Column

عالمی بساط بدل رہی ہے، پاکستان اپنا کردار کیسے ادا کرے؟

عالمی بساط بدل رہی ہے، پاکستان اپنا کردار کیسے ادا کرے؟
وقار اسلم
تاریخ کا پہیہ جب گھومتا ہے تو صرف حکومتیں نہیں بدلتیں، قوموں کے لیے مواقع بھی بدل جاتے ہیں۔ کچھ قومیں بدلتے حالات کو خطرہ سمجھ کر دروازے بند کر لیتی ہیں، کچھ دوسروں کی کامیابی کو حسرت سے دیکھتی رہتی ہیں، اور کچھ اپنے وسائل، صلاحیت اور فیصلوں کی قوت سے نئے راستے نکال لیتی ہیں۔ پاکستان آج ایسے ہی دوراہے پر کھڑا ہے۔ معاشی مشکلات، قرضوں کا دبا اور عالمی سیاست کی پیچیدگیاں اپنی جگہ، لیکن نوجوان آبادی، جغرافیائی اہمیت، زرعی صلاحیت، صنعتی امکانات اور وسیع سفارتی روابط بھی ہمارے سامنے ہیں۔
پاکستان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اکثر قرض، مہنگائی، درآمدات اور مالیاتی خسارے ہی زیر بحث آتے ہیں۔ مگر کسی قوم کی مکمل تصویر صرف اس کے واجبات سے نہیں بنتی۔ اس کے اثاثے، انسانی صلاحیت، پیداواری قوت، جغرافیہ اور سفارتی روابط بھی دیکھنے پڑتے ہیں۔
جون 2026ء کے اختتام پر پاکستان کا مجموعی سرکاری قرض قریباً 86.7کھرب روپے تک پہنچ چکا تھا اور قرض و مجموعی قومی پیداوار کا تناسب قریباً 68.3فیصد تھا۔ یہ اعدادوشمار سنجیدہ توجہ چاہتے ہیں۔ تاہم مختلف مالیاتی پیمانوں کو خلط ملط کرنا بھی درست نہیں۔ سرکاری بیرونی قرض، مجموعی بیرونی واجبات اور تمام سرکاری قرض الگ تصورات ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے فروری 2026ء میں مجموعی بیرونی قرضوں اور واجبات کا حجم 138ارب ڈالر، جبکہ بیرونی سرکاری قرض قریباً 92ارب ڈالر بتایا تھا۔ اس لیے 92ٹریلین ڈالر کا قرض کہنا غلط ہوگا۔ مسئلے کی سنگینی بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے بجائے درست اعدادوشمار کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔
قرضوں سے نکلنے کا پائیدار راستہ مزید قرض حاصل کرنا یا وقتی طور پر مالی دبا کم کرنا نہیں۔ اصل حل برآمدات بڑھانے، درآمدی انحصار گھٹانے، ٹیکس نظام منصفانہ بنانے، سرکاری اداروں کے نقصانات پر قابو پانے اور دولت پیدا کرنے والی صنعتوں کو فروغ دینے میں ہے۔ جب تک ہماری معیشت محدود مصنوعات اور بیرونی مالی سہاروں پر انحصار کرتی رہے گی، وہی بحران نئی شکل میں لوٹتا رہے گا۔
اس سفر میں نوجوان آبادی ہمارا غیر معمولی اثاثہ ہے۔ پاکستان کی قریباً 67فیصد آبادی 30سال سے کم عمر ہے۔ نوجوانوں کو معیاری تعلیم، فنی تربیت، ڈیجیٹل مہارتیں، کاروباری مواقع اور باعزت روزگار ملے تو یہی آبادی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔ لیکن اگر تعلیم اور روزگار کے درمیان فاصلہ بڑھتا رہا تو یہی امکان مایوسی میں بدل سکتا ہے۔ آئی ٹی، سافٹ ویئر، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، طبی خدمات، سیاحت، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل کی ویلیو ایڈیشن اور انجینئرنگ ایسے شعبے ہیں جہاں نوجوان عالمی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
دنیا کی بدلتی معیشت میں کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں کہ کتنی سرمایہ کاری آتی ہے؛ یہ بھی ہے کہ اس سے کتنی مقامی صنعت جنم لیتی ہے، کتنی ٹیکنالوجی منتقل ہوتی ہے، کتنے ہنرمند تیار ہوتے ہیں اور کتنی برآمدات بڑھتی ہیں۔ چین کے ساتھ پاکستان کے معاشی تعلقات اور سی پیک کے تحت قائم ہونے والے بنیادی ڈھانچے کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ سڑکیں، توانائی کے منصوبے، بندرگاہیں اور رابطہ کاری اہم بنیادیں ہیں۔ اب اگلا مرحلہ ان بنیادوں کو مقامی پیداوار، صنعتی زونز، مشترکہ کاروبار، برآمدی صنعتوں اور پاکستانی افرادی قوت کی تربیت سے جوڑنا ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کو دو مخالف کیمپوں میں تقسیم کرکے سمجھنا بھی درست نہیں۔ امریکا کے ساتھ تجارت اور ٹیکنالوجی کے امکانات ہیں، چین کے ساتھ دیرینہ تزویراتی شراکت داری ہے، خلیجی ممالک کے ساتھ توانائی، سرمایہ کاری اور افرادی قوت کے روابط ہیں، یورپ کے ساتھ برآمدات کے مواقع ہیں، روس کے ساتھ ممکنہ تجارتی تعاون ہے اور وسطی ایشیا کے ساتھ رابطہ کاری کی گنجائش موجود ہے۔ ان میں سے کسی ایک تعلق کو دوسرے کی نفی سمجھنا ضروری نہیں۔ ایک خودمختار ریاست کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر مختلف ملکوں کے ساتھ قابلِ اعتماد تعلقات قائم کرے۔ پاکستان سب کو ساتھ لے کر چلنے کی سفارتی کوشش کو کمزوری نہیں، اپنی جغرافیائی اور معاشی ضرورت کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔ یہی حکمت ہے کہ دنیا سے تعلقات قائم رہیں، مگر ہر تعلق کی سمت اور شرط پاکستان کے واضح قومی مفاد سے طے ہو۔
جنوب مشرقی ایشیا کی تنظیم آسیان اس ضمن میں خاص توجہ کی مستحق ہے۔ پاکستان 1993ء سے آسیان کا سیکٹرل ڈائیلاگ پارٹنر ہے، یعنی یہ تعلق آج کی سفارتی مہم نہیں بلکہ تین دہائیوں سے زیادہ پرانی بنیاد رکھتا ہے۔ فروری 2025 ء میں دونوں فریقوں نے 2024ء تا 2028ء عملی تعاون کے منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، کاروباری روابط، سائنس و ٹیکنالوجی، اطلاعات اور انسانی وسائل شامل ہیں۔ جون 2026ء میں ہونے والی نویں مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں بھی طے شدہ تعاون کو عملی نتائج میں بدلنے پر زور دیا گیا۔ اس کے باوجود پاکستان اور آسیان کے درمیان تجارت میں نمایاں عدم توازن موجود ہے۔ 2024ء میں دوطرفہ تجارت قریباً 11.5ارب ڈالر تھی، جس میں پاکستانی برآمدات لگ بھگ 3.5ارب ڈالر اور درآمدات قریباً 8ارب ڈالر تھیں۔ اس خلا کو کم کرنے کے لیے پاکستان کو صرف سفارتی ملاقاتوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ چاول، ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، آلاتِ جراحی، حلال خوراک، ادویہ سازی، آئی ٹی خدمات اور زرعی مصنوعات کے لیے آسیان کی منڈیوں میں مخصوص حکمت عملی بنائی جاسکتی ہے۔ کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست رابطے، معیار کی بین الاقوامی تصدیق، کسٹمز کے آسان طریقے، قابلِ اعتماد شپنگ اور مصنوعات کی مقامی ضروریات کے مطابق تیاری ناگزیر ہیں۔ آسیان کے ممالک کی کامیابی سے ایک سبق ملتا ہے: جغرافیہ اس وقت فائدہ دیتا ہے جب اسے تجارت، صنعت، رسد اور مسلسل تعاون سے جوڑا جائے۔ چین اور آسیان کی دوطرفہ تجارت 2025ء میں ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرگئی۔ پاکستان کو اس عدد کو محض حیرت سے دیکھنے کے بجائے یہ سمجھنا چاہیے کہ علاقائی معاشی روابط کتنی بڑی منڈی پیدا کرسکتے ہیں۔
پاکستان کا جغرافیہ اسے جنوبی ایشیا، چین، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور بحرِ ہند کے درمیان رابطے کا ممکنہ مرکز بناتا ہے۔ کراچی اور گوادر کی بندرگاہیں، زمینی راستے اور علاقائی رابطہ کاری اہم امکانات ہیں، مگر نقشے پر اہم ہونا اور حقیقی تجارتی مرکز بننا الگ باتیں ہیں۔ افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی راستے بہتر ہوں تو پاکستان اپنی منڈی سے آگے بڑھ کر علاقائی تجارت سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔BRICSجیسے فورمز کے بارے میں بھی جذبات کی بجائے حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی ضروری ہے۔ پاکستان نے شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے، مگر رکنیت نہ فوری معاشی حل ہے اور نہ کسی دوسرے ملک کے خلاف صف بندی کا متبادل۔ بھارت سمیت رکن ممالک کے اختلافات اور اتفاقِ رائے کی پیچیدگیاں اپنی جگہ ہیں۔ پاکستان کو رابطے اور سفارتی حمایت کی کوشش جاری رکھتے ہوئے آسیان، شنگھائی تعاون تنظیم، اسلامی تعاون تنظیم، اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں میں بھی فعال رہنا چاہیے۔ سفارت کاری کا مقصد دنیا کو کیمپوں میں بانٹنا نہیں، پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ باعزت مواقع پیدا کرنا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری بھی اسی لیے اہم ہے۔ 2026ء سے 2030ء کی ملکی حکمتِ عملی نجی شعبے کو فعال بنانے، معاشی شمولیت اور پائیدار ترقی پر زور دیتی ہے۔ ریلوے، لاجسٹکس، توانائی، زراعت، پانی کے انتظام اور چھوٹے کاروبار میں ایسے منصوبے درکار ہیں جو مالی وسائل کے ساتھ ادارہ جاتی صلاحیت اور نجی سرمایہ کاری بھی بڑھائیں۔
زراعت بھی ہماری معاشی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون ہے۔ کسان کو پانی، معیاری بیج، مناسب قیمت، جدید مشینری، ذخیرہ کرنے کی سہولت اور منڈی تک رسائی چاہیے۔ جدید آبپاشی، زرعی تحقیق، کولڈ چین، فوڈ پروسیسنگ اور برآمدی روابط سے خام پیداوار کی قدر بڑھائی جاسکتی ہے۔ ان امکانات کی بنیاد سیاسی استحکام، قانون کی بالادستی اور پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ سرمایہ کار صرف وعدے نہیں دیکھتا؛ وہ معاہدوں پر عمل، ٹیکس کے قابلِ پیش گوئی نظام، توانائی کی قیمت، انصاف تک رسائی اور اداروں کی کارکردگی بھی دیکھتا ہے۔ حکومت، کاروباری طبقے، جامعات اور نوجوانوں کو ایک مشترکہ معاشی منصوبے کے گرد جمع کرنا ہوگا۔
قرض کم کرنا ہوگا، برآمدات بڑھانی ہوں گی، نوجوانوں کو ہنر دینا ہوگا اور دنیا کے ساتھ تعلقات کو معاشی نتائج میں بدلنا ہوگا۔ عالمی سیاست میں احترام صرف نعروں سے نہیں، مضبوط معیشت، قابلِ اعتماد سفارت کاری اور اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت سے حاصل ہوتا ہے۔ اسے ہماری محنت، دانش، اصلاحات اور سفارتی بصیرت نے حاصل کرنا ہے۔ چین کے ساتھ تعاون کو مضبوط رکھتے ہوئے امریکا، خلیجی ممالک، یورپ، روس، آسیان اور دیگر شراکت داروں سے تعلقات بڑھانا تذبذب نہیں، ایک خودمختار ریاست کی عملی حکمتِ عملی ہوسکتی ہے۔ اصل کامیابی کسی ایک طاقت کے قریب ہونے میں نہیں، اپنی قومی قوت اتنی بڑھانے میں ہے کہ دنیا پاکستان کو سنجیدہ، قابلِ اعتماد اور مفید شراکت دار سمجھے۔

جواب دیں

Back to top button