Abdul Hanan Raja.Column

موقع دیجیئے نسل نو اور جین زی کو بھی 

موقع دیجیئے نسل نو اور جین زی کو بھی

تحریر : عبد الحنان راجہ

ہر ڈویژن صوبہ کا پہلا تصور1983ء میں مولانا ظفر احمد انصاری کی سربراہی میں جسے انصاری کمیشن کا نام دیا گیا کی طرف سے پیش گیا گیا۔ اس میں جسٹس ر پیر کرم شاہ الازہری، مفتی تقی عثمانی، جسٹس ر گل محمد، پروفیسر محمود احمد غازی، ڈاکٹر عبدالواحد ہالے پوتہ، بیگم سلمی تصدق، ڈاکٹر ضیاء الدین، اخونزادہ بہرہ ور سعید جیسی باوقار، باکردار علمی، قانونی اوصاف کی حامل اعلی پائے کی شخصیات شامل تھیں جبکہ ڈاکٹر محمد اسد، ڈاکٹر حمید اللہ جیسے بلند پایہ لوگ اس کے معاون۔ بدقسمتی آج اس کی مخالفت میں پیش پیش کوئی بھی ان اوصاف کا دور دور تک حامل نظر نہیں آتا۔ گو کہ انصاری کمیشن کی مرتب کردہ رپورٹ کا زیادہ حصہ سربراہ ریاست کے چنائو کے طریق کار و اوصاف سے متعلق تھا جبکہ ضلعی حکومتوں کا صرف عبوری خاکہ اس میں پیش تھا مگر ہر ڈویژن صوبہ اور مالی و انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کا قابل عمل حل معروف سکالر ڈاکٹر طاہر القادری نے 90ء کی دہائی میں پیش کیا۔ ڈاکٹر قیصر رفیق کو دئیے گئے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے اجمالا اس کا تذکرہ بھی کیا۔ اسی بااختیار ضلعی نظام کا خاکہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے سامنے رکھا گیا۔ ڈاکٹر قادری کا جنرل مشرف کو تجویز کردہ خاکہ گرچہ مکمل طور پر نافذ العمل تو نہ ہوا مگر اس کو ہر طبقہ فکر بالخصوص عوامی حلقوں میں پذیرائی خوب ملی۔ گزشتہ دنوں معروف اینکر حامد میر نے اس تصور کو ایسے سیاست دان سے موسوم کیا کہ جن کے دماغ میں دور دور تک اس کا خاکہ تھا اور نہ ان میں اتنی شرح و بسط سے ایسا تصور پیش کرنے کی صلاحیت۔ مگر غلطی کی گنجائش بہرحال رہتی ہے۔ میاں عامر محمود کہ جو لاہور کے ناظم اعلیٰ بھی رہ چکے علمی و سماجی حلقوں میں مقام رکھتے ہیں اور نظام کی تبدیلی کی تڑپ بھی، نے اس تصور کو از سر نو زندہ کیا اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی گفتگو سے اسے مہمیز ملی۔ گو کہ ڈاکٹر قادری کو پاکستان کے انتخابی نظام میں قبولیت ملی نہ مقبولیت، باوجود اس کے کہ انہوں نے سیاست کے کئی راز افشا کیے اور آئین کی موٹی کتابوں میں بند عوامی آرٹیکلز کہ جن پر گرد جمی تھی صاف کیا۔ آرٹیکل 62،63 بھی انہی کے خطابات سے ازبر ہوا۔ کرپشن کی ہوشربا داستانیں بھی انہوں کی زبانی سننے کو ملیں اور محفوظ طریق کار کا بھی علم ہوا پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز میں ان کے خطابات گھنٹوں براہ راست نشر ہوتے۔ ان کے پیش کردہ فارمولہ میں تحصیل اور یونین کونسل سطح تک 10لاکھ افراد کو شریک اقتدار کیا جانا شامل ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140a مقامی اور بااختیار نظام لازم ٹھہراتا ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں ترکی کے ماڈل کو بطور نمونہ پیش کیا کہ 8کروڑ پچاس لاکھ کی آبادی کے لیے 81صوبے، 957ضلعی تو 3216بلدیاتی حکومتیں جنوبی کوریا کی ساڑھے پانچ کروڑ آبادی 157محکمہ جات مقامی حکومتوں کے پاس، انڈونیشیا، ملائیشیا اور ایران میں بھی دہائیوں سے بااختیار ضلعی نظام حکومت۔ 35صوبوں؍ انتظامی یونٹس کہ جن کا سربراہ گورنر 150ضلعی اور 800تحصیل حکومتیں۔ ڈاکٹر قادری کے پیش کردہ نظام میں مرکزی سپریم کورٹ صرف آئینی اور ریاستی امور کی سماعت کر سکے گی جبکہ سپریم کورٹ ڈویژن ؍ صوبہ؍ انتظامی یونٹس کی سطح پر جس سے تحصیل سے شروع ہونے والا عدالتی سفر ڈویژن پہ ہی ختم ہو سکے گا۔ ضلعی سطح پر ہائی کورٹ اور تحصیل میں سیشن کورٹ فوری اور سستے انصاف کے لیے قائم ہوں گی۔ فوجداری مقدمات کا فیصلہ 3ماہ جبکہ دیوانی کا 6ماہ میں لازم۔ بدقسمتی سے ان کی جماعت کہ جس کا نیٹ ورک نہ صرف پاکستان بھر بلکہ دنیا کے 96ممالک میں موجود اور اس سے ہزاروں نہیں لاکھوں تعلیم یافتہ، مہذب اور سکالرز وابستہ۔ مگر معلوم نہیں کہ اتنی منظم تنظیم کا غیر موثر میڈیا ونگ آج تک اس منفرد تصور کی کماحقہ تشہیر کیوں نہ کر پایا ہمارے ہاں بدقسمتی یہ رہی کہ انتخابات میں کامیابی کو جمہوریت سمجھا جاتا ہے جبکہ ہر فلسفی و تاریخ دان نے عوام کی بڑی اکثریت کو اس ذیل میں جاہل لکھا کہ عوام کی بڑی اکثریت کبھی بھی باکردار، تعلیم یافتہ، اہل و دانش مند افراد پر مشتمل نہیں رہی۔

اقبالؒ نے بھی اسی جمہوریت بارے کہا ہے:

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

برادرم انصار عباسی نے درست کہا کہ پاکستان قومیت کی بنیاد پر نہیں اسلام کے نام پر قائم ہوا مگر بدقسمتی ہمارے کوہتاہ نظر سیاست دان قومیت اور صوبائی عصبیت کو ہوا دیکر اصل مقصد سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

مفادات کو آئینی توجہات کی چادر اڑانے والے کہنہ مشق سیاست دانوں سے معذرت کیجیے ۔ نسل نو کو اسمبلیوں اور جین زی کو ضلعی نظام میں موقع دیجیے۔ کہ سیدھے سادے، پڑھے لکھے یہ نوجوان سرخ فیتے کے پیچیدہ نظام سے واقف ہیں، تو نہ عوام کو رسوا کرنے کے قانونی طریقوں اور نہ بدعنوانی کے نت نئے حربوں سے۔ ان میں دیانت داری کا عنصر بھی غالب اور ملک کی ترقی کا جذبہ بھی۔

خود کو بھی بدلیے اور نظام کو بھی وگرنہ ناانصافی، بدعنوانی، بدکرداری اور نااہلیت کا کینسر ملک کو چھوڑے گا نہ عوام کو۔ پاکستان پائندہ باد!

جواب دیں

Back to top button