Column

مکہ دفاعی معاہدہ: مشترکہ سلامتی کا نیا باب

مکہ دفاعی معاہدہ: مشترکہ سلامتی کا نیا باب
عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں قومی سلامتی، علاقائی استحکام اور تزویراتی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ آج کی دنیا میں ریاستوں کی طاقت کا تعین محض عسکری سازوسامان، اقتصادی وسائل یا جغرافیائی وسعت سے نہیں ہوتا، بلکہ اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ وہ مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنے، باہمی اعتماد کو مضبوط بنانے اور امن کے لیے اجتماعی حکمت عملی اختیار کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایسے ماحول میں مکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں امن، اتحاد اور استحکام کے لیے تاریخی سنگِ میل قرار دینا ایک اہم سفارتی پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ دونوں برادر ممالک کے دیرینہ تعلقات کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ مکہ محض ایک جغرافیائی مقام کا نام نہیں، بلکہ عالمِ اسلام کے روحانی احساس، تہذیبی وابستگی اور مشترکہ اقدار کا مرکز ہے۔ اس نسبت سے مکہ دفاعی معاہدے کا نام مسلم دنیا میں ایک خاص معنوی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم کسی بھی دفاعی اتحاد کی حقیقی قدر اس کے عنوان یا اعلان سے نہیں، بلکہ اس کے مقاصد، عملی اقدامات، باہمی ذمے داریوں اور خطے کے امن پر مرتب ہونے والے اثرات سے متعین ہوتی ہے۔ اگر یہ معاہدہ مشترکہ سلامتی کے فروغ، دفاعی صلاحیتوں میں تعاون اور تنازعات کی روک تھام میں موثر کردار ادا کرتا ہے تو یہ پورے خطے کے لیے مثبت امکانات کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے مکہ ڈیفنس الائنس کے پہلے سیکریٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل ( ر) نعمان محمود کی ملاقات اسی تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔ وزیراعظم نے انہیں نئی ذمے داری سنبھالنے پر نیک خواہشات پیش کیں اور واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب کی خودمختاری اور دفاع کے تحفظ کے لیے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت کا اظہار بھی کیا۔ یہ موقف پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ مفادات پر قائم تعلقات کی ترجمانی کرتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے روابط محض سفارتی مراسم تک محدود نہیں رہے۔ مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون، دفاعی روابط اور عوامی سطح پر دیرینہ تعلقات نے ان رشتوں کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ دونوں ممالک مختلف ادوار میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں اور بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں بھی ان تعلقات کی اہمیت برقرار رہی ہے۔ پاکستان کے لیے سعودی عرب کی سلامتی اہم ہے، اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ مستحکم تعلقات پاکستان کے وسیع تر سفارتی اور اقتصادی مفادات سے بھی وابستہ ہیں۔ اس لیے دفاعی تعاون کو باہمی اعتماد اور ذمے دارانہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھانا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ موجودہ عالمی صورتِ حال میں مشرقِ وسطیٰ اور اس کے گردونواح کو متعدد پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ علاقائی کشیدگیاں، مسلح تنازعات، توانائی کی عالمی منڈی میں بے یقینی کیفیت اور سلامتی کے بدلتے ہوئے خطرات ریاستوں کو اپنی دفاعی ترجیحات پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں مشترکہ دفاعی صلاحیتوں، معلومات کے تبادلے، تکنیکی تربیت اور ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ تاہم ان اقدامات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ دفاعی تعاون کو تصادم کی توسیع کے بجائے خطرات میں کمی، اعتماد سازی اور امن کے تحفظ کا ذریعہ بنایا جائے۔ دفاعی معاہدوں کی افادیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ممکنہ جارحیت کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے ریاستوں کو اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے زیادہ منظم بناتے ہیں، لیکن مضبوط دفاع اور پائیدار امن کے درمیان توازن قائم رکھنا ناگزیر ہے۔ عسکری تیاری کے ساتھ سفارت کاری، سیاسی مکالمے اور تنازعات کے پُرامن حل کی کوششیں بھی جاری رہنی چاہئیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ محض عسکری طاقت ہمیشہ تنازعات کا خاتمہ نہیں کر سکتی، کئی مرتبہ مسلسل مذاکرات اور باہمی مفادات کی تفہیم ہی دیرپا استحکام کی بنیاد بنتی ہے۔ لہٰذا مکہ دفاعی معاہدے کی کامیابی کا ایک اہم پیمانہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ اس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور پُرامن بقائے باہمی کے امکانات کو کس حد تک تقویت ملتی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے بھی یہ موقع اہم ہے۔ ملک کو ایک طرف اپنی قومی سلامتی اور دفاعی ضروریات کا تحفظ کرنا ہے، تو دوسری جانب معاشی استحکام، عالمی اعتماد اور علاقائی روابط کو بھی مضبوط بنانا ہے۔ دفاعی تعاون اسی وقت زیادہ موثر ثابت ہوسکتا ہے جب اس کے ساتھ اقتصادی شراکت داری، سائنسی ترقی، جدید ٹیکنالوجی، تعلیم اور انسانی وسائل کی بہتری پر بھی توجہ دی جائے۔ مضبوط معیشت دفاعی خودمختاری کو پائیدار بنیاد فراہم کرتی ہے جب کہ ترقی یافتہ علمی اور صنعتی صلاحیتیں کسی بھی ملک کو طویل مدت میں زیادہ مستحکم بناتی ہیں۔ اس ضمن میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کے امکانات کو وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دفاعی تربیت، جدید ٹیکنالوجی، سائبر سلامتی، تحقیق اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے شعبوں میں اشتراک دونوں ممالک کی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ سرمایہ کاری، تجارت، توانائی اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون کو بھی آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ دفاعی اور اقتصادی روابط اگر متوازن انداز میں فروغ پائیں تو ان کے ثمرات صرف حکومتی اداروں تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ عوامی بہبود، روزگار اور ترقی کے وسیع تر امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ مکہ ڈیفنس الائنس کے سیکریٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل ( ر) نعمان محمود کی جانب سے وزیراعظم کو دفاعی اور تزویراتی تعاون کے فروغ سے متعلق حکمت عملی پر بریفنگ بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ادارہ جاتی سطح پر منصوبہ بندی کی اہمیت تسلیم کی جارہی ہے۔ اسی طرح ان کی صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات اور علاقائی امن و دفاعی تعاون کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ اس معاملے کو قومی سطح کی اہمیت دیتا ہے۔ تاہم کسی بھی منصوبے کے عملی نتائج کے لیے واضح اہداف، مربوط حکمت عملی، موثر رابطہ کاری اور مسلسل جائزہ ضروری ہوتا ہے۔ کامیابی اعلانات کی کثرت سے نہیں، بلکہ طے شدہ مقاصد کے حصول سے ثابت ہوتی ہے۔ مُسلم دنیا کو درپیش مسائل کا ایک بڑا سبب باہمی اختلافات، سیاسی عدم اعتماد اور مشترکہ ترجیحات کے تعین میں دشواریاں بھی رہی ہیں۔ اگر مسلم ممالک اپنی خودمختاری اور انفرادی مفادات کا احترام کرتے ہوئے مشترکہ مسائل پر تعاون بڑھائیں تو وہ عالمی سطح پر زیادہ موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس تعاون کا مقصد کسی دوسرے ملک کے خلاف محاذ آرائی ہونا ضروری نہیں، اس کی اصل روح مشترکہ سلامتی، علاقائی خودمختاری، انسانی جانوں کے تحفظ اور تنازعات کے پُرامن حل میں مضمر ہونی چاہیے۔ اتحاد کی حقیقی قوت اسی وقت سامنے آتی ہے جب اختلافات کے باوجود مشترکہ مفادات کے لیے ذمے دارانہ فیصلے کیے جائیں۔ مکہ دفاعی معاہدے سے وابستہ امیدوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے مقاصد واضح، اس کے طریقہ کار موثر اور اس کے اقدامات خطے کے امن سے ہم آہنگ ہوں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد کی مضبوط بنیاد اس سفر میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ دفاعی تعاون کے ساتھ مکالمے، اقتصادی ترقی اور علاقائی استحکام کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ بالآخر کسی بھی دفاعی اتحاد کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ اپنی قوت کا اظہار کتنی بار کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی موجودگی سے جنگ کے امکانات کتنے کم اور امن کے امکانات کتنے روشن ہوتے ہیں۔ مکہ دفاعی معاہدہ اگر مشترکہ ذمے داری، باہمی احترام اور دوراندیش حکمت عملی کے اصولوں پر آگے بڑھتا ہے تو یہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو نئی جہت دینے کے ساتھ خطے میں استحکام کی کوششوں میں بھی معاون ہوسکتا ہے۔ امن کی حفاظت مضبوط دفاع سے ضرور وابستہ ہے، لیکن اس کی تکمیل انصاف، دانش مندی، سفارت کاری اور انسانی جان کے احترام سے ہوتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو دفاعی قوت کو محض عسکری صلاحیت کے بجائے ایک محفوظ، مستحکم اور پُرامن مستقبل کی ضمانت میں تبدیل کر سکتا ہے۔

 

 

شذرہ۔۔۔
آن لائن ہراسانی، بچوں کا تحفظ ناگزیر
ڈیجیٹل دنیا نے انسانی زندگی کو آسانیوں، معلومات اور رابطوں کے نئے امکانات سے روشناس کرایا ہے، لیکن اسی دنیا کے تاریک گوشوں میں معصوم بچوں کے لیے خطرات کی ایک ایسی دنیا بھی آباد ہوچکی ہے جسے نظرانداز کرنا قومی مستقبل سے غفلت کے مترادف ہے۔ پاکستان میں ایک سال کے دوران انٹرنیٹ استعمال کرنے والے قریباً 15لاکھ بچوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کا سامنا ہونے کا انکشاف محض ایک عدد نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ لمحہ فکریہ ہے۔ یونیسیف، ایکپاٹ انٹرنیشنل اور انٹرپول کی ستمبر 2026ء میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق 12سے 17سال کی عمر کے قریباً ہر 16میں سے ایک انٹرنیٹ استعمال کرنے والا بچہ اس خطرے سے متاثر ہوا۔ سوشل میڈیا پر رپورٹ ہونے والے 44فیصد واقعات اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم بچوں کے لیے رابطے کا ذریعہ ہونے کے ساتھ استحصال کا راستہ بھی بن سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت، جعلی تصاویر، ڈیپ فیکس، دھمکیوں اور بلیک میلنگ نے اس خطرے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس المیے کا سب سے تشویش ناک پہلو بچوں کی خاموشی ہے۔ تحقیق کے مطابق متاثرہ بچوں کی بڑی تعداد اپنے تجربات کسی کو نہیں بتاتی جب کہ کسی بچے نے واقعے کی اطلاع باضابطہ ہیلپ لائن، پولیس یا سماجی کارکنوں کو نہیں دی۔ خوف، شرمندگی اور خاندان کے ممکنہ ردعمل کا اندیشہ بچوں کو مدد مانگنے سے روکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گھر اور تعلیمی ادارے بچوں کو ایسا اعتماد دیں کہ وہ کسی ناخوش گوار تجربے کے بارے میں بلاخوف بات کر سکیں۔ متاثرہ بچے کو موردِ الزام ٹھہرانا یا اس کی تضحیک کرنا ظلم میں مزید اضافہ ہے۔ حکومت کی ذمے داری ہے کہ آن لائن جرائم کی روک تھام کے لیے موثر قوانین، آسان شکایتی نظام اور تربیت یافتہ تحقیقاتی عملے کو یقینی بنائے۔ بچوں کے فرانزک انٹرویوز خصوصی تربیت یافتہ ماہرین کے ذریعے ہونے چاہئیں، تاکہ تحقیقات کے دوران انہیں دوبارہ ذہنی اذیت سے نہ گزرنا پڑے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی مشکوک مواد کی روک تھام اور شکایات پر فوری کارروائی کا پابند بنایا جانا چاہیے۔ والدین بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر رہنمائی اور نگرانی کریں، مگر اعتماد اور مکالمے کا رشتہ قائم رکھتے ہوئے۔ اسکولوں میں ڈیجیٹل تحفظ کی تعلیم دی جائے اور بچوں کو بتایا جائے کہ نجی تصاویر، ذاتی معلومات اور نامناسب رابطوں سے متعلق خطرات کی صورت میں مدد کیسے حاصل کرنی ہے۔ بچوں کا تحفظ محض قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اسکرین کے دوسری طرف موجود بچہ بھی ہماری حفاظت، توجہ اور شفقت کا مستحق ہے۔ اگر ہم نے آج اس خاموش خطرے کے مقابلے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو کل اس کے اثرات انفرادی زندگیوں سے نکل کر پورے معاشرے کے مستقبل کو متاثر کریں گے۔ بچوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا کوئی احسان نہیں، ان کا بنیادی حق اور ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

Back to top button