
(پریس ریلیز)
معاشی استحکام کے دعوے اور زمینی حقائق میں تضاد — بزنس کمیونٹی کیلئے فوری ریلیف ناگزیر: محمد علی میاں
کم ہوتی شرح سود اور مہنگائی کے باوجود صنعت دباؤ کا شکار — پالیسیوں میں توازن، تسلسل اور کاروبار دوست اصلاحات کی فوری ضرورت: محمد علی میاں
(پ ر لاہور) سابق صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری و ماہر معاشیات محمد علی میاں نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے جہاں میکرو اکنامک استحکام کے اشاریے بہتر ہونے کے باوجود صنعتی و تجارتی سرگرمیاں تاحال دباؤ کا شکار ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پالیسیوں کے اثرات زمینی سطح تک مؤثر انداز میں منتقل نہیں ہو رہے۔
انہوں نے کہا کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پالیسی ریٹ تقریباً 11.5 فیصد کی سطح پر آ چکا ہے جبکہ مہنگائی کی شرح بھی سنگل ڈیجیٹ میں داخل ہو چکی ہے، جو بظاہر معاشی استحکام کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم محمد علی میاں کے مطابق ان مثبت اشاریوں کے باوجود کاروباری لاگت، توانائی قیمتوں اور ٹیکس بوجھ میں کمی نہ آنے کے باعث صنعت کو مطلوبہ ریلیف نہیں مل سکا۔
محمد علی میاں نے مزید کہا کہ بزنس کمیونٹی کو درپیش بنیادی مسائل میں سب سے نمایاں مسئلہ اب بھی مہنگی انرجی ہے، جہاں بجلی اور گیس کے نرخ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں، جس سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کھو رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس نظام، جو کے زیر انتظام ہے اور آٹومیشن کے مراحل سے گزر رہا ہے، بدستور پیچیدہ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، جہاں انفورسمنٹ کے نام پر ہراسانی اور آئے دن پالیسی تبدیلیاں کاروباری اعتماد کو متاثر کرتی ہیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مختلف ریگولیٹری اداروں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان کاروباری عمل کو سست اور مہنگا بنا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار (LSM) میں سست روی اس بات کا ثبوت ہے کہ معیشت کا پیداواری شعبہ مکمل بحالی حاصل نہیں کر سکا۔ برآمدی شعبہ، جو ملک کیلئے قیمتی زرمبادلہ کا ذریعہ ہے، اب بھی ریفنڈز میں تاخیر اور پالیسیوں کے عدم تسلسل جیسے مسائل کا شکار ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
محمد علی میاں نے حالیہ عالمی و علاقائی صورتحال کے تناظر میں کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی/ممکنہ تصادم کے معاشی اثرات سے پاکستان کو کم سے کم متاثر رکھنے کیلئے حکومت کو اپنی اور متعلقہ اداروں کی مالی و انتظامی نظم و ضبط کو مزید سخت (belt-tightening) کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں کفائت شعاری کا شعور اجاگر کرنا بھی ناگزیر ہے، جبکہ روزگار کے مواقع برقرار رکھنے کیلئے صنعتی پہیے کو ہر صورت چلتے رکھنے کی واضح اور مؤثر پالیسی تشکیل دینا ہوگی، تاکہ کسی ممکنہ بیرونی جھٹکے کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
محمد علی میاں نے حکومتی اقدامات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط، درآمدات میں کنٹرول اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے جیسے اقدامات مثبت سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صرف استحکام کافی نہیں بلکہ پائیدار ترقی کیلئے صنعتی سرگرمیوں کا فروغ ناگزیر ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ شرح سود میں مزید بتدریج کمی، ٹیکس نظام میں کم از کم تین سے پانچ سال کیلئے استحکام، توانائی نرخوں میں کمی، اور کاروبار میں آسانی کیلئے فوری اصلاحات کو یقینی بنایا جائے۔ محمد علی میاں نے کہا کہ برآمدات کے فروغ کیلئے فوری ریفنڈز، مراعات اور مستقل پالیسی فریم ورک وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
اپنے بیان کے اختتام پر محمد علی میاں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں معاشی ترقی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، مگر اس کے حصول کیلئے حکومت اور بزنس کمیونٹی کے درمیان اعتماد، مشاورت اور پالیسی تسلسل کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت محاذ آرائی کا نہیں بلکہ سنجیدہ اور تعمیری فیصلوں کا ہے تاکہ پاکستان ایک مستحکم اور مضبوط معیشت کی جانب پیش رفت کر سکے۔






