ڈولتے ڈگمگاتے ٹرمپ

ڈولتے ڈگمگاتے ٹرمپ
صورتحال
سیدہ عنبرین
امریکہ میں مڈٹرم انتخابات اب بالشت بھر کے فاصلے پر ہیں، لہٰذا حکومتی اور اپوزیشن سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ برسر اقتدار جماعت کیلئے یہ انتخابات ان کی ناک اور ساکھ کا معاملہ ہیں، جبکہ اپوزیشن والے بھی انہیں اتنی ہی اہمیت دے رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بہت بڑے ناقد سابق امریکی صدر باراک اوبامہ متحرک ہو چکے ہیں، اس طرح ایک اور سابق صدر امریکہ بل کلنٹن بھی ایک نئے انداز میں عوام کے سامنے آئے ہیں، دونوں سابق صدور اپنی اپنی مدت صدارت مکمل کر کے آرام کر رہے ہیں، ان میں صدر کلنٹن کے پاس اب آرام کرنے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں۔ ان کی بیگم ہیلری کلنٹن بھی طویل سیاسی جھولا جھول چکی ہیں۔ وہ صدارتی انتخاب میں تو کامیاب نہیں ہو سکیں لیکن اب بھی سیاست میں کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہیں، جبکہ اوبامہ مختلف فورمز پر خطاب کرتے رہتے ہیں۔ موجودہ امریکی صدر کی سیاسی، سماجی اور بین الاقوامی ناکامیاں دنیا بھر میں زیر بحث ہیں۔ باراک اوبامہ بھی انہی ناکامیوں کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں، وہ امریکی صدر کی طرف سے ایران پر حملے کو ان کی فاش غلطی سمجھتے ہیں۔ باراک اوبامہ کو ان کی زمانہ صدارت میں ایران پر حملے کیلئے بہت اکسایا گیا، لیکن وہ اس جال میں نہ آئے ۔ انہوں نے دانشمندی کے ذریعے ایران کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھایا اور آبرو مندانہ معاہدہ کرنے میں کامیاب رہے۔ سابق صدر جوبائیڈن پر بھی ایران پر حملے کیلئے بہت دبائو تھا، یہ دبائو امریکہ میں موجود یہودی لابی اور اسرائیلی کی طرف سے تھا، لیکن وہ بھی حتی الامکان پہلو بچاتے رہے۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن دنیا بھر میں مسلمانوں میں لگائے گئے الزامات کا دفاع کرتے نظر آئے۔ انہوں نے ایک تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو انتہا پسند کہنا اور ان پر دہشت گردی کے الزام لگانا درست نہیں، دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کا تعلق کسی بھی ملک اور کسی بھی مذہب سے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کی بیٹی نے اوائل عمری میں قرآن مجید کا مطالبہ کیا اور انہیں قرآنی تعلیمات کے بارے میں بتایا، قرآنی تعلیمات کا دہشت گردی یا انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہیں۔ بل کلنٹن کا بیان نہایت حقیقت پسندانہ ہے، لیکن توجہ طلب بات یہ ہے کہ انہیں اس خیال کی تشہیر کیلئے اس سے قبل خیال کیوں نہ آیا۔ انہوں نے یہ بات عرصہ دراز تک صرف اپنے تک محدود کیوں رکھی۔ انہوں نے اپنی بیگم ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم میں بھی یہ اہم بات نہیں کی، یوں تو اچھی اور سچی بات کہنے کیلئے وقت کی کوئی پابندی نہیں ہوتی، کلمہ حق کسی بھی وقت کہا جا سکتا ہے، اور جب کہا جائے اس کی توصیف ہونی چاہئے، لیکن امریکی حلقوں میں اسے بل کلنٹن کی بیٹی کیلئے میدان سیاست میں جگہ بنانے، اور ان کا سافٹ امیج بنانے کی ایک کوششیں قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ وقت آنے پر انہیں لانچ کیا جا سکے۔
امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پوزیشن کمزور نظر آ جانے کے باوجود وہ اپنے عہدے پر قائم رہیں گے، لیکن ان کے قریبی حلقے ان کے آئندہ کے عزائم کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہوئے کہتے نظر آتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی باقی مدت صدارت میں امریکی آئین میں ترمیم کر کے صدر کیلئے دو ٹرم کی پابندی ختم کر کے تیسری ٹرم کی اجازت دے سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ بتدریج کمزور ہوتے رہتے ہیں تو پھر وہ یہ آئینی ترمیم کیسے منظور کرا سکیں گے، تو اس کا سادہ سا جواب ہے کہ یہ آئینی ترمیم اسی طرح منظور ہو جائے گی جس طرح دیگر ممالک میں ہوتی ہے۔ صدر ٹرمپ کو یہ سہولت حاصل ہے کہ امریکہ میں دو جماعتی سیاسی نظام ہے، اگر وہ یہ ترمیمی بل لاتے ہیں تو صرف ٹرمپ کی پارٹی کو ہی اس کا فائدہ نہیں ہو گا بلکہ ان کی اپوزیشن کو بھی اس کا فائدہ ہو سکتا ہے۔ پس اپنے اپنے فائدے کیلئے حکومت اور اپوزیشن اکٹھے ہو کر ملک اور جمہوریت کے وسیع ترم فاد میں یہ فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اس ممکنہ عمل کو بھانپتے ہوئے ان کی اپوزیشن جماعت نے ابھی سے اپنا گھوڑا میدان میں اتار دیا ہے، جس نے میدان میں اتر کر سیاسی اٹھکیلیاں شروع کر دی ہیں، تاکہ امریکی عوام جان لیں کہ وہ ریٹائر ہو کر گھر میں نہیں بیٹھیں گے، وہ صحت مند ہیں، فعال ہیں، اور مستقبل میں بھی کوئی فعال سیاسی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ اگر تیسری مدت کیلئے میدان میں اترے تو اس کا جوڑ ماضی کے دو مرتبہ منتخب صدر باراک اوبامہ سے پڑ سکتا ہے، جن کی کارکردگی دونوں مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بہتر سمجھی جاتی ہے۔ امریکہ میں آئندہ انتخابات ابھی مزید دو برس کی دوری پر ہیں، جوں جوں وہ وقت قریب آئے گا نئے امیدوار بھی میدان میں اتریں گے، لیکن سیاسی جماعتیں یہ دیکھ کر فیصلہ کریں گی کہ ان کے امیدوار کے مخالف میدان میں کون سا گھوڑا ہے، اور اس کے مقابلے کیلئے کون سا گھوڑا مناسب رہے گا، یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کون سیاسی اعتبار سے اور معاشی اعتبار سے کتنا مضبوط اور بہتر امیدوار ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت کی نصف ٹرم میں امریکیوں کو ’’ عوام الناس‘‘ بنا دیا ہے، جس کا مطلب اب یہ لیا جاتا ہے کہ یہ وہ عوام ہیں جن کا ناس مار دیا جائے۔ امریکی صدر کی اسرائیل کی فرمائش پر شروع کی گئی ایران کے خلاف جنگ نے جو تباہی دنیا بھر میں مچائی وہ اس سے امریکہ اور اس کی معیشت کو محفوظ نہیں رکھ سکے، اس تباہی سے قبل وہ اپنی ٹیرف پالیسیوں سے امریکی معیشت پر کاری ضرب لگا چکے ہیں، جس سے امریکہ کے طول و عرض میں کہرام برپا تھا، لیکن حالات کو سنبھالنے کی بجائے انہوں نے ایران پر حملہ کر کے امریکی معیشت پر دوسری ضرب لگانا ضروری سمجھا، یہی ضرب اب انکے سیاسی کیریئر پر لگی ہے، جو شاید انہیں دوبارہ سیاسی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہونے دے۔ امریکی صدر کی صحت بھی انحطاط پذیر ہے، ان میں اب وہ دم خم نظر نہیں آتا جس کیلئے وہ کبھی شہرت رکھتے تھے، اب تو وہ چلتے پھرتے کم اور ڈولتے ڈگمگاتے ٹرمپ زیادہ نظر آتے ہیں، سیاسی توانائیوں کے ساتھ جسمانی توانائیاں بھی ضروری ہیں، سیاست سست لوگوں کا کھیل نہیں۔





