گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں ترقی اور معدنی وسائل سے استفادے کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہے لہٰذا معدنیات نکالنے کے لیے ہیں ہم انہیں نکالیں گے اور فروخت بھی کریں گے۔
پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ سابق حکومت کے بعض مفرور عناصر سرحد پار بیٹھ کر لوگوں کو اکسا رہے ہیں، خیبرپختونخوا کی سابق حکومت کے فیصلے اسلام آباد کے بجائے کابل اور قندھار سے آتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشتگردوں کو دوبارہ آباد کیا گیا،جنہوں نے اب پھر ہتھیار اٹھا لیے ہیں، افغانستان سے لوگوں کو لا کر صوبے میں آباد کیا گیا، صوبے میں امن کے قیام پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف لڑیں گے اور پاکستان کے آئین اور قانون کو نہ ماننے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، بلوچستان میں بھی بی ایل اے سمیت مختلف دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کے گورنر راج سے متعلق مؤقف سے اتفاق نہیں کرتا، مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ وہ اپنے علاقے میں گھوم پھر نہیں سکتے، ان کے مطابق صوبائی حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکی تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ صوبائی حکومت امن و امان کے قیام کے لیے کوششیں نہیں کررہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے خطاب سے مایوسی ہوئی، مولانا کہتے تھے کہ ان کے بغیر کوئی حکومت نہ بنتی ہے نہ چلتی ہے لیکن میں انہیں کہتا ہوں کہ ان کے بغیر بھی خیبرپختونخوا کی حکومت بنی ہے اور چلتی رہے گی۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے سوال کیا کہ لکی مروت، ٹانک اور بنوں میں کون سے پہاڑ اور معدنی وسائل موجود ہیں، صوبے میں ترقی اور معدنی وسائل سے استفادے کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہے، صوبے کے عوام امن، خوشحالی اور ترقی چاہتے ہیں، معدنی وسائل کو بروئے کار لانا ضروری ہے، معدنیات نکالنے کے لیے ہیں، ہم انہیں نکالیں گے اور فروخت بھی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی کمپنیاں، پاکستانی کمپنیاں اور خیبرپختونخوا حکومت مشترکہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کرسکتی ہیں، میں مولانا فضل الرحمان کو دعوت دیتا ہوں کہ صوبے میں امن اور خوشحالی کے لیے ہمارا ساتھ دیں







