زراعت ترقی کا نیا راستہ

زراعت ترقی کا نیا راستہ
پاکستان کی معیشت میں زراعت محض ایک شعبہ نہیں بلکہ قومی زندگی کی وہ بنیاد ہے جس پر خوراک، روزگار، صنعت اور دیہی معیشت کی ایک بڑی عمارت قائم ہے۔ کھیت سے بازار تک پھیلا ہوا یہ نظام لاکھوں خاندانوں کے چولہے روشن کرتا ہے، صنعتوں کو خام مال فراہم کرتا ہے اور ملکی برآمدات میں اہم حصہ ڈالتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور زرعی برآمدات کا فروغ پاکستان کی معاشی خودمختاری اور استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت زرعی شعبے اور زرعی برآمدات کے فروغ سے متعلق اجلاس میں عالمی منڈیوں تک رسائی، نئی منڈیوں کی تلاش، جدید ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن پر زور اسی حقیقت کا اعتراف ہے۔ پاکستان گزشتہ مالی سال میں 5.18ارب ڈالر کی زرعی برآمدات کرچکا ہے۔ چاول، مچھلی، حلال گوشت، آلو، تل، تمباکو، آم اور مکئی جیسی مصنوعات عالمی منڈی میں ہماری شناخت رکھتی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی زرعی صلاحیت کے مقابلے میں اتنی ہی بڑی معاشی قدر پیدا کر رہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس زمین، موسم، پانی، محنت اور فصلوں کی وسیع اقسام موجود ہیں، لیکن پیداوار، معیار، ذخیرہ، پیکنگ، پراسیسنگ اور مارکیٹنگ کے میدان میں ابھی ایک طویل سفر باقی ہے۔ ہماری زراعت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اکثر خام زرعی پیداوار کو ہی برآمد کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ ایک آم اگر صرف پھل کی صورت میں برآمد ہو تو اس کی قدر محدود رہتی ہے، لیکن یہی آم جوس، پلپ، خشک پھل، جام یا کسی معیاری پیکیجنگ کے ساتھ عالمی مارکیٹ میں پہنچے تو اس کی معاشی قدر کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ یہی ویلیو ایڈیشن کا اصل فلسفہ ہے۔ ہمیں کھیت سے بندرگاہ تک ایک ایسی مربوط ویلیو چین تشکیل دینا ہوگی جس میں کسان کی محنت کا بہتر معاوضہ بھی یقینی ہو اور ملک کو زیادہ زرمبادلہ بھی حاصل ہو۔ اس مقصد کے لیے صرف حکومتی اعلانات کافی نہیں۔ کسان کو جدید بیج، معیاری کھاد، مناسب پانی، جدید مشینری، بروقت موسمی معلومات اور آسان مالی سہولت درکار ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور بہتر زرعی طریقہ کار کے فروغ پر زور اس سمت میں اہم قدم ہے۔ پاکستان میں زمین کی زرخیزی اور پانی کی دستیابی یکساں نہیں، اس لیے ہر علاقے کی ضروریات کے مطابق فصلوں اور زرعی طریقوں کا انتخاب ناگزیر ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اس شعبے میں خاموش انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ کسان کی زمین، فصل، مٹی اور پانی کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے کی تجویز مستقبل کی زراعت کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اگر کسان کو موبائل فون کے ذریعے موسم، بیماری، منڈی کے نرخ، پانی کی ضرورت اور فصل کی نگرانی سے متعلق بروقت معلومات ملیں تو بہت سے نقصانات سے بچا جاسکتا ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ دیہی علاقوں میں اس کی رسائی اور کسانوں کی تربیت بھی یقینی بنائی جائے۔ زراعت کو صرف فصلوں تک محدود رکھنا بھی درست نہیں۔ لائیو اسٹاک، ماہی گیری، ڈیری، پولٹری اور زرعی پراسیسنگ ایسے شعبے ہیں جن میں پاکستان کے لیے برآمدی امکانات موجود ہیں۔ حلال گوشت کی عالمی مارکیٹ ہو یا دودھ اور ڈیری مصنوعات، پاکستان اپنی وسیع زرعی بنیاد کو جدید کاروباری ماڈل میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اس کے لیے عالمی معیار، حفظان صحت، سرٹیفکیشن اور مستقل معیار کو بنیادی حیثیت دینا ہوگی۔ چین، ایران اور خلیجی ممالک پاکستان کی زرعی مصنوعات کے لیے اہم منڈیاں ہیں، مگر دنیا صرف چند بازاروں تک محدود نہیں۔ وسطی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، افریقہ اور دیگر خطوں میں بھی پاکستانی مصنوعات کے لیے امکانات تلاش کیے جانے چاہئیں۔ بیرون ملک پاکستانی مشنز میں تعینات کمرشل افسران کو محض سفارتی ذمے داریوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے فعال مارکیٹ ڈویلپر کا کردار دینا ہوگا۔ کون سی منڈی میں کس فصل کی طلب ہے، کس معیار کی ضرورت ہے اور کس قیمت پر مسابقت ممکن ہے، ایسی معلومات براہ راست کسان اور برآمد کنندہ تک پہنچنی چاہئیں۔ دوسری طرف ملک میں بجلی کی موجودہ صورتحال بھی زرعی معیشت سے الگ نہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور توانائی کی غیر یقینی فراہمی زرعی ٹیوب ویلز، کولڈ اسٹوریج، فوڈ پراسیسنگ اور زرعی صنعت کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔ اگر حکومت زرعی برآمدات میں اضافہ چاہتی ہے تو توانائی کے نظام کو بھی زرعی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔ فصل پیدا کرنا ہی کافی نہیں، اسے محفوظ رکھنا، پراسیس کرنا اور بروقت عالمی منڈی تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان موثر شراکت داری اس پورے عمل کی کلید ہے۔ زراعت کا بڑا حصہ صوبائی دائرہ کار میں ہے، اس لیے وفاقی پالیسی اور صوبائی عمل درآمد میں ہم آہنگی کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکتے۔ کسان کو مختلف اداروں کے درمیان بھٹکنے کے بجائے ایک واضح اور آسان نظام ملنا چاہیے۔ پاکستان کی زراعت کو ماضی کی روایتی سوچ سے نکال کر مستقبل کی جدید، منافع بخش اور برآمدی زراعت میں تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ کسان کو صرف پیداوار کا ذمہ دار سمجھنے کے بجائے اسے قومی معیشت کا شراکت دار بنانا ہوگا۔ اگر حکومت، صنعت، برآمد کنندگان، تحقیقاتی ادارے اور کسان ایک ہی سمت میں آگے بڑھیں تو کھیت صرف خوراک پیدا کرنے کی جگہ نہیں رہے گا بلکہ زرمبادلہ، روزگار اور معاشی خوشحالی کا مضبوط مرکز بن سکتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ زرعی پالیسی اجلاسوں اور فائلوں سے نکل کر کھیت تک پہنچے۔ جب کسان خوشحال ہوگا تو دیہی معیشت مضبوط ہوگی، صنعت کو خام مال ملے گا، برآمدات بڑھیں گی اور قومی معیشت کو ایک پائیدار بنیاد حاصل ہوگی۔ پاکستان کے کھیتوں میں صرف فصلیں نہیں اگتیں؛ وہاں ملک کے معاشی مستقبل کے بیج بھی بوئے جاتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ان بیجوں کو جدید ٹیکنالوجی، بہتر پالیسی اور عالمی منڈی کی بصیرت سے ایسی فصل میں بدلا جائے جو پورے پاکستان کی خوشحالی کا سبب بن سکے
انگلینڈ کے ہاتھوں وائٹ واش
انگلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کا ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش محض تین میچوں کی شکست نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کے مجموعی نظام کے لیے ایک سنجیدہ سوال ہے۔ برمنگھم ٹیسٹ میں 130رنز کا معمولی ہدف انگلینڈ نے دو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔ یوں انگلینڈ نے پہلی بار اپنی سرزمین پر پاکستان کے خلاف مکمل سیریز جیت کر پاکستانی ٹیم کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا۔ اس شکست کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان تینوں ٹیسٹ میچوں میں مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آیا۔ انفرادی طور پر بعض کھلاڑیوں نے اچھی کارکردگی دکھائی، مگر مجموعی ٹیم پلان، مستقل مزاجی اور دبائو برداشت کرنے کی صلاحیت نمایاں طور پر کمزور دکھائی دی۔ معمولی ہدف کا دفاع کرتے ہوئے ابتدائی دو وکٹیں حاصل کرنے کے باوجود پاکستان انگلینڈ پر دبا برقرار نہ رکھ سکا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف کھلاڑیوں کی فارم کا نہیں بلکہ حکمت عملی اور ذہنی مضبوطی کا بھی ہے۔ تاہم اس موقع پر پوری ٹیم کو ناکام قرار دینا بھی مناسب نہیں۔ پاکستان کرکٹ کو جذباتی ردعمل کے بجائے سنجیدہ اور طویل المدتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سلیکشن میں تسلسل، ڈومیسٹک کرکٹ کے معیار میں بہتری، ٹیسٹ کرکٹ کے لیے مخصوص تربیتی کیمپ اور کھلاڑیوں کی تکنیکی و ذہنی تیاری پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ صرف ہر شکست کے بعد کپتان یا چند کھلاڑیوں کو قربانی کا بکرا بنانا مسئلے کا حل نہیں۔ پاکستان میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی نہیں، کمی ایک ایسے مضبوط نظام کی ہے جو اس صلاحیت کو مستقل کارکردگی میں تبدیل کر سکے۔ نوجوان کھلاڑیوں کو اچانک بڑے مقابلوں میں آزمانے کے بجائے انہیں معیاری فرسٹ کلاس کرکٹ کے ذریعے تیار کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح ٹیم مینجمنٹ کو بھی واضح اہداف اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ انگلینڈ سے وائٹ واش پاکستان کرکٹ کے لیے ایک تلخ مگر ضروری سبق ہے۔ شکست کو صرف شرمندگی سمجھنے کے بجائے اسے اصلاح کا موقع بنایا جائے تو یہی ناکامی مستقبل کی کامیابی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کرکٹ شخصیات کے بجائے نظام، منصوبہ بندی، میرٹ اور مستقل مزاجی کو ترجیح دے۔ تب ہی قومی ٹیم دوبارہ دنیا کی مضبوط ٹیسٹ ٹیموں میں اپنا مقام حاصل کر سکے گی۔





