Columnمحمد مبشر انوار

دہشت گردی یا ۔۔۔

دہشت گردی یا ۔۔۔

محمد مبشر انوار

تحریک انصاف کا لانگ مارچ، گورنر راج اور ایمرجنسی کے جھٹکے میں ختم ہو گیا، گو کہ اس سے قبل مولانا فضل الرحمان نے اپنی کوششیں کی اور عوام کو یہ خوش خبری بھی سنائی کہ معاملات جلد طے ہو جائیں گے، مگر افسوس کہ یہ ہو نہ سکا اور لانگ مارچ کی قیادت کو جھانسے سے گرفتار کر لیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے اس اقدام پر نہ صرف غم و غصہ کا اظہار کیا بلکہ اس اقدام کی سخت مخالفت کی ہے۔ اپنی پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا کہ حکومت کے ساتھ معاملات طے ہو چکے تھے، اور فریقین اصولی طور پر متفق ہو چکے تھے، کہ ایک طرف لانگ مارچ ختم ہو گا اور دوسری طرف حکومت تحریک انصاف کے رہنمائوں کی نہ صرف ملاقات عمران خان سے کروائی جائیگی بلکہ عمران خان کو علاج کے لئے ہسپتال بھی منتقل کیا جائے گا، جبکہ پہلے آپ، پہلے آپ کا فیصلہ مولانا فضل الرحمان کریں گے۔ مطلب یہ تھا کہ معاملات کو کس طریقہ سے معمول کے مطابق لایا جائیگا، اس کا فیصلہ مولانا کریں گے، یعنی پہلے لانگ مارچ منسوخ ہو گا یا حکومت عمران خان سے ملاقات کروائے گی، اور انہیں ہسپتال منتقل کرے گی، طریقہ کار طے کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی اور حکومت نے گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر دی۔ طریقہ کار طے کرنے کے حوالے سے ہی مولانا نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ وزیر اعلیٰ کے پی سے بھی ملاقات کریں گے، اور اسی سلسلے میں وہ پشاور جا کر وزیر اعلیٰ کے پی سے بالمشافہ ملاقات کریں گے، اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی وزیر اعلیٰ کے پی،لانگ مارچ چھوڑ کر پشاور گئے، اور جب حکومت کو یہ یقین ہو گیا کہ وزیر اعلیٰ لانگ مارچ چھوڑ کر پشاور میں موجود ہیں، ان کے ساتھ عوام نہیں ہیں تو فوری عمل کرتے ہوئے گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرکے، وزیر اعلیٰ اور دیگر اکابرین کو گرفتار کر کے، لانگ مارچ کو غیر موثر کر دیا گیا، جسے مولانا اپنے ساتھ دھوکہ یا بے ایمانی سے تعبیر کر رہے ہیں اور حکومت کی اس بدعہدی کے خلاف دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف حکومت کی جانب سے رانا ثناء اللہ نے مولانا کے اس موقف کو ان کی غلط فہمی سے منسوب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ ان امور پر گفتگو تو حکومت اور اپوزیشن میں تین روز تک چلتی رہی اور حکومت کا موقف شروع سے ہی یہی تھا کہ تحریک انصاف پہلے اپنا لانگ مارچ غیر مشروط طریقے سے ختم کرے، جبکہ باقی معاملات پر گفتگو بعد ہو گی پھر کس طرح وزیر اعظم ایسی کوئی یقین دہانی مولانا کو کروا سکتے ہیں۔ یہی وہ وجہ تھی کہ حکومت کو انتہائی اقدام اٹھانا پڑا۔ ایک منتخب حکومت کو ، اختلاف رائے کی وجہ سے، حق حکومت چھین لیا گیا، جبکہ اس انتہائی اقدام سے قبل ہی حکومتی وزراء کی دوسری ٹیم نے زور و شور سے تحریک انصاف کا تعلق دہشت گردوں سے جوڑنا شروع کر دیا۔ وفاقی وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات اور وزیر مملکت برائے داخلہ کی جانب سے زور و شور کے ساتھ یہ باتیں دہرائی جارہی ہیں کہ تحریک انصاف کا تحریک طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ موجود ہے، تحریک انصاف طالبان کی سہولت کار ہے اور ان کی مدد کرتی ہے۔ وزیر مملکت اس سے ایک قدم اور آگے گئے اور کہا کہ کے پی میں دہشت گردی کے واقعات ہوتے ہیں مگر تحریک انصاف پر دہشت گرد حملہ نہیں کرتے جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں پر دہشت گردانہ حملے کئے جاتے ہیں، اس بیان سے نجانے کیا وزیر مملکت کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس حقیقت سے قطعی انکار نہیں کہ جہاں دیگر سیاسی جماعتوں پر حملے ہوئے، وہیں تحریک انصاف بھی اس سے متاثر ہوئی ہے اور وزیر مملکت کو ایسا بیان دینے سے گریز کرنا چاہئے تھا۔ یا وہ یہ چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف پر بھی ایسے دہشت گردانہ حملے ہوں؟۔ کیا وہ اس طرح تحریک انصاف کی قیادت و کارکنوں کو بھی اس دہشت گردی کی بھینٹ چڑھانا چاہتے ہیں؟۔ دوسری طرف کے پی کے وزیراعلیٰ نے لانگ مارچ کے دوران واضح طور پر کہا کہ اگر ان کی پالیسی پر عمل کیا جائے تو وہ سو دنوں میں امن قائم کر سکتے ہیں، کے پی وزیر اعلی ایسی کسی بھی پالیسی کو نافذ کرنے سے گریزاں تھے، جو یکطرفہ اور بغیر مشاورت کے نافذ کی جاتی، جس میں صوبے کے مفادات و تحفظات کو مد نظر نہ رکھا جاتا ۔ اگر وفاقی حکومت واقعی صوبے میں امن و امان کے حوالے سے سنجیدہ تھی اور ہے تو اس ایک مطالبے میں ایسی کوئی بات نہیں تھی، جس کو تسلیم نہ کیا جاتا اور صوبائی حکومت سے مل بیٹھ کر معاملات طے نہ کئے جاتے۔ البتہ وزیر اعلیٰ کے پی کی جانب سے ایسی کسی پالیسی کو وفاق کے ساتھ شیئر نہیں کیا گیا تاہم یہ ضرور کہا گیا کہ جو امن جرگے کی تجاویز ہیں، دہشت گردی کے خلاف پالیسی بناتے وقت یا ایکشن کرتے وقت ان کو ملحوظ رکھا جائے، جس کو وفاقی حکومت کی جانب ے تسلیم نہیں کیا گیا۔
بہرحال لانگ مارچ میں شرکاء کی وہ بڑی تعداد، جو دکھائی دیتی تھی اور توقع تھی کہ شرکاء کسی بھی ایسے اقدام کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے اور شدید احتجاج کرتے دکھائی دیں گے، وہ نہیں ہو سکا کہ قیادت غائب ہونے کے بعد، عوام کی رہنمائی ممکن نہیں رہی یا یوں سمجھ لیں کہ عوام اپنی جان و مال کو ترجیح دیتے ہوئے گھروں میں بیٹھ گئی ہے۔ اس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ حکومت نے جہاں جہاں بھی رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے کنٹینرز کھڑے کر رکھے تھے، ان کے متعلق شنید ہے کہ وہ کنٹینرز بتدریج ہٹائے جارہے ہیں اور معمولات زندگی معمول پر لائے جار ہے ہیں۔ اس کے باوجود یہ کہنا یا سمجھنا کہ معاملات مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں آ چکے ہیں، قبل از وقت ہو گا کہ کے پی میں تحریک انصاف کے زور کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور کون جانے کہ یہ لاوا کس وقت پھوٹ پڑے۔ وفاقی وزیر قانون کی جانب سے بھی یہ کہا گیا ہے کہ کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ کسی سیاسی وجہ سے نہیں کیا گیا بلکہ صوبائی حکومت کی دہشت گردی سے نپٹنے میں ناکامی کے باعث یہ قدم اٹھایا گیا ہے، لیکن بلوچستان میں صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی سے صرف نظر سوائے تعصب کے، اور کیا ہو سکتا ہے کہ بلوچستان آج بھی اس ایس ایچ او کے انتظار میں ہے، جس کا اعلان وفاقی وزیر داخلہ نے کیا تھا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ بلوچستان میں ہونیوالی دہشت گردی کی صورتحال انتہائی بدترین ہے اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ کوئٹہ سے باہر اکیلے نہیں جا سکتے جبکہ اس کا موازنہ اگر کے پی سے کیا جائے تو حال ہی میں سابق وزیر اعظم نوازشریف کے متعلق یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک ہفتہ کے پی کے سیاحتی مقامات پر بغیر کسی سیکیورٹی رسک کے گزار کر آئے ہیں، تو عقلمندوں سے سوال بنتا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کہاں زیادہ خراب ہے اور گورنر راج و ایمرجنسی کی زیادہ ضرورت کس صوبے میں ہے؟۔ رہی بات گورنر راج یا ایمرجنسی کی تو آئینی طور پر گورنر راج کی زیادہ سے زیادہ مدت چھ ماہ تک ہے، جبکہ ایمرجنسی کو طوالت دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس کی منظوری ہر دو ماہ کے بعد سادہ اکثریت سے حاصل کی جائے، دیکھنا یہ ہے کہ ایمرجنسی کا نفاذ کب تک رہتا ہے؟۔ تحریک انصاف اپنی حکومت کے غیر موثر ہونے پر یقینا خاموش نہیں رہے گی۔ گو کہ تحریک انصاف عدالتی کارروائیوں سے نہ صرف مطمئن نہیں بلکہ عدالتوں پر اعتماد بھی نہیں کرتی کہ تحریک انصاف کے مطابق، اسے عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا لیکن اس کے باوجود، معاملات کو ریکارڈ پر رکھنے کے لئے عدالتوں سے رجوع کیا جانا ضروری ہے۔ اس میں کوئی ابہام نہیں کہ عدالتی تاریخ کا ایک بدنما داغ ہمیشہ رہا ہے کہ معتوبین کے لئے، ان کا طریقہ کار ایک آزاد و باوقار عدلیہ کا نہیں رہا بلکہ ان کے لئے طریقہ کار ہمیشہ مختلف اور منفی رہا ہے، جس میں انصاف کا قتل ہوتا رہا ہے، ثبوت کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو کیس کی مثال دی جاسکتی ہے، جس کے ریفرنس پر عدالت نے چالیس سال بعد اقرار کیا کہ بھٹو کو فیئر ٹرائل کا حق نہیں ملاتھا بعینہ آج کے معاملات پر بھی چالیس سال بعد کوئی عدالت اس حقیقت کا اعتراف کرتی دکھائی دے گی کہ تحریک انصاف کو شفاف ٹرائل اور انصاف نہیں ملا تھا۔ بہرحال اگر وفاقی وزیر قانون کی اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا اقدام سیاسی نہیں ہے تو یہ تسلیم کرنا بھی مشکل نظر آتا ہے کہ اس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف موثر پالیسی اور بروئے کار آنے میں ناکامی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں بکتر بند گاڑیوں کے حصول میں مسلسل مطالبات کے باوجود، ادائیگی کرنے کے باوجود ، یہ گاڑیاں فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ حکومت گرانے کے اگلے ہی دن دس گاڑیاں ، خود وفاقی وزیر داخلہ نے، صوبے کو فراہم کر دیں، لہذا صرف یہ کہنا کہ دہشت گردی قابو کرنے میں ناکامی پر اقدام اٹھایا گیا ہے، قابل ہضم نہیں۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس اقدام کی وجہ کیا ہے؟۔ مقامی آبادی و قیادت ببانگ دہل یہ کہہ رہی ہے کہ اس اقدام کا مقصد اس خطے میں موجود نایاب معدنیات ہیں، جس کا وعدہ امریکہ بہادر سے کیا گیا، جس کی مالیت محتاط اندازے کے مطابق چھ ٹریلین ڈالر بتائی جاتی ہے، اور ان معدنیات کو نکالنے میں، جو مضمرات ہیں، ان سے اعراض برتا جارہا ہے کہ شنید ہے ان معدنیات کو نکالنے سے تابکاری نکلنے کا امکان بھی ہے، جو مقامی آبادی کے لئے انتہائی مضر ثابت ہو سکتی ہے مگر ارباب اختیار کو اس کوئی پروا نہیں، دہشت گردی کی آڑ میں کنٹرول اور معدنیات کا حصول ہی مقصد دکھائی دیتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button