پاکستان کس سمت جا رہا ہے؟

پاکستان کس سمت جا رہا ہے؟
تنظیم الحسن باٹھ
پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں چیلنجز بھی بے شمار ہیں اور امکانات بھی کم نہیں۔ ایک طرف معاشی مشکلات، مہنگائی، بجلی و گیس کے بڑھتے ہوئے اخراجات، روزگار کے محدود مواقع اور عوامی بے چینی نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے، تو دوسری طرف عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال نے پاکستان کے لیے نئے معاشی اور سفارتی سوالات پیدا کر دئیے ہیں۔ ایسے حالات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنی ترجیحات کیا طے کرتے ہیں؟۔
پاکستانی معیشت نے گزشتہ عرصے میں شدید دبائو کے بعد کسی حد تک استحکام حاصل کیا ہے، لیکن یہ استحکام ابھی پائیدار معاشی ترقی میں تبدیل نہیں ہوا۔ ملک آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط اور ساختی اصلاحات پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ ستمبر2026ء میں آئی ایم ایف کا ایک اور جائزہ متوقع ہے، جس میں مالیاتی اہداف، ٹیکس وصولیوں اور اصلاحاتی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
مسئلہ یہ ہے کہ معاشی اعداد و شمار اور عام آدمی کا تجربہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اگر حکومت معاشی استحکام کی بات کرتی ہے تو ضروری ہے کہ اس استحکام کے ثمرات عام شہری تک بھی پہنچیں۔ بجلی کے بل، پٹرول، گیس، خوراک، تعلیم، علاج اور رہائش کے اخراجات ایک متوسط اور کم آمدنی والے خاندان کے لیے بنیادی سوال بن چکے ہیں۔ حالیہ شہری سروے میں بھی قرضوں، بجلی و گیس کے اخراجات اور مہنگائی کو عوام کی بڑی پریشانیوں میں شمار کیا گیا۔
دوسری طرف عالمی حالات نے پاکستان کی معاشی مشکلات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں اور سپلائی کے بارے میں خدشات بڑھے ہیں۔ پاکستان نے سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں کمی، نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر پابندی اور بعض غیر ضروری اخراجات محدود کرنے جیسے کفایتی اقدامات بھی کیے ہیں۔
یہ صورتحال ہمیں ایک بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے: پاکستان کی معیشت عالمی حالات سے الگ نہیں رہ سکتی۔ ہم تیل درآمد کرتے ہیں، عالمی منڈیوں سے جڑے ہوئے ہیں اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی بھی ہماری مالی منصوبہ بندی کا اہم حصہ ہے۔ چنانچہ دنیا میں پیدا ہونے والی کسی بڑی معاشی یا جغرافیائی سیاسی تبدیلی کے اثرات پاکستان تک پہنچنا ناگزیر ہیں۔ لیکن ہر مسئلے کا ذمہ دار صرف بیرونی دنیا کو قرار دینا بھی درست نہیں۔ ہماری اپنی ساختی کمزوریاں بھی موجود ہیں۔ ٹیکس کا محدود دائرہ، سرکاری اداروں کی کم کارکردگی، برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونا، توانائی کے شعبے کے مسائل، پالیسیوں کا تسلسل نہ رہنا اور انسانی وسائل میں ناکافی سرمایہ کاری وہ مسائل ہیں جنہیں کسی ایک حکومت کے دور تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کو مختصر مدت کے سیاسی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی قومی معاشی پالیسی کی ضرورت ہے۔
سب سے اہم مسئلہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کا ہے۔ ریاست کی طاقت صرف قانون، اختیار اور وسائل میں نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد میں بھی ہوتی ہے۔ جب شہری یہ محسوس کریں کہ ان کے مسائل سنے نہیں جا رہے، ان کے ٹیکس کا مناسب استعمال نہیں ہو رہا یا ریاستی نظام عام آدمی کو سہولت دینے کے بجائے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے تو اعتماد کمزور ہوتا ہے۔
اس اعتماد کی بحالی کے لیے سب سے پہلے شفافیت ضروری ہے۔ حکومت کو عوام کے سامنے واضح طور پر بتانا چاہیے کہ قومی وسائل کہاں خرچ ہو رہے ہیں، قرض کہاں استعمال ہو رہا ہے، ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات کیا ہیں اور ٹیکس دینے والے شہری کو ریاست بدلے میں کیا سہولت فراہم کر رہی ہے۔ اسی طرح احتساب کا نظام بھی ایسا ہونا چاہیے جو شخصیات کے بجائے ادارہ جاتی اصولوں پر قائم ہو۔
پاکستان کا ایک اور بڑا مسئلہ توانائی ہے۔ بجلی اور گیس کے نرخ صرف گھریلو بجٹ کو متاثر نہیں کرتے بلکہ صنعت، زراعت اور تجارت کی پیداواری لاگت بھی بڑھاتے ہیں۔ اگر ہم روزگار پیدا کرنا چاہتے ہیں تو کاروبار اور صنعت کے لیے قابلِ پیش گوئی توانائی، مناسب ٹیکس پالیسی اور آسان کاروباری ماحول ضروری ہے۔ صرف قرض لے کر معیشت چلانے کے بجائے ہمیں ایسی معیشت بنانا ہوگی جو برآمدات، پیداوار، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی آمدنی میں اضافہ کرے۔زراعت بھی ہماری قومی ترجیحات میں سب سے اوپر ہونی چاہیے۔ پاکستان کی معیشت اور دیہی زندگی کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے، مگر موسمیاتی تبدیلی نے کسان کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔ سیلاب، شدید گرمی، پانی کی قلت اور غیر متوقع بارشیں زرعی پیداوار کو متاثر کر رہی ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹس بھی پاکستان کو سیلاب، گرمی کی لہروں اور گلیشیئر پگھلنے جیسے موسمیاتی خطرات سے شدید متاثرہ ملک قرار دیتی ہیں۔
اس لیے موسمیاتی تبدیلی کو صرف ماحولیات کا مسئلہ سمجھنا بڑی غلطی ہوگی۔ یہ معیشت، خوراک، پانی، صحت، ہجرت اور قومی سلامتی کا مسئلہ بھی ہے۔ ہمیں ایسے ترقیاتی منصوبے بنانے ہوں گے جو موسمیاتی خطرات کو پہلے سے مدنظر رکھیں۔ سیلابی علاقوں میں ناقص تعمیرات، شہروں میں نکاسی آب کے مسائل اور پانی کے غیر موثر استعمال جیسے معاملات کو محض ہنگامی بنیادوں پر نہیں بلکہ مستقل پالیسی کے تحت حل کرنا ہوگا۔
خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی پاکستان کو توازن، خودمختاری اور قومی مفاد کو بنیادی اصول بنانا ہوگا۔ چین، امریکہ، خلیجی ممالک، یورپ اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ تعلقات پاکستان کے لیے اہم ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان نے چین کے ساتھ کرنسی سواپ انتظام میں توسیع اور امریکہ سے مالی سہولت کے امکانات پر بھی بات کی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشی سفارت کاری اب قومی معیشت کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ قومیں صرف حکمرانوں سے نہیں بنتیں۔ ایک ذمہ دار شہری، ایک ایماندار سرکاری افسر، ایک محنتی استاد، ایک دیانت دار تاجر، ایک ذمہ دار صحافی اور ایک باصلاحیت طالب علم بھی ملک کی تعمیر میں برابر کا کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کے مسائل بہت بڑے ہیں، مگر ہماری انسانی صلاحیتیں بھی کم نہیں۔
آج ہمیں سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے اختلافِ رائے کو جمہوری عمل کا حصہ بنانا ہوگا۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اقتدار عارضی ہے لیکن ریاست مستقل ہے۔ اداروں کا احترام، قانون کی بالادستی، میرٹ، شفافیت اور پالیسیوں کا تسلسل کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مفاد ہے۔موجودہ حالات ہمیں ایک موقع بھی فراہم کر رہے ہیں۔ اگر معاشی استحکام کو حقیقی اصلاحات کے ساتھ جوڑ دیا جائے، ٹیکس نظام کو وسیع اور منصفانہ بنایا جائے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں، نوجوانوں کو جدید تعلیم اور ہنر دیا جائے، زراعت کو ٹیکنالوجی سے جوڑا جائے اور موسمیاتی خطرات کو قومی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے تو پاکستان اپنے مسائل سے نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ پاکستان کے حالات مشکل کیوں ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان مشکلات سے کیا سبق سیکھتے ہیں۔ تاریخ میں کوئی ملک ہمیشہ بحران میں نہیں رہتا، لیکن بحران سے نکلنے کے لیے قومی ارادہ، مستقل پالیسی اور اجتماعی ذمہ داری ضروری ہوتی ہے۔ پاکستان کو آج نعروں سے زیادہ نظام کی بہتری، شخصیات سے زیادہ اداروں، وقتی فیصلوں سے زیادہ مستقل پالیسی اور سیاسی کشمکش سے زیادہ قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔ یہ ملک ہمارے لیے صرف ایک جغرافیہ نہیں، ہماری شناخت، ہماری ذمہ داری اور ہماری آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی ترجیحات درست کر لیں تو موجودہ مشکلات کل کی طاقت بن سکتی ہیں۔





