
یوم دفاع پاکستان، نئے صوبوں کا منجن
تحریر : سی ایم رضوان
آج پاکستان کا 61واں یوم دفاع یاد دلاتا ہے کہ 6ستمبر 1965ء کو بھارتی افواج نے رات کے اندھیرے میں کسی پیشگی اعلان کے بغیر بین الاقوامی سرحد عبور کر کے پاکستان ( خاص طور پر لاہور اور سیالکوٹ) پر حملہ کر دیا تھا۔ پاک فوج نے انتہائی دلیری، شجاعت کے ساتھ دشمن کے اچانک حملے کا نہ صرف منہ توڑ جواب دیا بلکہ ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اس 17روزہ جنگ میں پاک فوج اور عوام نے مل کر وطنِ عزیز کا دفاع کیا تھا۔ لہٰذا یہ دن صرف ہماری فوجی کامیابی کا نہیں بلکہ اس بے مثال قومی جذبے اور یکجہتی کی یادگار ہے جو اس وقت پاکستانی عوام نے اپنی افواج کی پشت پناہی کر کے دکھائی تھی۔ یہ دن ملک کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد کرنے، انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے۔
آج کے قابل رشک اور یادگار دن پر ہمارے لئے یہ دیکھنا بہر صورت ضروری ہے کہ پاکستان کس حد تک محفوظ اور شاہراہِ استحکام پر گامزن ہے۔ صد شکر کہ اس وقت پاکستان کی فوجی کمان فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے پاس ہے جنہوں نے اپنی عسکری و سفارتی عظمت کو دنیا بھر میں منوایا ہے اور ماضی کی نسبت آج پاکستان پر دنیا کا اعتماد اور یقین بڑھا ہے اور دشمن پر ہماری عسکری برتری کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے۔ آج اگر پاکستان کی سرحدی صورت حال کا جائز لیا جائے تو اس میں مثبت پیشرفت اور بعض چیلنجز، دونوں موجود ہیں۔ پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنی سرحدوں کی نگرانی کے لئے جدید ڈرونز، سرویلنس سسٹم اور جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز کو شامل کیا ہے۔ پاک افغان اور پاک ایران سرحد کے ایک بڑے حصے پر باڑ لگانے کا کام مکمل کیا گیا ہے، جس سے بلا اجازت نقل و حرکت اور اسمگلنگ میں کمی آئی ہے۔ پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ردِعمل کے وقت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ملکی سرحدوں کو درپیش چیلنجز سے بھی مفر نہیں کہ ملک کی مغربی سرحد پر سکیورٹی حالات حوصلہ افزا نہیں۔ پاک افغان سرحد پر باڑ کے باوجود دہشت گردی کے حالیہ واقعات، پارسلنگ کے مسائل کی وجہ سے یہاں پر مسلسل چوکس رہنے کی ضرورت برقرار ہے۔ خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں سرحدوں پر ہر وقت سخت نگرانی اور الرٹ کی حالت قائم رکھنا پڑتی ہے۔ لہٰذا مجموعی طور پر یہ کہنا ہی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ جدید ٹیکنالوجی، باڑ اور عسکری تیاری کے لحاظ سے سرحدیں پہلے سے زیادہ مضبوط اور محفوظ ہیں، لیکن خطے کے معروضی حالات اور سکیورٹی چیلنجز کی وجہ سے اس یوم دفاع کے عرصہ کو تاریخ کا اعلیٰ ترین عسکری تیاری اور ناقابل تسخیر عسکری صلاحیت کا دور کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ یومِ دفاع و شہدائے پاکستان کے موقع پر شہدائے وطن کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ صرف الفاظ یا تقریروں تک محدود رہنے کی بجائے ان کی قربانیوں کی روح کو سچی عمل داری کے ساتھ اپنی زندگیوں کا حصہ بنایا جائے۔
ان دنوں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے جاری بحث کے تناظر میں یومِ دفاع پاکستان کا سب سے اہم تقاضا یہ ہے کہ ملکی سالمیت، نظریاتی یکجہتی اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے فیصلے کئے جائیں۔ یومِ دفاع کا تقاضا یہ ہے کہ اگر نئے انتظامی یونٹس بنائے بھی جائیں، تو ان کی بنیاد صرف اور صرف آبادی، عوامی سہولت اور پسماندہ علاقوں کی ترقی ہو نہ کہ لسانی خطوط، تاکہ ملک کسی بھی قسم کی اندرونی خلفشار یا انارکی سے محفوظ رہے۔ سندھ اسمبلی اور دیگر فورمز پر نئے صوبوں کے معاملے پر سامنے آنے والے شدید سیاسی اختلافات یہ تقاضا کرتے ہیں کہ کوئی بھی قدم آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہ کر اٹھایا جائے۔ افسوس کہ کسی بھی حکومتی یا انتظامی اطلاع یا پروگرام کے بغیر نئے صوبوں کی بحث کا منجن ایک طرف تو تمام مردہ سیاسی گھوڑوں میں جان ڈال رہا ہے تو دوسری طرف اصل عوامی مسائل سے چشم پوش کا موثر اور آسان حربہ بنا ہوا ہے جبکہ پاکستان کے تمام سرکاری محکموں، خود مختار اداروں اور اتھارٹیوں میں کرپشن عروج پر ہے۔ ان حالات میں جبکہ پورا نظام کرپشن میں لتھڑا ہوا ہے کیا نئے صوبے بنانا مفید یا ضروری ہے یا ملکی اداروں کو کرپشن سے پاک کرنا۔
اس وقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ ملک بھر کے سرکاری محکموں میں کرپشن ایک منظم نیٹ ورک بن چکا ہے۔ یہ نظام نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے کے باہمی تعاون سے چلتا ہے، ہر سطح کا اہلکار اپنے سے اوپر والے افسر کو اس کے حصے کا نذرانہ ایمانداری اور تسلسل کے ساتھ پیش کرتا ہے تاکہ وہ اپنا غیر قانونی فائدہ اور تحفظ محفوظ طریقے سے قائم رکھ سکے۔ پولیس، ریونیو، پٹواری کلچر، کسٹمز، واپڈا، ڈسکوز، سی ڈی اے، ایل ڈی اے، کسٹمز اور بلدیاتی اداروں میں کرپشن کا یہ نظام جاری ہے۔ گراس روٹ لیول پر جہاں عام شہری کا روزمرہ کی بنیاد پر سرکاری محکموں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس کو ہر طرح سے لوٹا جاتا ہے۔ پاسپورٹ آفس، نادرا، ڈرائیونگ لائسنس، یا رجسٹریشن دفاتر میں کام کو جان بوجھ کر سست کیا جاتا ہے تاکہ ’’ ایجنٹ مافیا‘‘ یا ’’ ارجنٹ فیس‘‘ کے نام پر رشوت وصول کی جا سکے۔ پٹواری اور ریونیو کلچر میں رشوت ستانی کا یہ عالم ہے کہ زمین کا انتقال، فرد کی ڈگری یا حد بندی کے لئے مقررہ فیس کے علاوہ غیر قانونی شکرانہ وصول کیا جاتا ہے۔ رقم نہ دینے پر کاغذی ریکارڈ میں غلطیاں پیدا کر دی جاتی ہیں۔ پولیس تھانوں میں بھی ایف آئی آر کے اندراج، ملزم کی نامزدگی یا تفتیش کو من پسند سمت میں موڑنے کے لئے تفتیشی افسر اور منشی رقم طے کرتے ہیں۔ اسی طرح یوٹیلیٹی میٹرنگ اور ریڈنگ کے نام پر بھی لوٹ مار ہوتی ہے۔ بجلی اور گیس کے میٹر ریڈرز صنعتی اور تجارتی صارفین سے ماہانہ بھتہ لے کر ان کی بجلی چوری چھپاتے ہیں یا میٹر کی ریڈنگ کم درج کرتے ہیں۔ تمام تر سرکاری دفاتر کا روزمرہ کا خرچہ، سٹیشنری، فرنیچر اور گاڑیوں کے پٹرول کے جعلی بلز بنا کر روزانہ کروڑوں روپے کا بجٹ ہضم کر لیا جاتا ہے۔ رشوت ستانی کی یہ سطح گراس روٹ اور ہیڈ کوارٹرز کے درمیان پل کا کام کرتی ہے اور کرپشن سے حاصل ہونے والے سرمائے کی سب سے بڑی مانیٹرنگ اور تقسیم کرتی ہے۔ اسی طرح تبادلے اور تعیناتیاں بھی رشوت کے بڑے ذرائع ہیں۔ کمائی والے تھانوں، منافع بخش سب ڈویژنوں کے ( ایکسین یا ایس ڈی او) یا ’’ آمدنی والے اضلاع‘‘ میں تعیناتی کے لئے باقاعدہ کروڑوں روپے کی بولیاں لگتی ہیں۔ یہ سرمایہ افسر اپنی تعیناتی کے بعد ماتحتوں پر’’ ماہانہ ٹارگٹ‘‘ لگا کر پورا کرتے ہیں۔ رشوت کا ایک ماہانہ ’’ پتی ‘‘ یا ’’ بی سی‘‘ کا نظام بھی ہر سرکاری دفتر اور محکمہ میں باقاعدگی اور دھڑلے کے ساتھ چلتا ہے۔ فیلڈ سے اکٹھا ہونے والا پیسہ ( رشوت، چالان، چوری کا حصہ) جمع ہو کر ہر ماہ کے اختتام پر لائن افسران ( ڈی ایس پی، ایکسین ڈی ایچ او، اسسٹنٹ کمشنر وغیرہ) کے پاس پہنچتا ہے، جس میں سے وہ اپنا حصہ رکھ کر باقی اوپر بھیجتے ہیں۔ بلڈنگ پلانز اور این او سیز کے نام پر بھی خوب لوٹ مار ہوتی ہے۔ تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز ( ایل ڈی اے، آر ڈی اے، سی ڈی اے وغیرہ) اور ضلعی کونسلوں میں غیر قانونی کمرشل عمارتوں کی منظوری، سوسائٹیوں کا نقشہ پاس کروانے اور انکروچمنٹ ( تجاوزات) کو نظر انداز کرنے کا بھاری نذرانہ لیا جاتا ہے۔ کسٹمز اور سیلز ٹیکس کی چوری اس کے علاوہ ہے۔ بارڈر چیک پوسٹوں اور ڈرائی پورٹس پر کسٹمز انسپکٹرز اور اسسٹنٹ کلیکٹرز اسمگلنگ کو راستہ دینے کے بدلے کنٹینر کے حساب سے ’’ اسپیڈ منی‘‘ وصول کرتے ہیں۔ کرپشن کے سینئر لیول (ڈائریکٹوریٹ، سیکرٹریٹ اور اتھارٹی سربراہان) کا ذکر ابھی باقی ہے۔ اس سطح پر کاغذی کارروائی کو قانونی شکل دے کر اربوں روپے کے پراجیکٹس اور پالیسیوں میںبدعنوانی کی جاتی ہے۔ تھری پرسنٹ( 3%) سے 10% کے ’’ کک بیک‘‘ کلچر کا علم موجودہ صدر پاکستان یا وزیراعظم پاکستان کو بھی اچھی طرح سے ہے۔ ترقیاتی منصوبوں ( سڑکیں، پل، ڈیم، ہسپتال) کے ٹینڈرز جاری کرنے اور ٹھیکیداروں کے بلز کی منظوری کے لئے سیکرٹریز، ڈائریکٹر جنرلز اور چیف انجینئرز کا کمیشن ہر دور میں یقینی طور پر طے ہوتا ہے۔ اکثر من پسند کمپنیوں کو ٹینڈرز دیئے جاتے ہیں۔ پیپرا قوانین سے بچنے کے لئے ٹینڈر کی شرائط اس طرح ڈرافٹ کی جاتی ہیں کہ صرف وہی مخصوص کمپنی اہل ہو سکے جس نے پہلے سے ڈیل کی ہوتی ہے۔ صوبائی و وفاقی بھرتیاں بھی کمائی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ محکموں میں نئی اسامیوں ( حتیٰ کہ بی ایس۔01سے بی ایس۔15تک) کی بھرتیوں کا باقاعدہ کوٹہ فروخت کیا جاتا ہے یا اپنے سیاسی وفاداروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں کوئی بھی حاکم جماعت اپنا دامن چاہ کر بھی پاک نہیں رکھ سکتی۔ آڈٹ اور انکوائری پیراز کی سیٹلمنٹ بھی کرپشن کا محفوظ طریقہ ہے۔ محکموں میں آڈٹ کے دوران نکلنے والی اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کو آڈٹ پیراز ( Audit Paras) یا ڈی اے سی ( DAC) میٹنگز میں رقم کے بدلے ’’ ڈراپ‘‘ یا فائل بیک برنرز پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اب اعلیٰ ترین سطح کی کرپشن کا ذکر بھی پڑھ لیں جس میں پالیسی ساز، وزراء اور انتظامی مافیا مال کماتے ہیں۔ یہ اس پورے رشوت ستانی کے نظام کی چوٹی ہے جہاں فیصلے اور قوانین اپنے مفاد کے مطابق بنائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایسی پالیسیاں، این او سیز یا ٹیکس چھوٹ دی جاتی ہیں جن کا براہ راست فائدہ مخصوص کاروباری گروہوں، ہائوسنگ مافیا یا ذاتی شوگر یا ٹیکسٹائل ملوں کو پہنچتا ہے۔ سیٹلمنٹ و تعیناتی کا سیاسی کوٹہ بھی کرپشن کا بڑا طریقہ ہے۔ جس کے تحت صوبائی اور وفاقی وزرائ، ایم این ایز اور ایم پی ایز اپنے حلقے کا مکمل کنٹرول ( سپیڈ منی اور کنٹرول) حاصل کرنے کے لئے ڈی سی، ڈی پی او، اور سیکرٹریز کی پوسٹنگ کا کوٹہ طے کرتے ہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ محتسب ادارے کیا کرتے ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان اداروں میں بھی اسی نظام کے پروردہ بیٹھے ہیں جس نظام کی ہم بات کر رہے ہیں۔ پھر بھی احتساب کے اداروں کو بے اثر کرنے کے لئے اکثر انکوائری رپورٹیں دبا دی جاتی ہیں، نیب، انٹی کرپشن اور ایف آئی اے جیسے اداروں میں اپنے پسندیدہ اور بلیک میل ہونے والے افسروں کو تعینات کیا جاتا ہے تاکہ وہ اوپر کے نیٹ ورک پر ہاتھ نہ ڈال سکیں۔ مختصر یہ کہ پاک سر زمین کے سرکاری اداروں میں کرپشن ایک گھومتا ہوا چکر ہے، جو اپنے تمام کل پرزوں کو نوازتا ہوا چل رہا ہے۔ اس پورے نظام کو تبدیل کئے بغیر نئے صوبوں کا قیام مزید کرپٹ لوگوں کو نوازنے کے علاوہ ملک و قوم کو کچھ نہیں دے گا۔
سی ایم رضوان







