Column

جشن آزادی اور ہماری قومی ایمانداری

جشن آزادی اور ہماری قومی ایمانداری
شکیل امجد صادق
14 اگست گزر گیا ، مگر گلیاں اب بھی جھنڈیوں سے سجی ہیں، گھروں پر سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں، گاڑیوں کے شیشوں پر ’’ پاکستان زندہ باد‘‘ لکھا ہے، موٹر سائیکلوں پر سبز رنگ کی پٹیاں بندھی ہیں، بچے ملی نغموں پر اچھل رہے ہیں اور بڑے اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آزادی ہم نے حاصل کی ہے یا صرف چھٹی حاصل کی ہے۔
آزادی کا جشن منانا بری بات نہیں، بلکہ زندہ قوموں کی علامت ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم نے آزادی کا مفہوم بھی اپنی سہولت کے مطابق طے کر لیا ہے۔ ہمارے نزدیک آزادی کا مطلب ہے کہ قانون ہمیں نہ پکڑے، ٹریفک پولیس ہمیں نہ روکے، دکاندار ہمیں نہ لوٹے، سرکاری دفتر میں ہمارا کام سفارش کے بغیر نہ ہو، اور اگر کوئی ہمیں ہمارے فرائض یاد دلائے تو ہم فوراً پوچھیں:
’’ آپ کو کس نے حق دیا ہے؟ ہم آزاد ملک کے شہری ہیں!‘‘
یعنی آزادی ہمارے لیے ذمہ داری سے آزادی کا دوسرا نام بن چکی ہے۔
ہم عجیب آزاد قوم ہیں۔ پچاس روپے کا جوس خرید کر ڈبہ اس وقت تک نہیں پھینکتے جب تک آخری قطرہ بھی نہ نکل آئے، لیکن قومی خزانے سے نکلنے والے پچاس لاکھ کو ایسے بھول جاتے ہیں جیسے وہ کسی اور ملک کا پیسہ ہو۔ گھر میں بجلی کا ایک بلب جلتا رہ جائے تو فوراً سوئچ بند کر دیتے ہیں، مگر سرکاری دفتر میں پنکھے، اے سی، کمپیوٹر اور گاڑی چلتی رہے تو کہتے ہیں:
’’ سرکاری ہے، ہمارا کیا جاتا ہے!‘‘
ہمیں جشنِ آزادی مبارک!
ہم وہ قوم ہیں جو اپنے گھر کا گلاس زنجیر سے باندھ کر رکھتی ہے۔ واٹر کولر کے پاس لکھا ہوتا ہے: ’’ پانی پی کر گلاس واپس رکھیں‘‘، مگر ہم گلاس واپس رکھنے کو قومی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے اسے ذاتی آزادی کی توہین سمجھتے ہیں۔ جہاں زنجیر نہ ہو وہاں گلاس بھی نہیں ہوتا۔ اور جہاں گلاس ہو وہاں زنجیر ضرور ہوتی ہے۔
ہمیں جشنِ آزادی مبارک!
ہم نے کرپشن کو بھی بڑی خوبصورتی سے ’’ چالاکی‘‘ کا نام دے دیا ہے۔ ٹرالی میں تین سو اینٹیں ہوں تو چار سو کا بل بنتا ہے۔ نالی کی صفائی اوپر اوپر سے ہوتی ہے مگر مزدوری پوری۔ سڑک بنتی ہے تو اگلی بارش اسے لے جاتی ہے۔ پھلوں کی ریڑھی پر اوپر تازہ آم، نیچے اچاری آم۔ بریانی میں کل کی بریانی آج کی بریانی کے ساتھ مل جاتی ہے اور بیچنے والا سینہ تان کر کہتا ہے:
’’ صاحب! بالکل تازہ ہے‘‘۔
ہمیں جشنِ آزادی مبارک!
ہماری دکان داری بھی کمال کی ہے۔ گاہک کو کہتے ہیں، ’’ آپ کے لیے اڑھائی ہزار کا سوٹ دو ہزار میں دے دوں گا‘‘۔ پھر جب گاہک خوش ہو کر دو ہزار دینے لگتا ہے تو اندر سے آواز آتی ہے:
’’ گیارہ سو میں دے دو، اپنا بندہ ہے!‘‘
اور گاہک گھر جا کر بیوی کو بتاتا ہے کہ آج میں نے دکاندار کو خوب لوٹا ہے۔
ہمیں جشنِ آزادی مبارک!
ہماری دیانت داری کا عالم یہ ہے کہ دودھ میں پہلے پانی ملتا تھا، اب پانی میں دودھ تلاش کرنا پڑتا ہے۔ گائے اور بھینس دونوں کا دودھ اکٹھا کر کے پھر اس میں پانی شامل کیا جاتا ہے۔ پھر اسی دودھ سے بنی چائے پی کر ہم کہتے ہیں:
’’ آج کل خالص چیز ملتی ہی نہیں‘‘۔
ہمیں جشنِ آزادی مبارک!
ہم عبادت میں بھی اپنی سہولت کے بڑے پابند ہیں۔ جمعے کے دو فرض پڑھ کر ایسے مسجد سے نکلتے ہیں جیسے باقی دو رکعتیں ملک کی معاشی ترقی میں خرچ کرنے چلے گئے ہوں۔ صبح قوالیاں سن کر ثواب کما لیتے ہیں، مگر راستے میں کسی غریب کو دھکا دے دیں تو اس کا کوئی حساب نہیں۔ روزہ نہ رکھ کر افطاری میں ضرور پہنچتے ہیں، اور اگر میز پر سموسہ کم ہو تو روزے داروں سے پہلے شکایت بھی کر دیتے ہیں۔
ہمیں جشنِ آزادی مبارک!
ہماری مذہب پسندی بھی کبھی کبھی بڑی دلچسپ ہوتی ہے۔ ویلنٹائن ڈے کو حرام قرار دیتے ہوئے فیس بک پر لمبی پوسٹ لکھتے ہیں، پھر رات کو کسی ’’ جانو مانو‘‘ کو ان باکس میں سلام کرتے ہیں۔ عمرہ کرکے واپس آتے ہیں تو مدینہ منورہ کی کھجوریں گھر میں محفوظ رکھتے ہیں اور پاکستانی سستی کھجوروں کو ’’ مدینے کی کھجور‘‘ کہہ کر تقسیم کر دیتے ہیں۔
ہمیں جشنِ آزادی مبارک!
ہم سیاست میں بھی بڑے اصول پسند ہیں۔ ووٹ ہمارا مقدس حق ہے، مگر جلیبی، سموسہ، بریانی اور چند سو روپے کے عوض اس مقدس حق کی قیمت بھی ہمیں خوب معلوم ہے۔ الیکشن کے دن ہم کہتے ہیں:
’’ ہم نے اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا، بس کھانا کھا لیا تھا‘‘۔
پھر پانچ سال تک سڑک ٹوٹی ہو، نالی بند ہو، ہسپتال میں دوا نہ ہو، اسکول میں استاد نہ ہو تو ہم کہتے ہیں:
’’ حکومت نے کچھ نہیں کیا‘‘۔
حضور! حکومت آسمان سے نہیں اترتی۔ وہ ہم ہی میں سے نکلتی ہے۔ جس معاشرے میں ووٹ بھی فروخت ہو، سفارش بھی چلتی ہو، جعلی ڈگری بھی ملتی ہو اور نقلی چالان بھی کٹتے ہوں، وہاں صرف حکمرانوں کو برا بھلا کہنے سے قوم پاک صاف نہیں ہو جاتی۔
ہمیں جشنِ آزادی مبارک!
ہم تعلیم میں بھی آزاد ہیں۔ کمپوڈر کا کورس کر کے ڈاکٹر بن جاتے ہیں، پیسے دے کر ڈگری خرید لیتے ہیں، بغیر ٹیسٹ کے لیبارٹری رپورٹ بنا دیتے ہیں اور پھر مریض کو یقین دلاتے ہیں:
’’ فکر نہ کریں، سب نارمل ہے‘‘۔
مریض گھر جا کر خوش ہوتا ہے، بیماری بڑھتی رہتی ہے، اور لیبارٹری کا کاروبار بھی۔
ہمیں جشنِ آزادی مبارک!
ہماری تعمیراتی ترقی بھی قابلِ دید ہے۔ ترقی کا پیمانہ یہ نہیں کہ نوجوان کو روزگار ملا یا نہیں، اسکول میں تعلیم کا معیار بہتر ہوا یا نہیں، ہسپتال میں علاج ملتا ہے یا نہیں، ترقی یہ ہے کہ محلے کی گلی میں نئی ٹائل لگ گئی، نالی پر ڈھکن آ گیا اور چودھری صاحب کے گھر کے سامنے سڑک بن گئی۔
پھر ہم فخر سے کہتے ہیں:
’’ دیکھو! ملک ترقی کر رہا ہے‘‘۔
ہمیں جشنِ آزادی مبارک!
ہم نے درخت لگانے کی تصاویر بنانا سیکھ لیا ہے، درخت بچانا نہیں۔ پودا لگاتے وقت پوری محفل جمع ہوتی ہے، تصویر بنتی ہے، فیس بک پر پوسٹ آتی ہے:
’’ ایک درخت، ایک زندگی‘‘۔
چند دن بعد پودا غائب۔
ہمیں جشنِ آزادی مبارک!
ہم ایمبولینس کا سائرن سن کر بھی راستہ نہیں دیتے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اندر کوئی زندگی اور موت کے درمیان ہے، مگر ہم اپنی گاڑی کے شیشے بند کرکے ایسے بیٹھے رہتے ہیں جیسے ایمبولینس نہیں، کوئی فلم گزر رہی ہو۔
ہمیں جشنِ آزادی مبارک!
ہم پولیس کو کولڈ ڈرنک پلا کر سیلفی بناتے ہیں، پھر اگلے دن اسی پولیس کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ٹریفک قانون توڑتے ہیں، جرمانہ ہو تو سفارش ڈھونڈتے ہیں۔ جعلی چالان سے بھی پیسے کمانے والے موجود ہیں اور اصلی چالان سے بچنے والے بھی۔
ہمیں جشنِ آزادی مبارک!
ہم سوشل میڈیا پر بھی مکمل آزاد ہیں۔ ہر پوسٹ کے نیچے ’’ Nice bro‘‘ لکھ کر علمی فریضہ ادا کرتے ہیں۔ کسی نے آئن سٹائن کی تصویر لگا کر لکھا کہ ’’ پاکستان کا پہلا وزیراعظم آئن سٹائن تھا‘‘ تو ہم نیچے لکھتے ہیں:
’’Nice information bro‘‘
کسی نے شعر غلط شاعر کے نام سے پوسٹ کیا تو بھی:
’’ واہ، کیا خوب کہا!‘‘
کسی نے قومی المیے پر مضمون لکھا تو بھی:
Nice bro Keep it up۔
ہمیں جشنِ آزادی مبارک!
اور پھر وہ طبقہ بھی ہے جو خود چھٹی مناتا ہے مگر سکیورٹی گارڈ کو ڈیوٹی پر بلاتا ہے۔ بینک بند، دفتر بند، بازار آدھا بند، مگر چوکیدار اپنی جگہ موجود۔ افسر گھر میں آزادی منا رہا ہے اور گارڈ دروازے پر کھڑا آزادی کی حفاظت کر رہا ہے۔
یہ بھی ہماری آزادی کا ایک خوبصورت منظر ہے۔
ہمیں جشنِ آزادی مبارک!
ہم نے ’’ ہم کوئی غلام ہیں؟‘‘ کو بھی گاڑی کے پچھلے شیشے کا نعرہ بنا دیا ہے۔ ساتھ Absolutely Notبھی لکھ دیا۔ گاڑی آگے بڑھتی ہے تو ڈرائیور سگنل توڑتا ہے، غلط پارکنگ کرتا ہے، پولیس کو فون کراتا ہے، ٹیکس سے بچتا ہے اور پھر فخر سے گاڑی کے پیچھے لکھا جملہ پڑھتا ہے:
’’ ہم کوئی غلام ہیں؟‘‘۔
جناب! غلامی صرف بیرونی طاقت کی نہیں ہوتی۔ قانون شکنی کی عادت بھی غلامی ہے۔ لالچ کی غلامی بھی غلامی ہے۔ سفارش کی غلامی بھی غلامی ہے۔ جھوٹ، ملاوٹ، رشوت اور دھوکے کی غلامی بھی غلامی ہے۔
آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ میں جو چاہوں کروں۔
آزادی کا مطلب یہ ہے کہ میں جو درست ہے، وہ کروں، خواہ کوئی مجھے دیکھ رہا ہو یا نہیں۔
ہماری اصل آزادی اس دن ہوگی جب ایمبولینس کے لیے راستہ دینے کو پولیس کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جب گلاس کو زنجیر سے باندھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جب دکاندار کو ترازو میں دھوکا دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔ جب دودھ میں پانی ڈالنے والے کو ’’ کاروباری ذہانت‘‘ کا خطاب نہیں ملے گا۔ جب ووٹ بریانی کی پلیٹ سے زیادہ قیمتی ہوگا۔ جب جعلی ڈگری لینے والا شرمندہ ہوگا، فخر نہیں کرے گا۔ جب سرکاری مال کو اپنا مال سمجھ کر بچایا جائے گا۔ جب درخت لگانے کے بعد اس کی حفاظت بھی کی جائے گی۔
اور سب سے بڑھ کر، جب ہم جشنِ آزادی صرف جھنڈیاں لگا کر نہیں بلکہ اپنے کردار کو بدل کر منائیں گے۔
ہم سب ایک دوسرے کو جشنِ آزادی مبارک کہہ رہے ہیں۔ سو میں بھی دل کی گہرائی سے مبارک باد پیش کرتا ہوں:
چودھریوں کو جشنِ آزادی مبارک، جو جوس کے ڈبے کا آخری قطرہ بھی نہیں چھوڑتے۔
گلاس زنجیر سے باندھنے والوں کو جشنِ آزادی مبارک۔
باسی بریانی کو تازہ بریانی میں ملانے والوں کو جشنِ آزادی مبارک۔
جعلی ڈگری والوں کو جشنِ آزادی مبارک۔
نقلی چالان والوں کو جشنِ آزادی مبارک۔
ووٹ بیچنے والوں کو جشنِ آزادی مبارک۔
ملاوٹ کرنے والوں کو جشنِ آزادی مبارک۔
ایمبولینس کو راستہ نہ دینے والوں کو جشنِ آزادی مبارک۔
اور ان سب سے بڑھ کر ہمیں بھی جشنِ آزادی مبارک، کیونکہ ہم ہر سال اپنی خامیوں پر ہنستے ہیں، ایک دوسرے کو میمز بھیجتے ہیں، قہقہے لگاتے ہیں، جھنڈیاں لگاتے ہیں، قومی نغمے سنتے ہیں، پھر اگلے دن وہی کام دوبارہ شروع کر دیتے ہیں۔
شاید یہی ہمارا سب سے بڑا قومی المیہ ہے:
ہمیں اپنی بیماری کا علم ہے، مگر علاج کروانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔
اور شاید اسی لیے آج کا سب سے بڑا طنزیہ جملہ یہی ہے: پاکستان زندہ باد!
اور ہماری عادتیں بھی، ہمیشہ زندہ باد!

جواب دیں

Back to top button