Column

خود کو نہ کھائیں

خود کو نہ کھائیں!
تحریر: عابد ضمیر ہاشمی
ہم بظاہر ترقی، اخلاقیات اور مثبت اقدار کی بات کرتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں بعض اوقات ہماری ترجیحات دوسروں کو نیچا دکھانے، ان کی کامیابیوں پر سوال اٹھانے اور ان کی خوشیوں کو مشکوک بنانے تک محدود ہوکر رہ جاتی ہیں۔ یہ محض چند افراد کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسا سماجی رویہ ہے جو رفتہ رفتہ ہمارے اجتماعی مزاج کا حصہ بنتا جارہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہم دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا کیوں بھول گئے ہیں؟ کسی کو کامیابی ملے تو ہمارے دل میں اس کے لیے دعا کے بجائے حسد کیوں پیدا ہوتا ہے؟ کوئی اپنی محنت، قابلیت اور مستقل مزاجی سے آگے بڑھے تو ہم اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے پر کیوں آمادہ ہوجاتے ہیں؟ کیا ہم نے کامیابی کو ایک ایسا محدود سرمایہ سمجھ لیا ہے جس میں کسی دوسرے کا حصہ بڑھنے سے ہمارا حصہ کم ہوجاتا ہے؟۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کسی دوسرے کی کامیابی ہماری ناکامی نہیں، کسی کی عزت ہماری بے عزتی نہیں اور کسی کی خوشی ہماری محرومی کا اعلان نہیں۔ اس کے باوجود ہم نے اپنی سوچ کو ایسی تنگ گلی میں قید کرلیا ہے جہاں دوسروں کی ترقی ہمیں اپنی پسماندگی محسوس ہونے لگتی ہے۔
معاشرے میں جب کوئی نوجوان محدود وسائل کے باوجود تعلیم حاصل کرکے نمایاں مقام حاصل کرتا ہے، کوئی لکھاری اپنی تحریروں کے ذریعے پہچان بناتا ہے، کوئی استاد اپنی قابلیت سے عزت کماتا ہے یا کوئی عام انسان مسلسل محنت کے بعد کامیابی کی منزل تک پہنچتا ہے تو اصولی طور پر اس کی جدوجہد دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بننی چاہیے۔ اس کی کامیابی سے یہ پیغام ملنا چاہیے کہ محنت، عزم اور مستقل مزاجی انسان کو مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ بعض حلقوں میں کامیابی کو تسلیم کرنے کے بجائے کامیاب انسان کی ذات، نیت اور کردار کو موضوعِ بحث بنا لیا جاتا ہے۔
اس کی محنت کو سفارش کا نتیجہ، اس کی قابلیت کو اتفاق اور اس کی کامیابی کو کسی پوشیدہ تعلق کا ثمر قرار دینے میں دیر نہیں لگائی جاتی۔ یوں ایک انسان کی برسوں کی جدوجہد چند لمحوں کی بدگمانی کی نذر ہوجاتی ہی۔ یہ رویہ نہ صرف انفرادی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اجتماعی سطح پر بھی صلاحیتوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں کامیابی حاصل کرنے والے افراد کو مبارک باد دینے کے بجائے ان کے خلاف محاذ آرائی کا سامنا کرنا پڑے تو وہاں نئے خواب دیکھنے والوں کے حوصلے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ نوجوان یہ سوچنے لگتے ہیں کہ اگر کامیابی کے بعد بھی کردار کشی، مخالفت اور بے جا تنقید ہی مقدر بننی ہے تو پھر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا فائدہ کیا ہے؟۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حسد محض ایک انفرادی کمزوری نہیں رہتا، بلکہ معاشرتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ تعمیری تنقید اور ذاتی عناد دو الگ چیزیں ہیں۔ کسی کی غلطی کی نشاندہی کرنا، اس کے موقف سے اختلاف کرنا اور اصلاح کی ضرورت پر بات کرنا معاشرتی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ لیکن اختلاف کی آڑ میں تضحیک، بہتان، کردار کشی اور کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ تنقید کا مقصد اصلاح ہو تو معاشرہ بہتر ہوتا ہے، لیکن جب اس کے پیچھے کسی کو ذلیل کرنے یا اس کی ترقی روکنے کی خواہش کارفرما ہو تو وہ اصلاح نہیں، ذاتی مخاصمت بن جاتی ہے۔
بدقسمتی سے ہم نے بعض اوقات اپنی انا کو اصول، اپنے حسد کو غیرت اور اپنی مخالفت کو حق گوئی کا نام دے رکھا ہے۔ ہم دوسروں کی خامیاں بیان کرتے ہوئے اپنی کمزوریوں کا جائزہ لینا بھول جاتے ہیں۔ ہمیں دوسروں کی ترقی پر اعتراض تو ہوتا ہے، لیکن اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے درکار محنت اور خود احتسابی سے گریزاں رہتے ہیں۔
یہ طرزِ فکر انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ حسد کرنے والا شخص بظاہر دوسرے کی کامیابی سے پریشان ہوتا ہے، مگر درحقیقت وہ اپنے ذہنی سکون کو بھی دائو پر لگا رہا ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کی زندگیوں پر نظر رکھتے رکھتے اپنی زندگی کے امکانات سے غافل ہوجاتا ہے۔ اس کی توانائی تعمیر کے بجائے تخریب پر صرف ہونے لگتی ہے اور یوں جس شخص کو وہ پیچھے چھوڑنا چاہتا ہے، اس سے پہلے خود اپنی اخلاقی بلندی کھو بیٹھتا ہے۔
ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ وہاں اختلاف موجود نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہے کہ وہاں اختلاف کے باوجود احترام باقی رہتا ہے۔ وہاں لوگ ایک دوسرے کی کامیابی سے سیکھتے ہیں، کمزوریوں کی اصلاح کرتے ہیں اور باصلاحیت افراد کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں کامیابی کسی ایک فرد کی ذاتی خوشی تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اجتماعی امید اور حوصلے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
زندگی محدود ہے اور وقت مسلسل گزر رہا ہے۔ اس مختصر مہلت کو دوسروں سے جلنے، ان کے خلاف منصوبے بنانے اور ان کی خوشیوں پر ماتم کرنے میں ضائع کر دینا دانش مندی نہیں۔ ایک دن عہدے، شہرت، دولت اور دنیاوی مقابلے پیچھے رہ جائیں گے، لیکن ہمارا کردار اور دوسروں کے ساتھ ہمارا برتائو لوگوں کی یادوں میں باقی رہے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم خود سے یہ سوال کریں کہ ہم نے اپنی زندگی میں کتنے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی، کتنے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی اور کتنی مرتبہ اپنی انا سے بلند ہوکر کسی دوسرے کی کامیابی کو تسلیم کیا۔
آخر میں بات صرف اتنی ہے کہ ہم دوسروں کو گرانے کے جنون میں اپنی ذات کو تباہ نہ کریں۔ کسی کی روشنی بجھانے سے ہمارا اندھیرا ختم نہیں ہوگا، کسی کی عزت اچھالنے سے ہماری عزت میں اضافہ نہیں ہوگا اور کسی کی خوشی چھیننے سے ہماری زندگی خوش گوار نہیں بن جائے گی۔
خود کو نہ کھائیں! اپنی توانائی حسد کے بجائے محنت، مخالفت کے بجائے تعمیر اور نفرت کے بجائے خیرخواہی پر صرف کریں۔ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں، ان کی کامیابیوں سے سبق سیکھیں اور جہاں ممکن ہو، ان کے راستے کا سہارا بنیں۔
یاد رکھیے! دوسروں کو گرانے والے وقتی طور پر مطمئن ہوسکتے ہیں، مگر تاریخ اور دلوں میں جگہ وہی بناتے ہیں جو دوسروں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ خود کو نہ کھائیے، خود کو سنواریے، دوسروں کو نہ گرائیے، معاشرے کو اٹھائیے۔ یہی انفرادی اصلاح اور اجتماعی ترقی کا راستہ ہے۔ حسد، رقابت اور دوسروں کو گرانے کی دوڑ میں اپنا سکون برباد کرتا معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔

جواب دیں

Back to top button