جنوں، سرنگوں اور نسق نو کی پہلی تجربہ گاہ

جنوں، سرنگوں اور نسق نو کی پہلی تجربہ گاہ
عبد الحنان راجہ
پی ٹی آئی کو خود فریبی کے سراب سے باہر نکل کر یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ گزشتہ تین سال میں اس نے تصادم کی راہ پر چل کر کارکنان و قائدین کو پابند سلاسل اور اپنی عوامی طاقت کے ضیاع کے سوا اور کیا کیا۔ 13سالہ حکومت کے باوجود گورننس میں نام کمایا نہ تنظیمی نظام قابل رشک جبکہ سوشل میڈیا ونگ کی وجہ سے پاکستانی دشمنی تک کا طعنہ الگ، بغیر مزاحمت صوبہ ہاتھ سے جانے کے بعد اب PTIکو نہ صرف دائر مقدمات میں گرفتاریوں کا سامنا تو ہو گا ہی مگر دو نقصانات الگ، اولا مقبولیت کا زعم ٹوٹ گیا اور طاقت کا وہ بھرم کہ جس نے مخالف جماعتوں سمیت مقتدرہ کو بھی انجانے خوف میں مبتلا کر رکھا تھا۔ دوسرا انتخابات ( جب اور جس نظام کے تحت بھی ہوئے) میں دھاندلی کا رونا بھی ختم ہوا۔ ناکام احتجاج اور غیر موثر حکمت عملی نے 09مئی اور 24نومبر تک کے کیسز کا راستہ بھی کھول دیا۔
اب حکومت کسی قسم کی رعایت کے موڈ میں نہیں کہ پی ٹی آئی کی نفسیاتی برتری کے زیر سایہ انہوں نے بہت وقت گزار لیا۔ شنید ہے کہ KPمیں اسمگلروں، دہشت گردی منشیات فروشی کا سیاسی گٹھ جوڑ منظر عام پر لائے جانے کے فیصلے کے ساتھ ساتھ منرل اینڈ مائنز میں پیسہ بنانے اور کرپشن بالخصوص 2018ء سے اب تک کے بڑے کیسز کھلنے کو تیار۔ دہشت گردی پر قابو پانے اور خفیہ اطلاعات کے نیٹ ورک کی مضبوطی کے لیے CTDسمیت پولیس کو منظم اور مضبوط کیے جانے کا سلسلہ شروع بھی ہو چکا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اتنی بڑی عوامی جماعت کا طلسم اتنی جلدی ٹوٹنے کا یہ حیرت انگیز واقعہ، وجہ قائد کی انتہا پسندانہ پالیسی، خبط عظمت کے تحت ہر جگہ غیر ضروری محاذ آرائی اور ناقص حکمت عملی کہ جس کا متعدد بار ان سطور میں کیا بھی۔ دوسرے و تیسرے درجہ کی قیادت کو بلاوجہ مطعون کیا جا رہا ہے جبکہ حقیقت تو یہ کہ وہ قائد کی مرضی کے برعکس وہ مذاکرات کی راہ کیسے اپناتے اور سیاسی بصیرت و دانش کا مظاہرہ کیسے کرتے۔؟ اتنے اہم صوبے کے لیے جس کا انتخاب سہیل آفریدی ہوں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے لیے جن کی نظر محترم اچکزئی پر ٹھہرے اور سینیٹ میں راجہ ناصر عباس پر تو ایسے قائد کی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں۔ لمحہ فکریہ ! ن لیگ کے لیے کہ 13سال سے برسراقتدار جماعت کی مقبولیت کا سورج اگر یکایک ڈوب سکتا ہے تو انہیں عبرت پکڑنی چاہیے، کہ اختیار، حکومت، طاقت اور مقبولیت اللہ کی امانت اور تکبر سے بچتے ہوئے حق ادا کرنے میں ہی عافیت۔
سوچنا بنتا ہے کہ وہ کون سے عوامل کہ حکومت اور بے پناہ وسائل کے باوجود وزیر اعلیٰ 10ہزار افراد کو بھی قائد کی رہائی کے لیے نہ نکال سکے؟۔ پارٹی کے 50سے زائد وزرا و مشیران اور 91ممبران اسمبلی کہاں غائب، کنٹینر ممبران اسمبلی سے کیوں خالی رہا اور پنڈال عوام سے۔ وزیر اعلیٰ کے پنجاب اور سندھ کے طوفانی دورے شرکا کے لیے بہترین ناشتے اور کھانے کے انتظامات کیوں ضائع ہوئے ؟۔ ادھر جھوٹی ویڈیوز اور فیک نیوز پی ٹی آئی کی پراپیگنڈا مہم کا خاصہ رہا کہ ماضی میں وہ اس کا بھرپور استعمال کر کے نتائج حاصل کرتے رہے مگر اب کی بار شام، سندھ اور جلائو گھیرائو کی پرانی ویڈیوز بھی کام نہ آئیں کہ جنہیں دیکھ کر KPکے کارکنوں میں حرارت پیدا ہوتی۔ ہر غیر جانبدار تجزیہ نگار اس پر متفق کہ منافقین اور جھوٹے ہوٹیوبرز PTIکے مخلص کارکنان کے جذبات سے کھیلتے اور ڈالر کماتے رہے جبکہ قیادت بھی ان کے ہاتھوں یرغمال رہی۔
اب جہاں PTIکے لیے کٹھن مرحلہ شروع تو مقتدرہ کے مجوزہ نظام کا امتحان بھی کہ شورش زدہ علاقوں میں ان کی قائم کردہ کونسل بہترین صلاحیتیں دکھا پاتی ہے تو KPانتظامی یونٹس کے قیام کا نکتہ آغاز ثابت ہو سکتا ہے خوش آئند کہ کونسل باصلاحیت اور کہنہ مشق افراد پر مشتمل اگر دیانت داری اور غیر جانبداری کو مقدم رکھا گیا تو نتیجہ خیزی مشکل نہیں۔
خبر یہ بھی ہے کہ اسلام آباد کو سومنات بنانے والے جنید غزنوی اور 40لاکھ کے لشکر کے ساتھ اسلام آباد آنے والے آفریدی رعایت کی صورت میں آمادہ بر تعاون مگر اب تیر کمان سے نکل چکا کہ آخری روز کابینہ میٹنگ کے دوران بھی وزیر داخلہ نے بیرسٹر گوہر سے رابطہ پر میٹنگ چھوڑ کر PTIکو معاملات سدھارنے کا موقع دیا مگر اس وقت سہیل آفریدی اور ان کی صوبائی قیادت ہوا کے گھوڑے پر سوار آخر کار چیئرمین PTIکی جانب سے ہاتھ کھڑے کر دینے کے بعد انتہائی اقدام اٹھایا گیا۔ سہیل آفریدی سمیت سلمان راجہ اور دیگر سخت گیر دھڑا آخر وقت تک اس خوش فہمی میں رہا کہ ایمرجنسی کی صورت میں پورے صوبے میں آگ بھڑک اٹھے گی اور یہ خدشہ کسی حد تک وفاق سمیت مقتدرہ کو بھی تھا مگر PTIکو سخت دھچکا تو لگا ہی مگر وفاقی حکومت بھی پرامن انتقال اختیارات پر حیران و پریشاں اور مطمئن۔
اب پاکستان تحریک انصاف سیاسی قوت سے سیاسی حقیقت میں بدل چکی،2011ء سے سر چڑھ بولنے والا جنون اب سرنگوں ہو چکا، اب اس کی بقا کا انحصار اس کے رویہ پر۔







