسپورٹر بھی اپنے بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کرنے کے لیے کرایوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اگر بس کا کرایہ بڑھتا ہے تو روزانہ سفر کرنے والے مزدور اور ملازم کا خرچ بڑھتا ہے۔ اگر مال برداری مہنگی ہوتی ہے تو دکاندار کے اخراجات بڑھتے ہیں اور دکاندار وہ بوجھ صارف پر منتقل کرتا ہے۔ اس طرح پیٹرول کا ایک قطرہ مہنگا ہونے کے ساتھ مہنگائی کی ایک پوری زنجیر حرکت میں آجاتی ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشی فیصلوں میں عام آدمی کی قوت خرید کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کسی چیز کی قیمت بڑھانے سے پہلے یہ دیکھا جانا چاہیے کہ اس کا اثر ایک کم آمدنی والے خاندان پر کتنا پڑے گا۔ اگر ایک شخص کی آمدنی میں اضافہ چند فیصد ہو اور اس کے بنیادی اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوجائے تو اعداد و شمار چاہے کچھ بھی کہیں، اس کی حقیقی زندگی میں غربت اور مشکلات ہی بڑھتی ہیں۔
حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں اور دیگر محصولات کا مجموعی بوجھ کتنا ہے۔ اگر ریاست کو مالی وسائل درکار ہیں تو ٹیکس نظام کو وسیع کیا جائے، ٹیکس چوری روکی جائے اور ایسے شعبوں سے مناسب محصولات وصول کیے جائیں جو قومی خزانے میں اپنی صلاحیت کے مطابق حصہ نہیں ڈال رہے۔ صرف پٹرولیم مصنوعات کو آمدنی کا آسان ذریعہ بنانا ایک ایسی پالیسی ہے جس کا بوجھ بالآخر پورے معاشرے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان کو طویل مدت میں درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہوگا۔ مقامی توانائی کے وسائل، شمسی توانائی، ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی اور دیگر متبادل ذرائع کو فروغ دئیے بغیر ہم عالمی منڈی کے رحم و کرم پر رہیں گے۔ جب تک ہماری توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ بیرونی ذرائع سے پورا ہوتا رہے گا، عالمی بحران کا اثر پاکستان کے بازار اور عام شہری کی جیب تک پہنچتا رہے گا۔
حکومت اگر واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے صرف بیانات اور وقتی اقدامات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ عوام کو سستی اور قابل اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ، توانائی کے متبادل ذرائع، روزگار کے بہتر مواقع اور قیمتوں پر مثر نگرانی کی ضرورت ہے۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ عالمی حالات خراب ہیں۔ حکومت کا اصل امتحان یہی ہے کہ مشکل عالمی حالات میں اپنے شہریوں کو کس حد تک تحفظ فراہم کرتی ہے۔
آج پاکستان کا عام شہری یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ آخر قربانی ہمیشہ عوام ہی کیوں دیں؟ حکمران طبقہ اپنی مراعات کم کرنے کے لیے تیار کیوں نہیں؟ سرکاری اخراجات میں غیر ضروری کمی کیوں نہیں کی جاتی؟ ٹیکس چوری کے خلاف سخت کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ معیشت کا بوجھ صرف ان لوگوں پر کیوں ڈالا جاتا ہے جو پہلے ہی اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں؟
عوام نے ہر مشکل وقت میں ریاست کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے مہنگائی برداشت کی، بجلی کے بھاری بل ادا کیے، ٹیکس دئیے اور اپنی ضروریات محدود کیں، مگر صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں صرف جیب خالی نہیں کرتیں بلکہ انسان کے اندر مستقبل کے حوالے سے خوف اور بے یقینی بھی پیدا کرتی ہیں۔
پٹرول بم ایک مرتبہ پھر برس پڑا ہے، مگر اس بار بھی اصل سوال قیمت بڑھنے کا نہیں بلکہ اس نظام کا ہے جو عوام کو مسلسل قربانی دینے پر مجبور کرتا ہے۔ ملک کی معیشت صرف سرکاری خزانے کے اعداد و شمار سے مضبوط نہیں ہوتی، بلکہ اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب عام شہری کی قوت خرید بہتر ہو، مزدور خوشحال ہو، کسان اپنی فصل کا مناسب معاوضہ حاصل کرے، نوجوان کو روزگار ملے اور متوسط طبقہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔
حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ عوام کو صرف اعداد و شمار میں دیکھتی ہے یا انسان بھی سمجھتی ہے۔ کیونکہ پٹرول کی قیمت بڑھنے سے صرف ایک عدد نہیں بڑھتا، ایک غریب گھر کا ماہانہ خرچ بڑھتا ہے، ایک مزدور کی مشکل بڑھتی ہے، ایک کسان کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے اور ایک متوسط خاندان کے خواب مزید محدود ہوجاتے ہیں۔
اگر معاشی پالیسی کا مقصد عوام کی زندگی آسان بنانا ہے تو پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ہر فیصلے کے ساتھ عام آدمی کے لیے ریلیف کا موثر منصوبہ بھی ہونا چاہیے۔ ورنہ پیٹرول بم کے بعد مہنگائی کی جو لہر اٹھے گی، اس کی زد میں سب سے پہلے وہی طبقہ آئے گا جو پہلے ہی کئی برسوں سے معاشی بحران کا سب سے بڑا بوجھ اٹھا رہا ہے۔
عوام کو قربانی کے نام پر مزید آزمائش نہیں، اب انہیں ریلیف، انصاف اور بہتر حکمرانی چاہیے۔ کیونکہ قومیں صرف یہ کہہ کر آگے نہیں بڑھتیں کہ مشکل وقت ہے، قومیں اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب مشکل وقت میں ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button