کابل کی خاموشی اور سلگتا ہوا پڑوس

کابل کی خاموشی اور سلگتا ہوا پڑوس
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
سچ تو یہ ہے کہ حقائق کی دنیا بڑی بے رحم ہوتی ہے، اور جب ریاستیں اپنی ترجیحات کے تعین میں ابہام کا شکار ہو جائیں، تو عوام کو اپنے لہو سے اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران، بالخصوص رواں سال کے آغاز سے اب تک، پاکستان کے طول و عرض میں جس طرح شدت پسندی کے واقعات میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے، اس نے ہر محبِ وطن پاکستانی کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر ہم کس سمت جا رہے ہیں۔ ایک طرف امن کی فاختائیں اڑانے کے دعوے ہیں اور دوسری جانب بازاروں، مساجد اور سکیورٹی چیک پوسٹوں پر بہتا ہوا خون ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس خون ریزی کی جڑیں کہاں پیوست ہیں؟ اگر ہم اس صورتِ حال کا عمیق تجزیہ کریں تو یہ تلخ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ پاکستان میں عسکریت پسندی کی یہ نئی لہر محض چند بھٹکے ہوئے افراد کا شاخسانہ نہیں، بلکہ یہ سرحد پار سے ملنے والی نظریاتی اور تزویراتی پناہ گاہوں کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ اسلام آباد کا یہ بیانیہ بالکل واضح اور دو ٹوک ہے کہ ان تمام تر حملوں کے تانے بانے ہمسایہ ملک افغانستان میں موجود شدت پسند عناصر سے ملتے ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ہم نے کابل میں مٹھائیاں تو بانٹیں، مگر ہم یہ بھول گئے کہ سفارت کاری اور بین الاقوامی تعلقات میں جذباتیت سے زیادہ زمینی حقائق اہمیت رکھتے ہیں۔ آج پاکستان بجا طور پر افغان طالبان پر یہ الزام عائد کر رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان مخالف عسکریت پسندوں کی آماجگاہ بننے سے روکنے میں ناکام رہے ہیں، یا شاید وہ ایسا کرنا ہی نہیں چاہتے۔ یہ صورتِ حال پاکستان کے لیے ایک ایسا سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔
اس تمام تر قضیے میں سب سے اہم کردار تحریکِ طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) کا ہے۔ اگرچہ سفارتی سطح پر یہ کہا جاتا ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی دو الگ الگ تنظیمیں ہیں، لیکن زمینی حقائق چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ یہ دونوں دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ان کا نظریاتی خمیر ایک ہی مٹی سے اٹھا ہے اور ان کے درمیان دہائیوں پر محیط وہ قریبی روابط موجود ہیں جنہیں محض چند سرحدی لکیریں یا سیاسی مصلحتیں ختم نہیں کر سکتیں۔ پاکستان کا کابل سے یہ مطالبہ بالکل جائز اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔ ہم نے بارہا کابل کو شواہد، ڈوزیئرز اور خفیہ معلومات فراہم کی ہیں، مگر کابل کی جانب سے مسلسل سرد مہری اور خاموشی ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس نے پاک افغان تعلقات کو ایک بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔ جب ایک ریاست اپنے پڑوسی کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے وعدوں سے روگردانی کرتی ہے، تو پھر بداعتمادی کی وہ خلیج پیدا ہوتی ہے جسے پر کرنا سفارت کاروں کے بس کی بات نہیں رہتی۔
یہاں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ افغان طالبان کا رویہ آخر ایسا کیوں ہے؟۔ اس کے پیچھے ایک گہری نفسیاتی اور تاریخی حقیقت پوشیدہ ہے۔ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی نے برسوں تک ایک ہی خندق میں بیٹھ کر غیر ملکی افواج کے خلاف جنگ لڑی ہے۔ ان کے درمیان خون اور نظریے کا جو رشتہ قائم ہو چکا ہے، کابل میں بیٹھی موجودہ عبوری حکومت کے لیے اسے یکسر توڑ دینا شاید ان کی سیاسی اور قبائلی مجبوریوں کے آڑے آتا ہے۔ کابل کی یہ ہچکچاہٹ پاکستان کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہی ہے۔ جب دہشت گردوں کو سرحد پار محفوظ ٹھکانے میسر ہوں، علاج معالجے کی سہولتیں ملیں اور جدید اسلحہ دستیاب ہو، تو سرحد کے اس پار امن قائم کرنے کی کوئی بھی کوشش ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔ ہماری سکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر بے پناہ قربانیاں دے رہی ہیں، جوان اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں، مگر جب تک اس فتنے کا سر سرحد پار کچلا نہیں جائے گا، ہم یونہی اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔
افغان طالبان کی حکومت ابھی تک خود ایک مستحکم ریاستی ڈھانچے کی شکل اختیار نہیں کر سکی، ان کے پاس نہ تو کوئی باقاعدہ تربیت یافتہ کھڑی فوج ہے اور نہ ہی وہ معاشی وسائل کہ وہ اپنے پرانے اتحادیوں کے خلاف کوئی بھرپور فوجی آپریشن کر سکیں۔ مزید برآں، کابل کو یہ خوف بھی لاحق ہے کہ اگر انہوں نے ٹی ٹی پی کو دیوار سے لگایا تو وہ شدت پسند عناصر داعش ( خراسان) جیسی زیادہ خطرناک اور افغان حکومت کی مخالف تنظیموں کے کیمپ میں شامل ہو جائیں گے، جو خود کابل کے لیے ایک نیا دردِ سر بن جائے گا۔ اس لیے، کابل کی کمزوری کا بھی ہمیں ادراک ہے، لیکن کیا انہیں بھی ہماری زمینی مجبوریوں کا بھی ادراک کرنا چاہیے، اور یہ ہمیں مان لینا چاہیے کہ ہم نے بھی کابل سے کچھ زیادہ ہی غیر حقیقت پسندانہ توقعات وابستہ کر لی تھیں۔
پاکستان اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔ ریاست کا پہلا اور بنیادی فریضہ اپنے عوام کی حفاظت ہے، اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں یہ تلخ حقیقت مان لینی چاہیے کہ کوئی بھی دوسرا ملک ہمارے لیے ہماری جنگ نہیں لڑے گا۔ کابل سے مطالبات اور گزارشات کا سلسلہ اپنی جگہ، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کریں۔ جذباتیت اور سفارتی بیانات سے آگے بڑھ کر ہمیں اپنے بارڈر مینجمنٹ کو مزید فول پروف بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنے اندرونی محاذ پر موجود ان تمام سہولت کاروں اور ہمدردوں کا صفایا کرنا ہوگا جو ان شدت پسندوں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، سفارتی محاذ پر بھی کابل کو یہ واضح پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔ برادرانہ تعلقات اور اسلامی اخوت کے نام پر یک طرفہ قربانیاں دینے کا وقت اب گزر چکا ہے۔ اگر افغان حکومت ٹی ٹی پی کو لگام دینے میں سنجیدہ نہیں، تو پاکستان کو اپنے دفاع کے لیے بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر وہ قدم اٹھانے کا حق حاصل ہے جو اس کی سلامتی کا ضامن ہو۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ اب کسی عارضی جنگ بندی یا نرم رویوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
امن کوئی بھیک نہیں جو ہم کابل کے دروازے پر کاسہ لے کر مانگیں گے۔ امن ایک ریاستی رٹ کا نام ہے، اور رٹ قائم کرنے کے لیے اعصاب کی مضبوطی اور فیصلوں میں یکسوئی درکار ہوتی ہے۔ ہم نے ماضی کی غلطیوں سے بہت خون آلود سبق سیکھے ہیں؛ اب ان غلطیوں کو دہرانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ جب تک ہم اپنے گھر کو اندر سے مضبوط نہیں کریں گے اور ایک غیر مبہم، دو ٹوک اور یکساں ریاستی بیانیہ تشکیل نہیں دیں گے، یہ بارود کی بو ہماری فضائوں کو یونہی زہر آلود کرتی رہے گی۔ کابل کی خاموشی کا جواب اب اسلام آباد کی گونج دار اور عملی حکمتِ عملی میں پوشیدہ ہونا چاہیے۔





