CM RizwanColumn

پولیس کلچر کی اصلاح، مریم نواز کا کریڈٹ 

پولیس کلچر کی اصلاح، مریم نواز کا کریڈٹ

تحر یر : سی ایم رضوان

اگر ملکی حالات اور بعض انتظامی کمزوریوں پر تنقید پر تجزیہ کار کا بنیادی فریضہ ہے تو کسی خاص واقعے یا کسی قابل اعتبار شخصیت کے بیان کردہ حقائق کی روشنی میں اگر حکومت، کسی سرکاری ادارے یا تھانے کی احسن کارکردگی کی تعریف بھی کر دی جائے تو یہ بھی عین حق ہے کہ اس تعریف سے نہ صرف اچھی کارکردگی والے اور سائل کی بروقت شنوائی کرنے والے عہدیدار یا پولیس اہلکار کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ دیگر سرکاری اہلکاروں کو بھی مثبت ترغیب ملتی ہے۔ راقم الحروف نے اپنے ایک دوست اور قومی تاجر اتحاد کے چیئرمین ملک خالد کی زبانی گزشتہ روز ایک مقامی پولیس تھانے کی تعریف سنی تو ارادہ بنا کہ اس واقعے پر لکھا جائے۔ واقعات کچھ یوں ہیں کہ پولیس تھانہ شفیق آباد کی حدود میں واقع ایک گھر سے گزشتہ روز شام ساڑھے سات بجے تھانہ شفیق آباد کو ایک بزرگ خاتون خانہ کی کال موصول ہوتی ہے کہ اس کو اور اس کے دیگر اہل خانہ کو ایک ہمسائے ( جو کہ ان کا عزیز بھی ہے) نے، بہت تنگ کیا ہوا ہے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے، جس پر تھانہ شفیق آباد کے ایڈیشنل ایس ایچ او طارق محمود ایس آئی نے فوری رسپانڈ کیا، خود ریڈ کیا اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ابتدائی پوچھ گچھ پر پتہ چلا کہ ملزم واقعی سائلہ اور اس کے گھر والوں پر ناجائز رعب جماتا اور غنڈہ گردی کرتا تھا۔ گرفتاری کے بعد اس نے پولیس کو رشوت دینے کی بھی آفر کی اور کہا کہ وہ اس کے ساتھ شکایت کنندہ خاتون کے شوہر شفیق احسان جو کہ معمولی کارپینٹر ہے کو بھی گرفتار کرے، لیکن ایس آئی طارق محمود نے، نہ تو اس کی رشوت قبول کی، نہ اس کی سفارشات مانی ،اور نہ ہی ایک شریف شہری کو خواہ مخواہ تنگ کرنا یا گرفتار کرنا مناسب سمجھا، بلکہ بمطابق قانون اس کے خلاف انضباطی کارروائی کی۔ یوں ایک شریف شہری کو پولیس کی جانب سے تحفظ ملا، جو کہ نہ صرف تھانہ شفیق آباد کے ایس آئی طارق محمود کے مشفقانہ رویہ کی، بلکہ سی سی پی او لاہور فیصل کامران کے بہتر انتظامات اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حکومت کی تعریف کر رہے ہیں۔ گو کہ پچھلے چند ہفتوں کے دوران وزیر اعلیٰ پر تنقید برائے تنقید میں اضافہ ہو چکا ہے، صوبائی سرحدوں اور سکیورٹی سے متعلق ان کے ایک بیان پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پنجاب کو بیرون ممالک سے زیادہ دیگر صوبوں کی سرحدوں سے خطرات کا سامنا ہے۔ مخالف سیاسی جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی اور کے پی حکومت نے اسے وفاق کی یکجہتی کے خلاف، چھوٹوں صوبوں کی تذلیل قرار دیا۔ مریم نواز کے اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب کے لئے لندن سفر پر سرکاری طیارے اور عوامی فنڈز کے مبینہ استعمال پر بھی اپوزیشن اور سوشل میڈیا پر سخت سوالات اٹھائے گئے ہیں، اگرچہ حکومتی ترجمانوں نے وضاحت دی ہے کہ یہ اخراجات ذاتی جیب سے ادا کیے گئے ہیں، واضح رہے کہ اس وقت بھی پچھلی کئی دہائیوں سے شریف خاندان کے متعدد فلاحی کاموں پر سالانہ اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں، لیکن اس سب کو بیان نہ کر کے ایک لندن سفر پر اپوزیشن کا یکطرفہ واویلا جاری ہے۔ تاہم سرکار کے اخراجات اور وزیر اعلیٰ کے بیانات پر اپوزیشن اور میڈیا کی کڑی نظر یہ ظاہر کرتی ہے کہ عوام اور ادارے حکمرانوں کی جواب دہی کے لئے بیدار ہیں، اور یہ کریڈٹ بھی مریم نواز حکومت کو جاتا ہے کہ وہ اپنے اوپر فضول اور جھوٹی تنقید کو بھی برداشت کر رہی ہیں۔

اس تنقید کے باوجود یہ تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے ’’ خواتین اور بزرگوں کے تحفظ اور احترام کو ریڈ لائن‘‘ قرار دیئے جانے کے بعد پنجاب کے تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے اور ان مخصوص اور نسبتاً کمزور طبقات کی داد رسی کے لئے متعدد اہم انتظامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کا مقصد روایتی تھانوں کے خوفزدہ ماحول کو فرینڈلی کر کے پولیس کو زیادہ عوامی اور جواب دہ بنانا ہے۔ صوبے بھر کی خواتین کے لئے جدید آن لائن اور فون پر مبنی ہیلپ لائنز شروع کی گئی ہیں، جہاں وہ تھانے جائے بغیر یا اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر ہراسانی، گھریلو تشدد اور دیگر جرائم کی شکایت درج کرا سکتی ہیں۔ تھانوں کے روایتی ماحول کو تبدیل کرنے کے لئے خاتون لیڈی پولیس آفیسرز پر مشتمل خصوصی ڈیسک قائم کیے گئے ہیں تاکہ متاثرہ خواتین بلا جھجھک اپنی بات کہہ سکیں۔ اسی طرح بزرگ شہریوں کے لئے تھانوں اور خدمت مراکز میں ترجیحی کائونٹر قائم کیے گئے ہیں، تاکہ انہیں لائنوں میں کھڑا نہ ہونا پڑے اور ان کے مسائل کا فوری تدارک ہو سکے۔ 15ہیلپ لائن اور پکار 15سسٹم کے ذریعے خواتین اور بزرگوں کی ایمرجنسی کالز پر رسپانس ٹائم کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ ورچوئل پورٹل کے ذریعے خواتین اب گھر بیٹھے ڈائریکٹ ایف آئی آر اور شکایت درج کرا سکتی ہیں۔ سماجی دبائو یا بدنامی کے خوف سے بچنے کے لئے گمنام شکایات درج کرانے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ بزرگ شہریوں کے مسائل کو معمول کے دفتری امور کی بجائے فوری اور ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ آئی جی آفس اور خصوصی مانیٹرنگ سیل کے ذریعے شکایات کی رفتار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کا اب سسٹم پر اعتماد بڑھا ہے اور ورچوئل پولیس اسٹیشنز پر ہزاروں خواتین کی جانب سے شکایات درج کرائی گئی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین کیلئے تھانوں میں رسائی اب آسان ہوئی ہے۔ اس سے شہری علاقوں میں پولیس کے بارے میں اعتماد بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔ تاہم اعلیٰ سطح کے احکامات اور ورچوئل سسٹمز کے باوجود، دور دراز دیہی علاقوں کے مقامی تھانوں میں روایتی تھانہ کلچر اور پولیس اہلکاروں کے رویے میں مکمل تبدیلی ابھی بھی ایک چیلنج ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ صرف شکایت درج ہونا کافی نہیں ہوتا، جب تک کہ تفتیش کے معیار کو شفاف نہ بنایا جائے۔ جزوی طور پر یہ معیار بھی بہتری کی جانب گامزن ہے۔ البتہ مجموعی طور پر، ٹیکنالوجی اور ورچوئل پولیسنگ کی حد تک یہ اقدامات کافی مثر ثابت ہو رہے ہیں اور خواتین و بزرگوں کو آسان سہولت فراہم کر رہے ہیں جبکہ نچلی سطح کے روایتی تھانہ کلچر کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے لئے بھی مسلسل نگرانی وزیر اعلیٰ مریم نواز خود ایک تسلسل کے ساتھ کر رہی ہیں۔

یہ بھی زمینی حقیقت ہے کہ مریم نواز کے موجودہ صوبائی حکومت کے دور میں لاہور کے تھانوں کے نظام میں ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کی حد تک نمایاں اصلاحات کی گئی ہیں، جن سے پولیس کے رویے اور مشفقانہ تعامل میں مثبت تبدیلی آئی ہے، یعنی جہاں نظاماتی بہتری آئی ہے وہیں رویہ جاتی بہتری بھی نظر آ رہی ہے۔ لاہور کے متعدد تھانوں کو جدید اور ڈیجیٹل طرز پر استوار کیا گیا ہے، جہاں کائونٹرز کو ماڈرن لک دی گئی ہے، تاکہ روایتی خوف کا ماحول کم ہو ۔ سائلین کی شکایات کے ابتدائی اندراج کے لئے ڈیوٹی افسروں کی جگہ سویلین ڈیجیٹل اسٹاف یا تربیت یافتہ فرنٹ ڈیسک اراکین کو بٹھایا گیا ہے، جس سے کم از کم درخواست جمع کرانے کا مرحلہ پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور شفاف ہوا ہے۔ تھانوں کے مرکزی کمروں اور محرر رومز میں کیمروں کی انسٹالیشن بڑھائی گئی ہے، تاکہ تفتیشی افسران کے رویے کی مرکزی سطح سے نگرانی ممکن ہو سکے۔ ساتھ ہی ساتھ کریکٹر سرٹیفکیٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور آن لائن کی تصدیق جیسے کاموں کو تھانے کے بنیادی نظام سے الگ کر کے پولیس خدمت مراکز کے سپرد کیا گیا ہے۔

جس سے عام شہریوں کو روزمرہ کاموں کے لئے تھانوں میں جانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ ماضی کی نسبت حال میں پولیس کے رویے میں تبدیلی کو دو مختلف پہلوئوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ ابتدائی رابطہ کی حد تک پولیس کا رویہ ماضی کی نسبت کافی مہذب ہوا ہے۔ سائلین کو بیٹھنے، پانی اور کمپیوٹرائزڈ ٹوکن دینے کا انتظام موجود ہے، جس سے ایک بہتر پہلا تاثر قائم ہوتا ہے۔ فرنٹ ڈیسک سے آگے جا کر بھی جب معاملہ ایس ایچ او یا تفتیشی افسران کے پاس پہنچتا ہے، تو وہاں بھی روایتی تعصبات، سفارشی کلچر اور سخت رویے کی شکایات میں کافی کمی آئی ہے جیسا کہ مذکورہ بالا واقعہ میں سامنے آیا ہے۔ خاص طور پر بلا وکیل یا بغیر کسی اثر و رسوخ کے جانے والے عام شہریوں کو بھی اب کٹھن حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

اصلاحات کا تقابلی جائزہ ثابت کرتا ہے کہ اب شکایت کا اندراج منشی یا محرر کی مرضی پر منحصر نہیں ہوتا، بلکہ ڈیجیٹل ٹریکنگ اور الیکٹرانک ٹوکن سسٹم سے پولیس کی اجارہ داری ختم ہو گئی ہے۔ ابتدائی پیش آمد پر سخت اور خوفزدہ کرنے والا ماحول اب ختم ہو گیا ہے، اور فرنٹ ڈیسک پر نسبتاً شائستہ استقبال ہوتا ہے۔ تھانوں کی حالت بہتر ہو گئی ہے۔ گندے اور تاریک کمرے ختم کر کے لاہور کے کئی تھانے ماڈل اور صاف ستھرے بنا دیئے گئے ہیں، یعنی یہ کہنا مناسب ہے کہ مجموعی طور پر، مریم نواز حکومت نے لاہور میں انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے ذریعے تھانہ کلچر کو بہتر بنانے کی ٹھوس کوشش کی ہے، لیکن پولیس فورس کے مائنڈ سیٹ اور گرائونڈ لیول کی ذہنیت کو مکمل طور پر مشفقانہ بنانے کے لئے طویل المدتی تربیت اور سخت جزا و سزا کے عمل کی مزید ضرورت ہے۔

جہاں تک پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مریم نواز حکومت پر تنقید کا تعلق ہے تو انہیں سابقہ عثمان بزدار حکومت کی پنجاب پولیس پالیسیوں کا موازنہ مریم نواز حکومت کے انتظامی انداز، اصلاحاتی ترجیحات اور آپریشنل فیصلوں کی بنیاد پر کرنا چاہئے، کہ عثمان بزدار حکومت کے 4سالوں میں 6آئی جی پنجاب اور متعدد آئی جی، ڈی پی او تبدیل ہوئے۔ کثرت سے ہونے والے ان تبادلوں کو انتظامی سست روی کی بڑی وجہ سمجھا گیا، جبکہ اب پنجاب حکومت انتظامی استحکام کی پوزیشن پر ہے۔ یاد رہے کہ بزدار حکومت میں سیاسی اثر و رسوخ کی بجائے پولیس کو خود مختار بنانے کا دعویٰ کیا گیا، لیکن نچلی سطح پر ایم پی ایز کا پولیس پر اثر رسوخ برقرار رہا، جبکہ اب مریم نواز حکومت میں مرکزی کنٹرول اور گورننس پر زور دیا گیا ہے، تاکہ اعلیٰ سطح پر سیاسی مداخلت کو روکا جا سکے۔ واضح رہے کہ بزدار حکومت میں بھی تھانہ کلچر تبدیل کرنے کے لئے نچلی سطح پر ’’ ماڈل تھانے ‘‘ بنانے پر کام تو ہوا، لیکن تب تشدد اور تھانے کے خوف پر مبنی ماحول پر مکمل قابو نہ پایا جا سکا۔ اب مریم نواز حکومت نے شہریوں اور سائلین کو براہِ راست تھانے جانے سے بچانے کے لئے ’’ ورچوئل پولیسنگ‘‘ کو ترجیح دی ہے، تاکہ سائلین کو پولیس رویے کی تلخی کا شکار نہ ہونا پڑے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان ہر دو ادوار حکومت میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تھانوں میں بہتری کی کوشش کی گئی ہے، لیکن بزدار حکومت کا زیادہ فوکس ساخت اور بنیادی قانون سازی پر رہا، جبکہ مریم نواز حکومت انتظامی کنٹرول اور ڈیجیٹل ڈیلیوری کو ترجیح دیتی نظر آتی ہے، جس میں وہ نسبتاً کامیاب ہیں، اب لاکھ مخالفت کے باوجود مریم نواز کی حکومت کو بزدار حکومت سے بہتر ہی تسلیم کرنا پڑے گا، جس میں تھانہ شفیق آباد کے مذکورہ واقعہ میں پولیس اہلکار کا شفیق رویہ ایک مثال ہے۔

سی ایم رضوان

جواب دیں

Back to top button