Column

پاکستان کا بڑھتا دفاعی و سفارتی کردار

اداریہ۔۔۔۔

دنیا کی موجودہ صورت حال میں قومی سلامتی، علاقائی استحکام اور باہمی دفاعی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ایسے وقت میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ محض تین برادر ممالک کے درمیان ایک دفاعی دستاویز نہیں بلکہ خطے میں بدلتے ہوئے جغرافیائی، سیاسی اور سلامتی کے حالات کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حمایت کا اظہار اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اس کا خیرمقدم اس امر کی واضح علامت ہے کہ پاکستان کی سفارتی اور دفاعی اہمیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جارہا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن طاقت کے توازن، باہمی احترام، خودمختاری کے تحفظ اور مشترکہ تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اسی سوچ کو عملی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جاسکتا ہے۔ سعودی عرب اسلامی دنیا کا انتہائی اہم ملک ہے، ترکیہ مضبوط علاقائی اور عالمی قوت کے طور پر اپنی جگہ بنا چکا ہے جب کہ پاکستان ایٹمی طاقت اور تجربہ کار دفاعی ملک ہے۔ تینوں ممالک کی مشترکہ صلاحیتیں نہ صرف ان کی اپنی سلامتی کو مضبوط بنا سکتی، بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس معاہدے کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان اس میں محض ایک شریک ملک کے طور پر شامل نہیں بلکہ ایسے ملک کی حیثیت سے سامنے آیا ہے جس کے پاس دفاع، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے وسیع تجربہ موجود ہے۔ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ پاکستانی افواج اور عوام نے امن کے قیام کے لیے جو قیمت ادا کی ہے، وہ دنیا سے پوشیدہ نہیں۔ یہی تجربہ پاکستان کو خطے میں سیکیورٹی تعاون کے لیے ایک اہم اور قابل اعتماد شراکت دار بناتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر اپنے ممالک سمیت پورے خطے کے دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دراصل پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک اہم سمت کی نشان دہی کرتا ہے۔ پاکستان کسی محاذ آرائی کا خواہاں نہیں بلکہ ایسا علاقائی نظام چاہتا ہے جہاں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کریں اور اختلافات کو طاقت کے بجائے مذاکرات اور تعاون کے ذریعے حل کیا جائے۔ دفاعی صلاحیت کا مقصد جنگ مسلط کرنا نہیں بلکہ جنگ کے خدشات کو کم کرنا اور امن کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم بھی اس پیش رفت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اگر دنیا کی بڑی طاقتیں علاقائی ممالک کے باہمی دفاعی تعاون کو مثبت انداز میں دیکھتی ہیں تو اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ عالمی سیاست میں پاکستان کی سفارتی حیثیت اور اس کے علاقائی کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی کامیابی ہے کہ اس کے برادر اسلامی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو عالمی سطح پر بھی سنجیدگی سے لیا جارہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کی قیادت کا ذکر کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں جوہری تباہی کے خطرے کو روکنے اور لاکھوں جانیں بچانے میں ان کے کردار کو سراہا۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کا خواہاں رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں کشیدگی کی کوئی بھی صورت حال صرف پاکستان یا کسی ایک ملک کو متاثر نہیں کرتی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔ ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک کے درمیان تنازعات میں احتیاط، ذمے داری اور سفارت کاری کی اہمیت اس لیے مزید بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان کا امن کا پیغام اسی حقیقت کا عکاس ہے۔ مکہ مکرمہ میں ہونے والے اس معاہدے کا ایک اہم پہلو اس کی علامتی اہمیت بھی ہے۔ مکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس مقام ہے۔ ایسے مقام پر تین اہم مسلم ممالک کا دفاعی اور سلامتی کے تعاون پر اتفاق کرنا ایک مضبوط پیغام دیتا ہے کہ اسلامی دنیا اپنے مسائل کے حل، باہمی تحفظ اور مشترکہ مفادات کے لیے ایک دوسرے کے قریب آ سکتی ہے۔ تاہم اس تعاون کو کسی دوسرے ملک کے خلاف اتحاد کے طور پر نہیں بلکہ امن، استحکام اور مشترکہ سلامتی کی وسیع تر مقصد کے طور پر آگے بڑھانا زیادہ مناسب ہوگا۔ پاکستان کے لیے اس معاہدے کے اقتصادی اور سفارتی فوائد بھی کم اہم نہیں۔ مضبوط دفاعی تعاون سے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی، تربیت، انٹیلی جنس تعاون اور دیگر شعبوں میں روابط بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی اعتماد میں اضافہ تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ دفاعی تعاون کے ساتھ اقتصادی سفارت کاری کو بھی اسی رفتار سے آگے بڑھائے تاکہ قومی سلامتی اور معاشی استحکام ایک دوسرے کے معاون بن سکیں۔ پاکستان کو اس موقع پر اپنی سفارتی حکمت عملی میں توازن بھی برقرار رکھنا ہوگا۔ دنیا کی تمام بڑی طاقتوں اور خطے کے تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی تعلقات پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں ہیں۔ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ قریبی تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم سرمایہ ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کسی غیر ضروری محاذ آرائی کا حصہ بنے۔ پاکستان کی اصل طاقت اس کی متوازن، اصولی اور امن دوست سفارت کاری میں ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیت کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی فعال رہنا ہوگا۔ آج کی دنیا میں صرف عسکری طاقت کافی نہیں، معاشی قوت، سیاسی استحکام، مضبوط ادارے، جدید ٹیکنالوجی اور موثر سفارت کاری بھی قومی طاقت کے بنیادی ستون ہیں۔ پاکستان اگر ان تمام شعبوں میں پیش رفت جاری رکھتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی سلامتی کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک موثر امن ساز ملک کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔

شذرہ۔۔۔
بچوں و خواتین کا تحفظ، اقدامات ناگزیر
لاہور میں بدفعلی، زنا بالجبر اور اجتماعی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات انتہائی تشویش ناک صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں۔ رواں سال شہر کے مختلف تھانوں میں بدفعلی کے 484، زنا بالجبر کے 411اور اجتماعی زیادتی کے 29مقدمات کا اندراج اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ معاشرے میں جنسی جرائم ایک سنگین مسئلے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض مقدمات کی تعداد نہیں بلکہ ان خاندانوں کے دکھ، خوف اور اذیت کی ترجمانی کرتے ہیں جو ایسے جرائم سے متاثر ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ مسئلہ صرف لاہور تک محدود نہیں۔ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور دیہی علاقوں سے خواتین، بچوں اور کمزور طبقات کے خلاف زیادتی کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اصل تشویش یہ بھی ہے کہ بہت سے واقعات بدنامی، سماجی دبائو، دھمکی، بااثر افراد کے اثر و رسوخ یا انصاف کے طویل عمل کے خوف سے رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ یوں دستیاب اعداد و شمار مسئلے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ جنسی جرائم کی روک تھام کے لیے محض مقدمات کا اندراج کافی نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تفتیش کے نظام میں بہتری، جدید فرانزک سہولتوں، شواہد کے موثر تحفظ اور متاثرین کے لیے محفوظ رپورٹنگ کا نظام یقینی بنانا ہوگا۔ ایسے مقدمات میں تفتیشی غفلت یا غیر ضروری تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔ عدالتوں میں بھی ایسے مقدمات کی موثر اور ترجیحی سماعت کے لیے خصوصی انتظامات ضروری ہیں تاکہ مجرموں کو بروقت سزا ملے اور قانون کا خوف قائم ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے تحفظ کے لیے والدین، تعلیمی اداروں، مذہبی و سماجی تنظیموں اور میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بچوں کو اچھے اور برے لمس، مشکوک رویوں اور خطرناک حالات کے بارے میں عمر کے مطابق آگاہی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ والدین کو بھی بچوں کی بات سننے اور ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لینے کی تربیت حاصل کرنی چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ پورے ملک میں جنسی جرائم کے خلاف جامع قومی پالیسی تشکیل دے، پولیس کی استعداد بڑھائے، فرانزک نظام کو مضبوط کرے اور مجرموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی یقینی بنائے۔ معاشرے کو بھی خاموش تماشائی بننے کے بجائے ایسے واقعات کی بروقت اطلاع دینا ہوگی۔ عزت، تحفظ اور انصاف ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ بچوں اور خواتین کے تحفظ میں ناکامی دراصل پورے معاشرے کی ناکامی ہے، اس لیے اب محض مذمت نہیں بلکہ سخت، موثر اور مسلسل اقدامات ناگزیر ہیں۔

جواب دیں

Back to top button