Column

بلاول بھٹو کی تجویز، سیاسی ڈیڈ لاک کا حل مذاکرات

بلاول بھٹو کی تجویز، سیاسی ڈیڈ لاک کا حل مذاکرات !
شاہد ندیم۔۔۔
اس وقت ملکی سیاست ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے کہ جہاں محاذ آرائی کا تسلسل ملک کو مزید سیاسی عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے، جبکہ مفاہمت اور مذاکرات کا راستہ قومی سیاست میں ایک نئی امید پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی تجویز غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے، یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں، بلکہ موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے ایک ایسا راستہ ہے کہ جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ،اس پر سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی سیاسی انا، ضد اور باہمی بداعتمادی سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینے کے لیے تیار ہیں، یا سیاسی کشمکش کا سلسلہ مزید شدت اختیار کرے گا؟
یہ بلاول بھٹو زرداری کی تجویز ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات محض پارلیمانی بحث تک محدود نہیں رہے، بلکہ ان کے اثرات ریاستی اداروں، صوبائی سیاست اور جمہوری نظام کے مجموعی ماحول پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، بالخصوص خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق صدارتی فیصلے کی دونوں ایوانوں سے توثیق کے بعد حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان فاصلے مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے تو ایسے ماحول میں مذاکرات کی بات کرنا آسان نہیں ہے، تاہم سیاست میں کوئی بھی فیصلہ حرفِ آخر نہیں ہوتا اور جمہوری نظام کی اصل طاقت ہی یہ ہے کہ شدید اختلافات کے باوجود بات چیت کے دروازے کھلے رکھے جا سکتے ہیں۔
یہاں پر بنیادی سوال ہے کہ مذاکرات کی ضرورت آخر کیوں پیش آ رہی ہے؟، اس کا جواب واضح ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام کی منزل حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے، سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں، روزگار کے مواقع اور حکومتی پالیسیوں کے تسلسل کے لیے ایک قابلِ پیش گوئی سیاسی ماحول ضروری ہوتا ہے، ملک میں سیاسی محاذ آرائی مسلسل خبروں، پارلیمانی کارروائی اور حکومتی فیصلوں پر حاوی رہے تو قومی ترجیحات پس منظر میں چلی جاتی ہیں، اس کا سب سے زیادہ نقصان ملک کے ساتھ ایک عام شہری کو سب سے زیادہ اٹھانا پڑتا ہے۔
اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری کی تجویز کی اہمیت اس پہلو سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد کی سیاست میں اہم کردار رکھتی ہے، اگر پیپلز پارٹی واقعی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوشش کرنا چاہتی ہے تو اسے محض تجویز دینے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد پیدا کرنے کے لیے عملی کردار ادا کرنا ہوگا، اس کے ساتھ حکومت کو بھی سمجھنا ہوگا کہ پارلیمانی اکثریت حاصل ہونے سے سیاسی اختلافات کو نظرانداز کرنے کا اختیار نہیں مل جاتا ہے، اس طرح اپوزیشن کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے مطالبات کو آئینی، جمہوری اور قابلِ عمل بنیادوں پر پیش کرے اور مذاکرات کو صرف سیاسی دباؤ بڑھانے کا ذریعہ نہ بنایا جائے، تاہم اس کیلئے سمجھنا ضروری ہے کہ مذاکرات کا آغاز محض ایک مشترکہ تصویر یا رسمی ملاقات سے نہیں ہوگا، اس کے لیے اعتماد سازی کے قابلِ عمل اقدامات درکار ہوں گے۔
اس کیلئے فریقین کو پہلے طے کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہوگا اور کن معاملات پر فوری پیش رفت ممکن ہے اور کن اختلافات کے حل کے لیے طویل مشاورت درکار ہوگی، اگر حکومت پہل کرتے ہوئے اپوزیشن کو سنجیدہ مذاکرات کی دعوت دیتی ہے تو اسے کمزوری نہیں ،بلکہ سیاسی بلوغت سمجھا جانا چاہیے، اس طرح پی ٹی آئی کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکراتی عمل میں شریک ہو کر اپنے مطالبات آگے بڑھانا چاہتی ہے یا تصادم کی سیاست کو جاری رکھنا چاہتی ہے، اس دونوں صورتوں کے نتائج مختلف ہوں گے، لیکن قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ اختلافات کا حل تشدد، انتقام اور مسلسل محاذ آرائی کے بجائے آئینی اور جمہوری طریقوں سے نکالا جائے، اگر بلاول بھٹو زرداری کی تجویز سنجیدہ سیاسی پیش رفت میں تبدیل ہوتی ہے تو یہ حکومت، اپوزیشن اور جمہوری نظام تینوں کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اگر اسے محض وقتی سیاسی حکمت عملی یا ذرائع ابلاغ میں جگہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دیا گیا تو مایوسی میں مزید اضافہ ہوگا۔
اس وقت ملک ایسے سیاسی تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ جن میں ہر بحران کے بعد ایک نیا بحران جنم لے، اس کا فیصلہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ہی کرنا ہے کہ وہ تاریخ میں سیاسی تصادم کو طول دینے والے فریقوں کے طور پر یاد رکھے جانا چاہتے ہیں یا اختلافات کے باوجود قومی مفاد کے لیے راستہ نکالنے والے رہنمائوں کے طور پر نظر آنا چاہتے ہیں، سیاست میں مستقل دشمنیاں نہیں، بلکہ مستقل قومی مفادات اہم ہوتے ہیں، اگر حکومت پہل کرے، اپوزیشن سنجیدگی دکھائے اور پیپلز پارٹی اپنی مفاہمتی تجویز کو عملی شکل دینے میں کردار ادا کرے تو سیاسی جمود ٹوٹ سکتا ہے ، یہ مذاکرات تمام مسائل کا فوری حل نہیں، لیکن ان کے بغیر مسائل کے پائیدار حل کی امید بھی کمزور پڑ جاتی ہے، آج پاکستان کو محاذ آرائی کے نئے باب کی نہیں، بلکہ مکالمے، برداشت اور سیاسی تدبر کی ضرورت ہے اور یہ ہی ایک راستہ ہے، جو کہ سیاسی بحران کی شدت کم کرکے ملک کو استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button