
فرانس، جرمنی، برطانیہ اور امریکا نے ایران کے جوہری معاملے پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں رپورٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی نے ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کو بتایا ہے کہ ایران نے حالیہ رپورٹنگ کی مدت کے دوران اپنے اعلان کردہ جوہری مواد اور تنصیبات کی صورتِ حال سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کیں، جبکہ معائنہ کاروں کو بھی جوہری تنصیبات میں موقع پر جا کر تصدیق کرنے کی اجازت نہیں ملی۔
رافائل گروسی کے مطابق جون 2025ء میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والی تنصیبات میں موجود 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم کے ذخیرے سے متعلق آئی اے ای اے کا معلوماتی تسلسل 1 سال سے زائد عرصے سے متاثر ہے
گروسی نے معلومات اور رسائی کی کمی کو جوہری پھیلاؤ کے حوالے سے تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتِ حال کو فوری طور پر درست کرنے کی ضرورت ہے اور ایران کو آئی اے ای اے کے ساتھ مؤثر تعاون بحال کرنا چاہیے۔
رائٹرز کے مطابق چاروں مغربی ممالک آئی اے ای اے کے 35 رکنی بورڈ سے ایک قرارداد کی منظوری کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے تحت ایران کا معاملہ تقریباً دو دہائیوں بعد دوبارہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجا جا سکے گا۔







