انصاف، ڈیل یا حق!!

انصاف ، ڈیل یا حق!!
محمد مبشر انوار
معاشرے میں قانون کی بالادستی ہو تو بالعموم معاملات راست پر رہتے ہیں کہ ہر شخص یا گروہ کو قانون کا خوف لاحق رہتا ہے اور کوئی بھی ذمہ دار اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرتا اور اگر حالات پاکستان جیسے ہوں کہ جہاں طاقتوروں ، اشرافیہ اور مافیا، قانون کو پائوں کی جوتی سمجھے وہاں معاشرے میں بگاڑ کا ہونا لازم ہے۔ قانون کی بالادستی نہ ہونے کے باعث جہاں عام زندگی میں محرومیاں، ناانصافیاں عام ہیں وہاں سیاسی حوالے سے ان ناانصافیوں کا کوئی شمار ہی نہیں کہ سیاسی رواداری اس حد تک ناپید ہو رہی ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کے لئے زندگی اجیرن بنانے کا تیر بہدف نسخہ ہی ایک ہے کہ اپنے مخالفین کے گرد مقدمات کا گھیرا اتنا تنگ کر دو کہ وہ عدالتوں کے چکر سے ہی نہ نکل سکیں اور آپ کے لئے کوئی مشکل پیدا نہ کر سکیں۔ اس حوالے سے پاکستانی سیاسی تاریخ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اقتدار کی تاریخ انتہائی شرمناک ہے کہ جنرل ایوب کے دور سے سیاسی مخالفین پر ہونے والے مقدمات نے آج تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا، اس میں سب سے نمایاں نام اگر دیکھا جائے تو نواز شریف یا ن لیگ اس میں سرفہرست دکھائی دیتی ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی بے نظیر بھٹو کے دور میں اس کھیل میں نسبتا کم شامل دکھائی دیتی ہے جبکہ عمران خان کے دور میں بھی ایسی غیر قانونی مقدمہ بازی کا رجحان کم ہی رہا لیکن اس وقت بھی ن لیگ کا دور حکومت، خواہ ظاہری طور پر ہی ہے، اور اس میں بھی سیاسی مخالفین پر مقدمات کی بھرمار ہے اور طرہ یہ کہ عدالتوں میں شنوائی بھی نہیں ہوتی۔ سوال تو یہ ہے کہ اگر عدالتوں میں شنوائی ہو جائے تو ایسے بے بنیاد مقدمات چٹکی بجاتے فارغ ہو جائیں لیکن چونکہ مقصد سیاسی مخالفین کو اذیت پہنچانا ہے، لہذا عدالتوں کی طرف سے بھی، قانونی دائو پیچ استعمال کرتے ہوئے، مقدمات کی شنوائی نہیں ہوتی اور مخالفین اس عدالتی چکی میں بری طرح پستے رہتے ہیں۔ یہاں یہ امر واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ جس طرح عمران خان کے دور میں رانا ثناء اللہ کے خلاف طاقتوروں کی جانب سے مقدمات بنائے گئے تھے، بعینہ اسی طرح اس دور میں بھی سیاسی مخالفین پر مقدمات کی بھرمار کی جارہی ہے البتہ اس کا سہرا بہرحال سول حکومت پر ہی لگنا ہے لیکن ن لیگ کی اپنی منشاء بھی بہرحال اس میں ضرور شامل ہے کہ ن لیگ کی ہمیشہ یہی خواہش رہی ہے کہ سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے۔ ن لیگ کی قیادت کو یہ ہنر بخوبی سمجھ آ چکا ہے کہ جیسے ہی خود پر مصیبت پڑے تو کسی قسم کی مزاحمت کئے بغیر، طاقتوروں کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا جائے، دو چار سال کی خاموشی، جلا وطنی ( جو خیر اب تو آبائی وطن بن چکا ہے) گزار کر دوبارہ سے معاملات طے کر کے، اقتدار کا حصہ بنا جائے، اس صورت میں عدالتیں مفروری کے باوجود، بائیو میٹرکس سسٹم تک ائر پورٹ پہنچ جاتا ہے اور وہیں پر تمام عدالتی کارروائی بھی مکمل ہوجاتی ہے جبکہ مخالفین کے لئے ایسی کوئی سہولت نہ کبھی موجود تھی اور نہ ہوگی۔
گزشتہ ہفتے، عمران خان کے وکلاء اور تحریک انصاف کے اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کیا گیا تھا جس کا مقصد عمران خان کی صحت اور قید تنہائی کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت نہ ہونا تھا، البتہ رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے اس ہفتہ ان درخواستوں کو سماعت کے لئے مقرر کئے جانے کی یقین دہانی کے بعد، یہ احتجاج سلمان اکرم راجہ نے موخر کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے کئے گئے وعدے کے مطابق نہ صرف یہ درخواستیں سماعت کے لئے 18اگست 2026ء کو سماعت کے لئے مقرر ہوئی بلکہ سپریم کورٹ کی جانب سے ایک اہم ترین فیصلہ بھی سامنے آیا گو کہ حکومت کی جانب سے، نوٹس نہ کئے جانے کا اعتراض بھی کیا گیا لیکن اس کے باوجود سپر یم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا ۔ فیصلے کے متعلق بات بعد میں کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے دیگر احوال کا جائزہ لیتے ہیں، تحریک انصاف کے قائدین کے حوالے سے معاملات انتہائی سے زیادہ غبار آلود تھے اور عوام یہ سمجھنے اور سوچنے میں حق بجانب تھی کہ تحریک انصاف کی قیادت اور اراکین پارلیمنٹ کو ملنے والی عزت اور نمائندگی، عمران خان کی ذاتی مقبولیت کی مرہون منت ہے جبکہ قیادت اور اراکین اسمبلی عمران خان کی رہائی کے لئے وہ جدوجہد نہیں کر رہے ، جس کا وعدہ انہوں نے قوم سے کیا تھا۔ اس حوالے سے ان پر تنقید مسلسل بڑھ رہی تھی جبکہ دوسری طرف عمران خان کی بہنوں کی کاوشیں پوری قوم کے سامنے تھی کہ کس طرح وہ ملاقات کے دن، اڈیالہ جیل کے سامنے موجود ہوتی اور عدالتی حکم نامے کے باوجود، جیل انتظامیہ عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دیتی۔ عمران خان کی بہنوں کی جانب سے متعدد بار قیادت اور عوام سے اپیل کی گئی کہ ان کا ساتھ دینے کے لئے کم از کم دس ہزار کارکن اڈیالہ جیل کے باہر، ان کے ساتھ موجود ہوں لیکن ان کی ہر اپیل ناکام اور صدا بہ صحرا ثابت ہوئی جبکہ دوسری طرف پس پردہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری تھا کہ عمران خان نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو دے رکھا تھا۔ تحریک انصاف کی قیادت، اس کی آڑ میں چھپ رہی تھی یا مصلحت کا شکار تھی بہرحال وہ عمران خان کی رہائی کے لئے بھرپور طریقے سے سامنے نہیں آ رہی تھی ۔ عمران خان جیل میں قید تنہائی کی شدید اذیت جھیل رہے تھے اور ان کی صحت کے حوالے سے بھی تشویشناک خبریں سامنے آ رہی تھی، حد تو یہ ہے کہ وجاہت سعید کی جانب سے غیر مصدقہ اطلاع دلوائی گئی کہ خدانخواستہ عمران خان اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں کہ عوام کا ردعمل دیکھا جا سکے البتہ اتنا ضرور ہوا کہ نہ صرف تحریک انصاف بلکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اس خبر پر شدید ردعمل دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ عمران خان سے ملاقات کرائی جائے، گو کہ اس مطالبے کے باوجود، عمران خان کی فیملی و وکلاء سے ملاقات نہیں کروائی گئی۔
عمران خان ایک مضبوط اعصاب کے مالک شخص ہیں اور جیل جانے سے قبل ہی انہوں نے واضح کر دیا تھا کہ وہ کسی صورت طاقتوروں کے سامنے نہیں جھکیں گے اور نہ ہی کسی قسم کا سمجھوتہ کریں گے، اس کا مظاہرہ انہیں نے اپنی تین سالہ جیل میں بخوبی کیا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ عمران خان جس ملک میں رہتے ہیں، وہاں قوانین وہی ہیں، جو طاقتور طے کرتے ہیں، بصورت دیگر سیاسی قیدیوں کی حالت زار ساری دنیا بخوبی جانتی ہے کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہو سکتا ہے؟ طاقتوروں کی بات نہ ماننے کا جرم بذات خود اتنا بڑا ہے کہ خواہ سیاسی قیدی کا قد کاٹھ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اور وہ پاکستان کے ساتھ کتنا ہی مخلص کیوں نہ ہو، پاکستان کے لئے واقعتا کچھ کر گزرنے کا عزم ہی کیوں نہ رکھتا ہو،اس کا انجام ذوالفقار علی بھٹو جیسا ہی ہوگا ۔ جبکہ طاقتوروں کے سامنے سر جھکانے کا انجام ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ اگر سر جھکا دیا گیا ہے تو بے شک طاقتوروں کی جانب سے ’’ کراس‘‘ ہی کیوں نہ لگایا جا چکا ہوں، دوبارہ قرعہ فال نکل سکتا ہے اور پاکستانی اقتدار ان کے حوالے ہو سکتا ہے خواہ کرپشن کے ناقابل تردید ثبوت بھی طاقتوروں کی جانب سے مہیا کئے جا چکے ہوں۔ عمران خان کو قید تو کر لیا گیا مگر اس کو توڑنے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، ہر طرح کا ستم جو ڈھایا جا سکتا تھا، عمران خان پر ڈھایا گیا لیکن چونکہ عمران خان ایک سیاسی قیدی ہے، اس لئے توقع تو نہیں کہ اس پر جسمانی تشدد کیا گیا ہو گا مگر اس حوالے سے بھی کچھ غیر مصدقہ خبریں ضرور نکلی تھی کہ عمران خان پر تشدد کیا گیا ہے، جس کا گمان عمران خان کی گرفتاری کے وقت کی ویڈیو سے بھی ہوتا ہے جب ایک اہلکار نے اس کے سر پر بازو سے ضرب لگائی تھی، کسی کے معتوب ہوتے ہی، اہلکاروں سے کچھ بھی بعید ہے۔ بہرحال پاکستان میں سیاسی قیدیوں کے لئے رہائی کی کنجی، ہمیشہ سے ان کی اپنی جیب میں ہوتی ہے کہ وہ جب چاہیں ’’ سمجھوتہ‘‘ کر کے رہائی پا سکتے ہیں، بھٹو اور عمران خان جیسے پرعزم خال ہی پاکستانی افق سیاست پر نمودار ہوتے ہیں، جن کے متعلق بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وہ سلیبس سے باہر ہیں۔ سپریم کورٹ کے معزز بینچ نے ایک طرف عمران خان کو بغرض علاج ، عمران خان کی فیملی کے تجویز کردہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے احکامات دئیے ہیں اور ساتھ ہی ڈاکٹرز کا بورڈ تشکیل دینے کا حکم بھی صادر کر دیا ہے جس میں عمران خان کی بہن عظمیٰ خانم اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو بھی شامل کر دیا ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف سے یہ ضمانت بھی طلب کر لی ہے کہ تحریک انصاف عمران خان کی بیماری کو سیاست کے لئے استعمال نہیں کرے گی اور نہ ہی عمران خان کی طبی رپورٹس کو عام کیا جائیگا، ہسپتال کے باہر تحریک انصاف کے کارکن جمع نہیں ہونگے اور نہ ہی کوئی جلسہ و جلوس کیا جائیگا۔ تحریک انصاف کی جانب سے سلمان اکرم راجہ نے عمران خان کی صحت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے، ان احکامات کی پیروی کی ضمانت دی ہے گو کہ حکومت کی جانب سے اعتراض کیا گیا تھا کہ عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں کے بعد بھی سیاسی پیغامات باہر آتے رہے، جو بقول حکومت خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں جبکہ ایک سیاسی قیدی ، ملک کا مقبول رہنما اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد سے ملاقات کے بعد، سیاسی بیانیہ یا سیاسی بیان باہر نہیں آئے گا تو کیا پیغام آئیگا؟ بہرحال عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا حکم ،اتنی پابندیوں کے ساتھ، اگر غیر جانبدارانہ دیکھا جائے تو اس میں نہ تو مقدمات میں انصاف دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی کسی ڈیل کا تاثر ابھرتا ہے بلکہ یہ وہ حق ہے جو ہر قیدی کو میسر ہوتا ہے، البتہ ہر کسی کو ملتا نہیں، جو انسانی حقوق کے تحت ملنا چاہئے۔







