حادثہ ایک دم نہیں ہوتا!!

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا!!
تحریر : محمد مبشر انوار (ریاض)
پاکستانی ریاستی نظام کس قدر فرسودہ و ناکارہ ہو چکا ہے، اس کا اندازہ سب کو بخوبی ہے حتی کہ ارباب اختیار، جنہیں اس نظام کو سنبھالنا تھا، اس کو سنوارانا تھا، اس کو بہتر بنانا تھا، اس رنگ میں اس حد تک رنگے جا چکے ہیں کہ اس کرپشن کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ندامت تک محسوس نہیں ہوتی ۔قارئین کو یاد ہو گا کہ گزشتہ دنوں وزیر دفاع خواجہ آصف، جو بذات خود اس کرپٹ نظام کے تحت فارم 47کے کرشمہ سے رکن اسمبلی منتخب ہیں، ایک ٹرانسفارمر لگوانے کے لئے، رشوت دینے کا اعتراف کر چکے ہیں۔ وفاقی وزیر کی جانب سے اس اعتراف کے بعد، موصوف کو کیا کہا جائے یا کیا پوچھا جائے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ اشرافیہ کی نااہلی اس واقعے سے پوری طرح عیاں ہوتی ہے کہ جس کام کے لئے انہیں منتخب، صد افسوس کہ اب یہ لفظ لکھتے ہوئے شرمندگی ہوتی ہے کہ جس طرح خواجہ آصف بذات خود اپنی رکنیت کے متعلق اعتراف کر چکے ہیں، اس کے بعد انہیں منتخب لکھنا کاروارد ہے مگر کیا کیا جائے کہ ایوان نمائندگان میں موجود ہیں، ان کا کام پالیسیاں بنانا ہے، ایک طریقہ کار وضع کرنا ہے، جس کے مطابق ان کے زیر انتظام تمام محکمے، ان قوانین کے تحت اپنے فرائض سر انجام دیں اور عوامی فلاح کے لئے بروئے کار آئیں۔ بدقسمتی سے پالیسیاں بنانے کی بجائے یہ ایسے امور میں دلچسپی لیتے ہیں کہ جس سے صرف ان کی رکنیت دائمی ہو سکے اور اپنے آقاؤں کے حکم کی بجا آوری میں بغیر دیکھے،بغیر پڑھے جو بھی آئینی ترمیم یا قانون ان کے سامنے رکھا جاتا ہے،اسے من و عن گھنٹوں کے اندر منظور کرکے،آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنے میں سبقت لینے کی کوشش کرتے ہیں الگ بات کہ آقائوں کی تبدیلی کے بعد،ان کے کرتوت عوام کے سامنے رکھنے سے بھی گریز نہیں کرتے،بعید نہیں کہ مستقبل میں بھی ان کی اس عادت سے موجودہ آقا بھی مستفید ہوں گے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ،شعبہ صحت صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے جبکہ شنید ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں وفاقی حکومت کے زیر انتظام دو ہسپتالوں کے لئے ایک مکمل وفاقی وزیر صحت مقرر ہیں اور حالت یہ ہے کہ ان سے یہ دو ہسپتال بھی سنبھالے نہیں جاتے،جس میں ان کی مجبوریوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پمز ہسپتال ،جاپان کی جانب سے حکومت پاکستان کو بنا کر دیا گیا تھا اور اس کا انتظام و انصرام وفاقی حکومت کے ذمہ ہے،جہاں عوام الناس کو طبی سہولتوں کی غرض سے آنا پڑتا ہے البتہ اس ہسپتال کی حالت زار بارہا میڈیا کی زینت بن چکی ہے اور واقفان حال کے مطابق یہ ہسپتال کرپشن کی آماجگاہ ہے۔ یہاں کا انتظام اس قدر ناکارہ ہے کہ چند سال پہلے اس ہسپتال سے نومولود بچوں کی چوریاں تک میڈیا کی زینت بن چکی ہیں جبکہ حال ہی میں جب سابق وزیر اعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم ملا تو حکومتی مفادات کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے،عمران خان کو چیک اپ کے لئے اس ہسپتال میں لایا گیا۔ بعد ازاں عمران خان کے چیک اپ کے لئے،امراض دل کے حوالے سے متعلقہ مشین ہی ناکارہ ہونے کی رپورٹ وزیر اعظم کو بھجوائی گئی،جس پر حسب سابق وزیر اعظم نے فوری ’’ نوٹس‘‘ لیا لیکن ابھی تک کنفرم نہیں کہ متعلقہ مشین ٹھیک ہوئی یا نہیںالبتہ ہسپتال کے حوالے سے نئی خبر بلکہ دلخراش سانحہ وقوع پذیر ہو گیا ہے۔
پمز ہسپتال کے گائنی وارڈ میں گزشتہ دنوں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا،جس میں حکومتی اطلاع کے مطابق 14نومولود بچے ،پھول بننے سے قبل ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے جبکہ یہ خبریں بھی زیر گردش ہیں کہ شہید ہونے والے بچوں کی تعداد زیادہ ہے،صحیح تعداد کا ابھی تک علم نہیں ہو سکا،اور حالت یہ ہے کہ تادم تحریر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔نرسری میں موجود بچوں میں سے ایک کو یقینی طور پر بچے کی خالہ اپنی مدد آپ کے تحت بچانے میں کامیاب ہو گئی ہیں،جبکہ خبروں کے مطابق ، دیگر بچوں کے عزیز و اقارب کو ہسپتال کے عملے نے روک دیا،خبریں تو یہ بھی ہیں کہ ہسپتال میں ہنگامی صورتحال کے تدارک کے لئے ایمرجنسی راستے بھی بند ملے ہیں۔ علاوہ ازیں! یہ خبریں بھی اب حقیقت بن رہی ہیں کہ ہنگامی حالات سے نپٹنے کے لئے ،جو طے شدہ طریقہ کارہے،اس پر عرصہ دراز سے کسی نے نہ توجہ دی اور نہ اس کی پریکٹس کی گئی جبکہ جو آلات ایسی صورتحال میں فوری بچائو کر سکتے ہیں،وہ بھی نہ تو قابل عمل تھے اور نہ ہی عرصہ دراز سے ان کو چیک کیا گیا تھا،ہر چیز اللہ توکل رکھی کئی تھی یا اس آس پر کہ ایسا کوئی سانحہ ہی نہیں ہو گا۔ سانحہ کے بعد پھر وہی بیانات کا تسلسل مگر عملا کارروائی تاحال صفر ماسوائے وزیر صحت کا اس سانحہ کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعتراف لیکن کیا یہ اعتراف کافی ہے؟ کیا وزیر صحت کا استعفیٰ شہید بچوں کی جانوں کا مداوا ہو سکتا ہے؟ صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومتی ذمہ داری ہے لیکن جو حالت زار پمز ہسپتال یا دیگر ہسپتالوں کی ہے،حکومت اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآء ہو رہی ہے؟بدقسمتی سے اس کا جواب نفی میں ہے اور نہ صرف وفاقی حکومت بلکہ صوبائی حکومتوں کی حالت بھی کم و بیش یہی ہے کہ کراچی کے این آئی سی ایچ کے متعلق بھی یہی انکشافات سامنے آئے ہیں کہ اس ادارے میں بھی ہنگامی صورتحال سے نپٹنے کے لئے اقدامات نہیں کئے گئے ،عملے کو مناسب تربیت عرصہ دراز سے نہیں دی گئی اور بالخصوص فائر الارم سسٹم کو بھی چیک نہیں کیا گیا مراد آتشزدگی سے نپٹنے کے لئے کسی قسم کی کوئی ڈرل نہیں کی گئی۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پمز ہسپتال کا دورہ بھی کیا ہے،اور ذمہ داران کا تعین کرکے ان کو قرارواقعی سزا دینے کا اعلان بھی کیا ہے اور اس کے ساتھ فوری طور پر وزیر صحت کے استعفی کا مطالبہ بھی داغ دیا ہے۔ ایسے معاملات کا مستقلا حل نکالنے کی بجائے، سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرتے ہوئے،فوری طور پر مخالف وزیر کے استعفیٰ کا مطالبہ تو کیا جاتا ہے مگر ان وجوہات پر غور نہیں کیا جاتا کہ جن کے باعث ایسا سانحہ رونما ہوتا ہے۔ اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہئے کہ متعلقہ محکمے اپنی کارکردگی پر توجہ دیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ متعلقہ محکموں کی جانب سے بارہا یاددہانیوں کے باوجود ہسپتال انتظامیہ نے ان پر کان نہیں دھرا،سوال یہ ہے کہ کیا اس کے جواب میں کوئی تادیبی کارروائی بھی کی گئی یا نہیں؟اس کا جواب بھی واضح ہے کہ اگر ہسپتال کی جانب سے ایسی یاددہانیوں پر کان نہ دھرنے کی کارروائی ہوتی تو یہ سانحہ رونما ہی نہ ہوتا اور ہسپتال انتظامیہ کی نااہلی،بدانتظامی اور لاپرواہی پر انہیں بروقت کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا اور معاملات اس حد تک نہ جاتے۔ حد تو یہ ہے کہ سیکورٹی معاملات کومدنظر رکھتے ہوئے،ہسپتال کے کئے دروازے بھی بند تھے کہ جہاں سے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بروقت ہسپتال تک اور وقوعہ تک پہنچ سکتی لیکن بدقسمتی سے وہ راستی ہنگامی صورتحال کے باوجود نہیں کھولے گئے اور حالات کی سنگینی کا ادراک نہیں کیا گیا۔
یہاں یہ امر بر محل ہے کہ اگر ملک میں ایک دستور،ایک قانون ہوتا تب بھی ممکن تھا کہ ایسا سانحہ رونما نہ ہوتا کہ اس ملک میں جب اشرافیہ خود لاقانونیت کی سرپرستی کرتی ہو،خود غیر قانونی طریقے سے اقتدار میں موجود ہو،تب اس حکومت کے ماتحت محکموں میں موجود اہلکاروں کو بھی کسی قانون کی کوئی پرواہ نہیں اور وہ بھی اپنے حکمرانوں کے نقش قدم پر چلنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ اصولا ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جب ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ،متعلقہ محکموں کی یاددہانیوں کے باوجود طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تھا تو نہ صرف ہسپتال انتظامیہ پر قانون کے مطابق کارروائی ہوتی بلکہ کسی وزیر ،مشیر یا طاقتور کو اس کارروائی کی راہ میں رکاوٹ بھی نہیں بننا چاہئے تھا لیکن حکومت کی مجرمانہ خاموشی کہیں یا مجبوری،بے بسی کہیں یا کمزوری،حقیقت یہی ہے کہ متعلقہ محکمے ہسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر رہے۔ اس حوالے سے معروف صحافی حام میر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصطفی کمال کو وزیر صحت کا حلف لیتے ہوئے ہی یہ باور کروادیا گیا تھا کہ پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے متعلق آپ کوئی اقدام نہیں کریں گے جبکہ سیکرٹری صحت،جسے فوری طور پر وزیر اعظم نے معطل کر دیا ہے،کو مصطفیٰ کمال ہی اس وزارت میں لائے تھے۔ وزیر اعظم کا اختیار بھی صرف سیکرٹری صحت تک ہے اور وہ بھی پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے قاصر ہیں،یہاں سے قارئین سمجھ سکتے ہیں کہ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے تعلقات اور پشت پناہی پر کون ہے، لہذا میں بھی اس کا ذکر کرنے سے گریز کرتا ہوں۔ بہرحال حقیقت یہ ہے کہ اس ساری تفصیل کا مطلب واضح ہے کہ پمز ہسپتال کا سانحہ کوئی ایک دن میں نہیں ہوا بلکہ اس کی پرورش وقت نے بڑی محنت سے کی ہے جس میں تمام متعلقین کا حصہ بقدر جثہ موجود ہے ۔







