
یمن میں عرب مشترکہ فورسز کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی ناپاک کوشش کی۔
ریاض میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترکی المالکی نے کہا کہ حوثی ملیشیا نے شہری تنصیبات پر دہشت گردی کا ارتکاب کیا، حوثی ملیشیا کے حملے علاقائی اور بین الاقوامی امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ مقدس مقامات پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی کوششیں ان کے ناپاک عزائم کو ظاہر کرتی ہیں، حوثی ملیشیا کے ہوائی اڈوں پر حملے ہزاروں عام شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش تھی۔
میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ یمن میں کیے جانے والے فوجی آپریشن کا مقصد حوثی باغیوں کے حملوں کو روکنا ہے، ریاض کے ایئر پورٹ پر حوثی ملیشیا کے حملے میں 17 بے گناہ شہری جاں بحق اور 330 زخمی ہوئے۔
ترجمان نے کہا کہ عرب فوجی اتحاد نے یمن میں آپریشن کرکے حوثی ملیشیا کے 127 ہتھیاروں کے گودام اور میزائل لانچنگ پیڈ تباہ کیے۔ حوثی باغیوں نے یمن کے صنعا، صعدہ اور عمران علاقوں کے پہاڑوں میں ہتھیاروں کے گودام بنا رکھے ہیں۔
ترجمان نے کہا حوثی ملیشیا نے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر 20 سے زائد حملے کیے۔
میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثی ملیشیا کے پاس بیلسٹک اور کروز میزائلوں سمیت ڈرون طیارے اور خودکش کشتیاں ہیں، حوثی ملیشیا یمنی شہریوں اور وسائل کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عرب مشترکہ فورسز صنعا کے پہاڑوں میں قائم بیلسٹک میزائلوں کا گودام تباہ کرنے میں کامیاب رہیں







