سٹریٹ موومنٹ ۔ لانگ مارچ

سٹریٹ موومنٹ ۔ لانگ مارچ
تحریر : محمد مبشر انوار(ریاض)
تحریک انصاف اپنے قائد عمران خان کی رہائی کے لئے تیسری مرتبہ سڑکوں پر نکل آئی ہے، کے پی میں اپنی حکومت ہونے اور عوام کی عمران خان کے ساتھ والہانہ محبت و عقیدت کے باعث، تحریک انصاف کا جو رہنما بھی عوام میں جاتا ہے، اس کی زبردست پذیرائی دیکھنے کو ملتی ہے، حتی کہ غیر سیاسی افراد جیسے علیمہ خان کی پذیرائی بھی کے پی کے عوام نے بھرپور کی۔ جبکہ گزشتہ دو کاوشوں میں کے پی کے عوام ہی اس جدوجہد میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے رہے ہیں گو کہ پنجاب جو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہی، وہاں سے بھی عوام عمران خان کی رہائی چاہتے ہیں لیکن پنجاب میں اس قدر فسطائیت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ عمران خان کے کارکنان کو سڑکوں پر نکلنے ہی نہیں دیا جاتا۔ پنجاب پر مسلط حکمرانوں کی ذہنی استعداد کہیں یا رو سمجھیں، ان کو اس کی قطعا کوئی پروا نہیں کہ جمہوری اقدار کیا ہیں اور ماضی میں وہ خود کس قسم کے مظاہرے جمہوریت کے نام پر کرتے رہے ہیں لیکن اس وقت پنجاب کے حکمرانوں نے فسطائیت و فرعونیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اپنے مخالفین کے لئے زندگی تنگ کر رکھی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے تیر بہدف نسخہ ایک ہی ہے کہ اپنے مخالفین پر جھوٹے مقدمات کی بھرمار کر دی جائے اور انہیں سیاسی جدوجہد کرنے کی بجائے، اپنی جان کے لالے پڑ جائیں ،وہ اپنے مقدمات کو بھگتنے میں لگے رہیں جبکہ عدالتوں کی جو حالت ان حکمرانوں نے کر رکھی ہے، وہاں سے انصاف ملنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے بالخصوص موجودہ حکمرانوں کے مخالفین، اس میں بری طرح ناکام رہتے ہیں وگرنہ جو مقدمات مخالفین پر بنائے جاتے ہیں، اگر عدالتیں آزاد ہوں، قانون کے مطابق ہی روبہ عمل ہوں، ان پر سیاسی دبائو نہ ہو، تو ایسے مقدمات دو دن عدالتوں میں ٹک نہیں سکتے۔ علاوہ ازیں! کل تک ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والے، جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کو علم ہوتا کہ جمہوری عمل میں ایک شخص کا ایک ووٹ ہوتا ہے اور سپورٹس مین سپرٹ کے مطابق حکومت بنانے کا حق، جیتنے والے کا ہوتا ہے مگر جمہوری لبادوں میں ملبوس یہ آمر، کسی اصول یا ضابطے کو نہیں مانتے اور ان کی تشریحات اپنی رہتی ہیں بس اقتدار ملنا چاہئے، خواہ راستہ غیر جمہوری ہی کیوں نہ ہو، اس کے لئے یہ حکمران کسی بھی حد تک جانے کو تیار دکھائی دیتے ہیں۔ کسی بھی احتجاجی تحریک کو دبانے کے لئے، چادر، چار دیواری کے تقدس کو بری طرح پامال کیا جاتا ہے، دھونس ، جبر، ظلم و ستم سے مخالفین کا ناطقہ بند کیا جاتا ہے ابھی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھی جس سے ان حکمرانوں کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوا کہ ایئر پورٹ روڈ پر ایک شخص، چھوٹی سی دکان میں اپنی فیملی کا رزق حاصل کرتا تھا مگر ذاتی طور پر وہ عمران خان کا شدید مداح، اس کے انداز میں اپنی زندگی گزارنے والا، اپنی دکان کے اندر عمران خان کی تصاویر آویزاں کئے ہوئے، اسی کے انداز میں بائولنگ کرتا، یعنی عمران خان کے ہر انداز کو نقل کرنا ہی اس کی عمران خان سے محبت کا ثبوت تو تھا ہی مگر یہی اس کا جرم بھی بن گیا، پوسٹ کے مطابق، اس کو تحریک انصاف کا کارکن تصور کرتے ہوئے، گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کے بچے اور اہل خانہ کا رو رو کر برا حال ہے جبکہ زندگی کے دیگر امور، نان و نفقہ کے متعلق پریشانی الگ ہے کہ آمدن کا واحد ذریعہ وہی چھوٹی سی دکان تھی، جسے وہ شخص خود چلاتا تھا، گرفتار کرنے کی وجہ سٹریٹ موومنٹ میں اس کی ممکنہ شرکت بتائی گئی ہے۔ اہل علاقہ کی جانب سے کی گئی اس پوسٹ میں التجا کی گئی ہے کہ حکومت اس کو فی الفور رہا کرے اور اہل علاقہ اس بات کی ضمانت دینے کو تیار ہیں کہ مذکورہ شخص کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہے البتہ اس کی ذاتی محبت ضرور عمران خان کے ساتھ ہے۔
سوال تو یہ ہے کہ کیا شہریوں کو اپنی مرضی سے کسی بھی قومی ہیرو کے ساتھ محبت یا عقیدت کا حق بھی ریاست دینے کے لئے تیار نہیں؟ کیا شہریوں سے محبت و عقیدت جبرا حاصل کی جائے گی؟ جیسا پنجاب کے شہروں میں، غریب مزدوروں کی رہڑھیوں پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی جبرا تصاویر آویزاں کر کے، یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عوامی مقبولیت کیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہ کرنے والوں سے مزدوری کرنے کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے، ان کا ذریعہ آمدن برباد کر دیا جاتا ہے، کیا کسی جمہوری ریاست میں امور ایسے چلتے ہیں ؟، شہریوں کی رائے کو یوں اغوا کیا جاتا ہے؟ خیر شہریوں کی رائے تو 8فروری 2024ء میں لوٹنے والوں نے زبردستی لوٹ لی اور موجودہ حکمرانوں کو اقتدار کے سنگھاسن پر لا بٹھایا جس کے بعد ان حکمرانوں سے شہری رائے کو تسلیم کرنا یا اس کو عزت دینا، حماقت ہی ہوسکتی ہے کہ جب سیاں ہوئے کوتوال تو ڈر کاہے کا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نظام نہیں چل سکتا، لمحہ موجود میں عوام اس جبر، ظلم و ستم کو طوعاً و کرہاً برداشت کر رہے ہیں مگر درپردہ لاوا پک رہا ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہتی ہے تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ لاوا کب، کیسے اور کتنا پھٹے کا اور اس لاوے میں کیا کچھ بہہ جائے گا یا راکھ ہو جائے گا۔ ایک طرف عوام کو کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا جارہا تو دوسری طرف ان کے حقوق بھی جبرا سلب کئے جارہے ہیں، اس ناانصافی اور فارم 47کی حکومت کے خلاف پرامن احتجاج کا حق آئین فراہم کرتا ہے مگر پنجاب حکومت ایسے کسی بھی احتجاج کا سنتے ہی، کانپیں ٹانگنے کا عملی مظاہرہ شروع کر دیتی ہے اور بلاوجہ قبل از وقت ہی عوام کی پکڑ دھکڑ شروع ہو جاتی ہے۔ دفعہ 144کا نفاذ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی شمار ہوتی ہے اور پنجاب کے طول و عرض میں اس دفعہ کا نفاذ صرف اس لئے کر دیا جاتا ہے کہ عوامی اجتماعات کو قبل از وقت ہی روکا جاسکے، یہ اقدامات وقتی طور پر تو عوامی جذبات کو کنٹرول کر لیتے ہیں بلکہ چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی، جو کسی جرم کے سرزد ہونے سے پہلے ہی غیر قانونی طور پر کی جاتی ہے، عوام کو متنفر کرنے کے لئے کافی ہے۔ ان ظالمانہ اقدامات کے بعد، عوام میں انقلابی روح اگر بیدار ہوئی تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟۔ حالانکہ میری دانست میں یہ ناانصافیوں کے خلاف ردعمل ہو گا، کہ اگر انقلابی روح بیدار ہونا ہوتی تو جتنے غیر قانونی اقدامات اب تک ہو چکے ہیں، جو ناانصافیاںاب تک ہو چکی ہیں، ان کے خلاف پنجاب کے شہری بھرپور طریقے سے سڑکوں پر نکل چکے ہوتے لیکن لگتا ہے کہ ابھی پنجاب کا پیمانہ صبر لبریز نہیں ہوا وگرنہ پنجاب نے بڑی بڑی تحریکیں چلا رکھی ہیں۔
بہرحال کے پی کے وزیر اعلیٰ ایک طرف کے پی کے شہریوں کو جنون دی کر اب سندھ کے دورے پر ہیں اور آج شام کو ، بشرطیکہ سندھ حکومت بھی ان کے قافلوں سے خوفزدہ نہ ہوئی اور انہیں اپنی تحریک چلانے دی، کراچی میں طاقت کا بھرپور مظاہرہ کریں گے گو کہ سہیل آفریدی اس وقت لانگ مارچ کے ساتھ ساتھ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری کرتے بھی دکھائی دی رہے ہیں اور بیک وقت اپنے کارکنان اور ووٹرز کو متحرک و فعال کر رہے ہیں ۔ دوسری طرف سیاسی شطرنج کی بساط پر وفاق کی جانب سے نئے صوبوں کا شوشہ عین اس وقت چھوڑا گیا جب تحریک انصاف سٹریٹ موومنٹ کو پوری طرح فعال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور عین ممکن ہے کہ جس طرح پیپلز پارٹی نئے صوبوں کی مخالفت کر رہی ہے، اس کو آڑ بناتے ہوئے، تحریک انصاف کی اس جدوجہد کو روک دیا جائے،یوں تاحال جس طرح سندھ نے عمران خان کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے، اس کو درمیان میں ہی روک دیا جائے۔ جبکہ اسی ہنگام کے پی کے سابق وزیر اعلی علی امین گنڈا پور بھی اچانک منظر عام پر آئے اور اپنے ایک انٹرویو میں اپنی کاوشوں کو جتلاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے دور وزارت اعلیٰ میں، عمران خان کی ملاقاتیں جاری رہیں، ذاتی معالجین کی رسائی رہی، اخبارات ، ٹی وی، کتابیں میسر رہی، البتہ عمران خان کی رہائی سے متعلق عمران خان کو بتا دیا تھا کہ ان کی رہائی ممکن دکھائی نہیں دیتی، جبکہ اپنی وزارت اعلیٰ کے حوالے سے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں اپنی وزارت اعلیٰ کے جانے کی خبر تھی۔ اس وقت ان تمام باتوں کا اظہار کس طرف نشاندہی کرتا ہے، وہ علی امین گنڈا پور کے سابقہ روئیے سے واضح ہے کہ چونکہ اب عمران خان رہائی کے حوالے سے ایک تحرک بن رہا ہے، لہذا ایسے موقع پر ایسے بیانات دے کر کیا حق نمک ادا کرنے کی کوشش ہورہی ہے یا عوام میں بددلی پھیلانے کا کام دانستہ کیا جارہا ہے؟۔ بیرسٹر گوہر کا پر اعتماد انداز میں کہنا کہ اس مرتبہ گولی نہیں چلے گی، معاملات کو عجیب بنا رہا ہے بہرحال ان تمام حقائق کے باوجود، سہیل آفریدی اپنے عزم میں پختہ دکھائی دے رہے ہیں اور جو دو ماہ کا وقت انہوں نے لانگ مارچ کے حوالے سے طے کیا تھا، اس وقت درست ثابت ہورہا ہے کہ جس طرح وہ عوام میں جارہے ہیں اور متحرک کر رہے ہیں، بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ اس مرتبہ عوام کی بڑی تعداد کو نہ صرف اسلام آباد لانے میں کامیاب ہوں گے بلکہ عمران خان کی ہدایت کے مطابق سٹریٹ موومنٹ میں بھی کامیاب ہوں گے اور پاکستان کی اہم شاہراہوں کو بند کر پائے گے،27ستمبر اب زیادہ دور نہیں، پتہ چل جائیگا۔







