گورنر راج سے پہلے ۔۔۔۔۔۔۔

گورنر راج سے پہلے ۔۔۔۔۔۔۔
روشن لعل
خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ ہونے کے بعد یہاں ’’ جتنے منہہ اتنی باتیں‘‘ محاورے کے دلچسپ عملی مظاہر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ گورنر راج کے مظہر پر سامنے آنے والے وسیع سمعی و بصری مواد میں تبصروں کے نام پر اندھا دھند کسی گئی پھبتیاں، دل کھول کر دیئے گئے فتوے اور کچھ سنجیدہ تجزیے بھی موجود ہیں۔ سنجیدہ تجزیوں کو ایک طرف رکھنے کے بعد باقی بچنے والے مواد سے یہی اخذ ہوتا ہے کہ اسے گورنر راج کے نفاذ سے جڑے مختلف پہلوئوں پر حقائق کی روشنی میں غور کرنے کی بجائے انتہائی جلد بازی میں پیش کر دیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں جس روز گورنر راج نافذ کیا گیا، اس پر یہ غور کرنے کی زحمت کیے بغیر کہ یہاں قبل ازیں کیا کچھ ہوتا رہا، صرف اسی دن کے واقعہ کو بنیاد بنا کر اپنے خیالات کا اظہار شروع کر دیا گیا۔
راقم کی نظر میں، منتخب صوبائی حکومت سبکدوش کر نے کے بعد گورنر راج ایک ایسا ناپسندیدہ مظہر ہے جس کی آئین میں گنجائش موجود ہونے کے باوجود اس کے نفاذ پر شادیانے نہیں بجائے جاسکتے۔ کسی صوبے میں وفاق کی طرف سے گورنر راج کا نفاذ اس لیے ناپسندیدہ عمل ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں عوام کی اکثریتی رائے سے منتخب کی گئی حکومت ختم کر کے حکمرانی کا حق عارضی طور پر غیر منتخب لوگوں کو سونپ دیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں اہم حکمران نہیں جنہیں عوام نے منتخب کیا بلکہ عوام ہیں جنہوں نے اپنے مفادات اور اپنی جان و مال کے تحفظ کی امیدیں وابستہ کر کے مخصوص لوگوں کو اپنے ووٹ کے ذریعے حق حکمرانی عطا کیا۔ منتخب لوگوں نے جس آئین پر مفاد عامہ کے تحفظ کا حلف اٹھایا اسی آئین میں یہ درج ہے کہ اگر کوئی صوبائی حکومت بیرونی جارحیت اور خلفشار پر قابو پانے اور امن و امان قائم کرنے میں ناکام رہے تو اس کے صوبے میں گورنر راج نافذ کیا جاسکتا ہے ۔ اس بات پر کوئی دو رائے نہیں کہ جس صوبے میں دہشت گرد بے قابو ہو کر مسلسل اپنی من مانیاں کرتے پھریں، وہاں ظاہر ہونے والے خلفشار کے لیے بیرونی جارحیت کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جس صوبے میں ایسے حالات ہوں اس کے لیے یہ سوچا ہی نہیں جاسکتا کہ وہاں دہشت گردی کا خاتمہ کیے بغیر امن و امان کا قیام اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ممکن ہو سکتا ہے۔
یہ بات کوئی راز نہیں کہ وفاق نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے لیے صوبائی حکومت کے تعاون سے انکار کو جواز بنا کر وہاں گورنر راج کے نافذ کیا۔ یہ بات بھی سب پر عیاں ہے کہ خیبر پختونخوا کے سبکدوش وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کھلے عام وفاق کو دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں تعاون دینے سے انکار کیا تھا۔ سہیل آفریدی کے وفاق کو دہشت گردوں کے خلاف تعاون سے انکار کے بعد کے پی کے میں گورنر راج کی آئینی حجتیں پوری ہونے کے لیے اب صرف یہ دیکھنا باقی رہ جاتا ہے کہ وفاقی حکومت نے جس وسیع پیمانے کی دہشت گردوں کی وارداتوں کے خیبر پختونخوا میں رونما ہونے کا ذکر کیا ہے، کیا وہاں حقیقت میں اتنے بڑے حجم میں دہشت گردی ہورہی ہیں یا یہ مبالغہ آرائی ہے۔
یہ ڈیٹا حکومت پاکستان نہیں بلکہ آزاد ذرائع کا جاری کردہ ہے کہ رواں برس 2026ء کے پہلے نو ماہ کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے کل 3100سے زیادہ واقعات رونما ہوئے۔ دہشت گردی کے ان واقعات میں سے قریباً 96فیصد خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے علاقوں میں رونما ہوئے۔ اگر صرف خیبر پختونخوا کی بات کی جائے تو دہشت گردی کے کل 3100واقعات میں سے 1971واقعات جو کل واقعات کا 63فیصد بنتے ہیں ، اس صوبے میں رونما ہوئے جس کے وزیر اعلیٰ نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں وفاق کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کیا۔ خیبر پختونخوا میں مارچ 2024 ء تا ستمبر 2026ء ، دہشت گردی کے واقعات میں گزشتہ برسوں کی نسبت 195فیصد اضافہ ہوا۔ ان کل واقعات میں سے 73فیصد واقعات کے دوران پولیس اور عسکری اداروں کے مراکز اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ گزشتہ تین ماہ ، جس دوران وفاق نے اس انتباہ کے ساتھ کہ اگر دہشت گردوں کے خلاف وسیع آپریش کے لیے تعاون نہ کیا گیا تو صوبے گورنر راج کا نفاذ ہو سکتا ہے ، خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کی وارداتوں میں 1702قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ سال 2009ء ، جب پورے ملک میں دہشت گردی عروج پر تھی اس کے بعد سال 2026ء کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے ہاتھوں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
یاد رہے کہ 2009ء وہ سال تھا جب پورے ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں کے دوران 11000سے زیادہ لوگوں کو قتل کیا گیا ۔ ملک میں مشرف دور میں شروع ہونے والی دہشت گردی نے سال 2008ء سے 2013ء تک جاری رہنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران اپنی انتہائوں کو چھوا تھا۔ اچھے اور برے طالبان کے ابہام کے اس دور میں دہشت گردوں نے ابتدا میں زیادہ تر درگاہوں، امارگاہوں ، مساجد اور سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس دوران پیپلز پارٹی کی حکومت نے سیکیورٹی اداروں کو دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن کے لیی مائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر کبھی تزویراتی گہرائی اور کبھی دہشت گردوں کی طرف سے سخت رد عمل کے امکان کو جواز بنا کران کے خلاف آپریشن سے گریز کیا جاتا رہا۔ اس رویے کے سبب دہشت گردوں کا حوصلہ اتنا بڑھا کہ انہوں نے کئی عسکری تنصیبات کو اپنا نشانہ بنانے کی بعد جون 2014ء میں جناح ائیر پورٹ کراچی پر بھی حملہ کر دیا۔ اس حملے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف اس آپریشن ضرب عضب کا فیصلہ کیا گیا جو بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ سال 2008 ء سے 2014ء کے دوران ملک میں ہر برس ، قریباً11000سے7000کے درمیان ہلاکتیں ہوتی رہیں ،لیکن آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد دہشت گردی کے واقعات کم ہونے سے 2018ء میں ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں سے چند سو تک آگئی۔
سال 2002ء میں خیبر پختونخواہ سے نکل کر اگلے چند برسوں کے دوران پورے ملک میں اپنا جال بچھانے والے جن دہشت گردوں کو آپریشن ضرب عضب نے اپنی کمین گاہوں میں چھپنے پر مجبور کیا تھا، وہ دہشت گرد اپنی جڑوں کے قلع قمع نہ کیے جانے کی وجہ سے دوبارہ ا س قدر فعال ہوچکے ہیں کہ اگر ان کے خلاف سخت آپریشن نہ کیا گیا تو وہ پھر سے وسیع پیمانے پر اسی طرح پورے ملک میں ہماری درگاہوں، امام بارگاہوں ، مساجد ، درسگاہوں اور چوک چوراہوں کو نشانہ بنائیں گے جس طرح پہلے بناتے رہے۔ ماضی میں دہشت گردی کے واقعات میں استعمال ہونے والے سرمائے کی نقل و حمل نہ روکنے کا الزام لگا کر پاکستان کو FATFکی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ اگر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نہ کیا گیا تو ہمارے ساتھ اندرونی و بیرونی طور پر پھر وہی ہو سکتا ہے جو پہلے ہو چکا ہے۔ جو لوگ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں نہ تعاون کرنے والی کے پی کے کی منتخب حکومت کی سبکدوشی اور گورنر راج کے نفاذ پر پھبتیاں کس رہے ہیں اور فتوے دے رہے ہیں انہیں بیان کردہ باتوں کو ضرور مد نظر رکھنا چاہیے۔







