تازہ ترینخبریںسیاسیاتپاکستان

آبنائے ہرمز کی بحالی امریکی انخلا سے مشروط ہے: ایرانی فوج

ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنا خطے سے امریکی انخلا سے مشروط ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی افواج خطے میں موجود رہیں تو انھیں وہاں سے نکال دیا جائے گا۔

 

جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا: ’اگر امریکہ خطہ چھوڑ دے تو آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، خطے کے ممالک کی شراکت سے اجتماعی سلامتی قائم ہو گی اور عالمی معیشت بہتر ہو گی۔ اگر امریکہ نہ گیا تو ہم اسے نکال دیں گے۔‘

 

ایرانی فوج کے ترجمان نے امریکہ کو آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیا اور جہاز مالکان سے کہا کہ وہ اس آبی گزر گاہ سے گزرتے وقت ایرانی مسلح افواج کے مقرر کردہ راستے استعمال کریں۔

 

ان کا دعویٰ تھا کہ اس راستے سے گزرنے والے جہاز محفوظ رہیں گے۔

 

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس اہم آبی گزر گاہ سے جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

 

جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ہفتے کے اختتام پر سنیچر کے روز صرف پانچ سامان بردار جہازوں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی، جبکہ اتوار کو کسی جہاز کی آمد و رفت ریکارڈ نہیں ہوئی۔ اس سے ایک ہفتہ قبل یہ تعداد 31 تھی۔

 

دوسری جانب امریکہ ایران کی تیل برآمدات کے خلاف اپنی بحری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے توانائی کے شعبے کی معلومات فراہم کرنے والی کمپنی ورٹیکسا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اکتوبر میں سمندری راستے سے ایرانی خام تیل کی برآمدات، رپورٹ شائع ہونے تک، صفر تک پہنچ گئی تھیں۔

 

تہران اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کا انحصار امریکہ کے ساتھ تنازع ختم کرنے کے لیے ایران کی شرائط پوری ہونے پر ہے۔ ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی

جواب دیں

Back to top button