مصنوعی ذہانت، الیکشن اور ڈیپ فیک کا چیلنج

مصنوعی ذہانت، الیکشن اور ڈیپ فیک کا چیلنج
تحریر: رفیع صحرائی
آج کی اس پرآشوب اور تیز رفتار دنیا میں ٹیکنالوجی نے جہاں انسان کی زندگی کو آسان اور سہولتوں سے مالامال کر دیا ہے، وہیں اس کے تاریک پہلو بھی اتنی ہی تیزی سے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) بالخصوص ’ جنریٹیو اے آئی‘(Generative AI) کی آمد نے جہاں ایک طرف علم اور ترقی کے نئے در وا کیے ہیں، وہیں دوسری طرف اس کے ذریعے دھوکہ دہی اور فریب کاری اس قدر آسان ہو گئی ہے کہ اب اصل اور جعلی میں تمیز کرنا فارنزک ٹیسٹ کے بغیر ناممکن حد تک جا پہنچا ہے۔
روزمرہ زندگی میں اے آئی کا بڑھتا ہوا استعمال اب محض ایک تفریح یا سہولت نہیں رہا، بلکہ یہ انسانی معاشرے کی اخلاقی اقدار اور سچائی کے ضابطوں کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ رہی سہی کسر آنے والے انتخابی عمل میں اس کے منفی استعمال کے اندیشوں نے پوری کر دی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں سیاسی شعور کے ساتھ ساتھ جذباتی وابستگیاں بھی عروج پر ہوتی ہیں، الیکشن کے دوران اے آئی کی مدد سے مخالف امیدواروں کی جعلی تصاویر، من گھڑت ویڈیوز اور جھوٹی آڈیوز کے استعمال کے امکان کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے میں اس سنگین فتنے کو روکنے کے لیے موثر، جامع اور سخت قانون سازی کی اشد ضرورت ہے تاکہ جمہوریت کی روح کو محفوظ بنایا جا سکے۔
اس پس منظر میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کا یہ قدم انتہائی خوش آئند ہے کہ اس نے انتخابی عمل میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر تمام سیاسی جماعتوں سے تجاویز طلب کی ہیں اور سیاسی جماعتوں، میڈیا اور انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں کے ضابطہ اخلاق میں اے آئی سے متعلق اہم ترامیم کی تجویز دی ہے۔ الیکشن کمیشن نے درست سمت میں قدم اٹھاتے ہوئے چند بنیادی اصول طے کیے ہیں۔ اس سلسلے میں بنیادی اصول واضح لیبلنگ کو لازمی قرار دینے سے متعلق ہے۔ تمام پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ اے آئی کی مدد سے تشکیل کردہ کسی بھی مواد پر واضح لیبل لگائیں گے۔ میڈیا کو امیدوار یا انتخابی معاملے پر کوئی بھی اے آئی تصویر، ویڈیو یا آڈیو نشر کرتے وقت ناظرین کو بتانا ہوگا کہ یہ مصنوعی ذہانت کا کرشمہ ہے۔
ڈیپ فیک اور آواز کی کلوننگ پر پابندی کی تجویز بھی الیکشن کمیشن کے زیرِغور ہے۔ سیاسی جماعتیں، امیدوار اور حامی اے آئی سے تیار کردہ یا تبدیل شدہ انتخابی مواد واضح لیبل کے بغیر شائع نہیں کر سکیں گے۔ ڈیپ فیک، مصنوعی آوازوں اور ویڈیوز پر ’ اے آئی جنریٹڈ‘ ہونے کا واضح ذکر ناگزیر ہوگا۔
الیکشن کمیشن نے مقدس ہستیوں اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تجویز کیا ہے کہ جج صاحبان، الیکشن عملے اور افواجِ پاکستان کے خلاف جعلی ڈیپ فیک مواد بنانے پر مکمل پابندی ہوگی۔ نیز مصنوعی ذہانت کے بوٹس اور آٹومیٹڈ اکانٹس کے ذریعے جعلی ٹرینڈز اور فیک لائکس بنانے پر بھی پابندی ہوگی۔ اس کے علاوہ روبو کالز اور وائس کلون میسجز کے شروع میں ہی یہ بتانا لازم ہوگا کہ یہ مصنوعی طور پر تخلیق کیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے تمام اے آئی مواد کا ریکارڈ رکھنا اور اسے الیکشن کمیشن کو فراہم کرنا لازم قرار دیا ہے۔
جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے تو میڈیا ہاسز اے آئی کا استعمال صرف مواد کی تیاری (Content Generation)، تراجم اور تجزیے کے لیے کر سکیں گے۔ انہیں تیارکردہ مواد پر لیبل بھی لگانا ہو گا کہ یہ مواد مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ بغیر لیبل والے مواد پر سخت کارروائی ہو گی، جبکہ پی ٹی اے (PTA)، پیمرا (PEMRA)اور این سی سی آئی اے (NCCIA)جیسے ادارے اس مواد کی کڑی مانیٹرنگ کریں گے۔
انتخابی عمل میں اے آئی کے فوائد اور نقصانات کا تجزیہ کیا جائے اور اگر غیر جانبدار ہو کر دیکھا جائے تو ٹیکنالوجی بذات خود اچھی یا بری نہیں ہوتی، اس کا انحصار اس کے استعمال کرنے والے کی نیت پر ہوتا ہے۔ الیکشن میں اے آئی کے استعمال کے دو رخ ہیں: روشن پہلو اور تاریک پہلو۔
اگر ہم روشن پہلو اور فوائد کو دیکھیں تو اے آئی کی مدد سے مواد کی تیاری کم لاگت میں ہو سکتی ہے جبکہ اس کی تشہیر تیز ہو سکتی ہے۔ کم وسائل رکھنے والے امیدوار بھی اے آئی کی مدد سے معیاری انتخابی مہم ویڈیوز اور اشتہارات کم خرچ میں تیار کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کثیر لسانی خطوں میں اے آئی کے ذریعے امیدوار اپنے پیغامات کو مختلف علاقائی زبانوں اور لہجوں میں ووٹرز تک آسانی سے پہنچا سکتے ہیں، نیز انتخابی حکمت عملی ترتیب دینے، ووٹرز کے رجحانات کا جائزہ لینے اور منشور کو عام فہم بنانے میں یہ ایک بہترین معاون ٹول ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر اس کے تاریک پہلو کا جائزہ لیا جائے تو اے آئی کے استعمال سے سچائی کے قتل اور مخالفین کی کردار کشی کا پورا امکان موجود ہے۔ ڈیپ فیک ویڈیوز اور آڈیوز کے ذریعے کسی بھی سیاستدان کے منہ سے وہ الفاظ کہلوانا جو اس نے کبھی کہے ہی نہ ہوں، ووٹرز کو گمراہ کرنے اور کسی کی سیاسی زندگی تباہ کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے جعلی خبروں اور بوٹ اکانٹس کے ذریعے رائے عامہ کو مصنوعی طریقے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس سے جمہوریت کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ اس کا بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ اس سے عدم اعتماد کو فروغ ملے گا۔ جب ہر اصل چیز کو بھی جعلی سمجھا جانے لگے تو معاشرے میں سچ پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور انتشار پھیلتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ اے آئی کا سیلاب اب رکنے والا نہیں ہے، لیکن اس کے بہائو کو درست سمت دینا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ الیکشن کمیشن کے اقدامات اپنی جگہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں ذاتی اور وقتی سیاسی مفادات سے بالا تر ہو کر ان قوانین کی روح کے مطابق پاسداری کریں۔ اگر آج ہم نے اس ڈیپ فیک کلچر کو قانون اور اخلاقیات کی زنجیروں میں نہ جکڑا، تو آنے والے الیکشن بیلٹ پیپر کے نہیں بلکہ فریب اور جعلی پراپیگنڈے کے مرہون منت ہو جائیں گے۔






