Column

کشکول، عوام اور شفافیت

کشکول، عوام اور شفافیت
تحریر: رفیع صحرائی
ایک بار پھر وہی پرانی اور مانوس خبر اخبارات کی زینت بن رہی ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) سے 1ارب 20کروڑ ڈالر کی نئی قسط ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے اور حکومت نے اس کے لیے پرزور تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ 7ارب ڈالر کے ’ ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی‘ (EFF)پروگرام کے تحت ستمبر میں اگلا اقتصادی جائزہ ہوگا، جس میں گردشی قرضے، توانائی کی قیمتیں، زر مبادلہ کے ذخائر، پالیسی ریٹ، اور ٹیکس اصلاحات جیسے روایتی موضوعات زیرِ بحث آئیں گے۔ مذاکرات کامیاب ہوئے تو 1ارب ڈالر کی باقاعدہ قسط اور ماحولیاتی تبدیلی کے فنڈ سے مزید 20کروڑ ڈالر مل جائیں گے۔ حکومت شاید اسے ایک بڑی سفارتی و معاشی کامیابی کے طور پر پیش کرے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی کسی دوسرے کے آگے ہاتھ پھیلا کر رقم حاصل کر لینا کامیابی کہلاتا ہے؟
قرض چاہے کوئی فرد لے، خاندان، یا کوئی خودمختار ریاست لے بہرحال احتیاج، کمزوری اور ناداری کی علامت ہوتا ہے۔ ایک باحمیت اور عقل مند انسان صرف اسی وقت قرض کے دروازے پر دستک دیتا ہے جب زندگی اور موت کا مسئلہ بن جائے، اس کے ساتھ ساتھ دستک دینے سے پہلے اس کے پاس ادائیگی کا ایک واضح، شفاف اور قابلِ عمل منصوبہ موجود ہوتا ہے۔ کہ وہ قرض کی رقم کتنی مدت میں، کن ذرائع سے حاصل کر کے دے سکتا ہے۔ مگر جب ملکوں کا معاملہ آتا ہے وہ ذاتی قرض نہیں ہوتا حالانکہ قرض لینے والی ِکومت اسے ذاتی مال سمجھ کر ہی خرچ کرتی ہے مگر اس قرض کی واپسی عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر کی جاتی ہے۔ یوں عوام دوہرے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ قرض کی وصولی کے وقت حکومت جو کڑی شرائط مانتی ہے اس کا خمیازہ عوام مہنگائی کی صورت میں بھگتتے ہیں جبکہ قرض کی ادائیگی کے لیے مزید مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ بھی عوام ہی برداشت کرتے ہیں۔ اصول تو یہ ہونا چاہیے کہ جب ملکوں کا معاملہ آئے تو قرض عیاشی، شاہانہ طرزِ زندگی اور وقتی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان کا بنیادی اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے قرض کو ایک ناگزیر معاشی ضرورت کی بجائے اپنے ریاستی نظام کا ایک مستقل معمول بنا لیا ہے۔ ایک قرض اتارنے کے لیے دوسرا قرض، اور دوسرے کی قسط بھرنے کے لیے تیسرا قرض لینا ہماری معاشی حکمتِ عملی کا محور بن چکا ہے۔ ہم ’ کولہو کے بیل‘ کی طرح اسی ایک دائرے میں گھوم رہے ہیں اور حیرت انگیز طور پر اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ دائرے میں گھومنے سے نہ تو سفر کٹتا ہے اور نہ ہی منزل ملتی ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ قرض اور بھیک کے درمیان فرق کی لکیر بہت باریک ہوتی ہے۔ بھیک کی طرح قرض بھی اپنی مجبوریوں کا گھسا پٹا راگ الاپ کر لیا جاتا ہے، اس کے لیے درخواستیں دی جاتی ہیں، سخت سے سخت شرائط ماننی پڑتی ہیں اور فیصلہ سامنے والے کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے۔
ہماری قومی عادت بن چکی ہے کہ ہم اپنی معاشی ناکامیوں کا تمام تر ملبہ آئی ایم ایف کے سر تھوپ کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں۔ لیکن انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہم مانیں کہ آئی ایم ایف خود چل کر کسی ملک کے پاس نہیں آتا، نہ ہی وہ زبردستی کسی کی جیب میں پیسے ڈالتا ہے۔ جب ہم خود کشکول لے کر ان کے دروازے پر پہنچتے ہیں، تو ایک عالمی قرض دہندہ کی حیثیت سے وہ اپنی شرائط عائد کرتے ہیں۔ اصل سوال آئی ایم ایف سے نہیں، بلکہ ہماری اپنی حکومتوں اور پالیسی سازوں سے ہونا چاہیے کہ آخر ہم بار بار ایسی دلدل میں کیوں گرتے ہیں جہاں سے نکلنے کے لیے ہمیں اپنی قومی خودمختاری اور عوام کا سکھ چین گروی رکھنا پڑتا ہے؟
قرض کے اس تمام تر کھیل کا سب سے المناک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ فیصلے ایوانوں، بند کمروں اور پرتعیش دفاتر میں بیٹھے حکمران کرتے ہیں، لیکن ان قرضوں اور ان کی سود سمیت ادائیگی کا بوجھ ان کی ذاتی جیبوں سے نہیں نکلتا۔ ان قرضوں کی قیمت اس ملک کا غریب، متوسط اور دہاڑی دار طبقہ ادا کرتا ہے۔ جب آئی ایم ایف کی شرط پر بجلی کے بلوں میں اضافہ ہوتا ہے، گیس مہنگی کی جاتی ہے، روزمرہ اشیا پر بالواسطہ (Indirect)ٹیکس بڑھائے جاتے ہیں اور مہنگائی کا طوفان آتا ہے، تو غریب کی تھالی سے روٹی غائب ہو جاتی ہے۔ فیصلہ حاکم کا ہوتا ہے اور سزا محکوم کو ملتی ہے۔ یہ کیسی ناانصافی ہے کہ فیصلہ ساز آئی پی پیز کے ساتھ ایسی شرائط طے کر لیتے ہیں جو نہ عوام کے مفاد۔ میں ہوتی ہیں اور نہ ہی ملک کے مفاد سے ان کا کوئی واسطہ ہوتا ہے بلکہ یہی فیصلے ملکی ترقی اور معیشت کی بہتری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ عوامی اور ملکی مفاد کے برعکس فیصلے کرنے والے بھی کبھی انصاف کے کٹہرے میں آئیں گے یا ہمیشہ ملک و قوم کی تقدیر کی ملکیت کی رجسٹری ہی ان کے نام منتقل ہوتی رہے گی؟
اب وقت آ گیا ہے کہ ’’ قرض لینے سے پہلے عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا ایک آئینی و قانونی نظام‘‘ تشکیل دیا جائے۔ کسی بھی حکومت کو یہ مطلق العنان اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ جب چاہے، قوم کے مستقبل کو دائو پر لگا کر عالمی اداروں سے معاہدے کر لے۔ اگر حکومت کے نزدیک قرض لینا واقعی کسی ناگزیر معاشی حادثے کو روکنے کے لیے ضروری ہے، تو اس کی مکمل تفصیلات قوم کے سامنے رکھی جائیں: رقم کتنی لی جا رہی ہے، کن شرائط پر اور کس شرحِ سود پر؟ یہ پیسہ کس مخصوص شعبے میں خرچ ہوگا اور اس سے کیا پیداواری صلاحیت بڑھے گی؟
اس کی واپسی کا وقت کیا ہوگا اور وسائل کہاں سے پیدا کیے جائیں گے؟
اس معاہدے کے نتیجے میں عام آدمی پر بجلی، گیس اور ٹیکسوں کی صورت میں کتنا بوجھ پڑے گا؟
پاکستان کو اب اپنی تمام تر توانائیاں ’’ قرض حاصل کرنے کی اہلیت‘‘ بڑھانے کی بجائے ’’ قرض سے نجات حاصل کرنے کی صلاحیت‘‘ پر صرف کرنا ہوں گی۔ صرف قسط کا مل جانا کوئی فتح نہیں، بلکہ حقیقی فتح وہ دن ہوگا جب ہمیں کسی عالمی ادارے کے سامنے نئی درخواست نہ دینی پڑے۔ اس کے لیے چند انتہائی بنیادی اور سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں: ٹیکس کے دائرہ کار میں وسعت ناگزیر ہو چکی ہے۔ صرف ملازمت پیشہ افراد ہی کے گرد ہر مرتبہ شکنجہ مزید کسنے کا عمل روک دینا چاہیے۔ بڑے جاگیرداروں، تجارتی طبقے اور بااثر افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، بجائے اس کے کہ پہلے سے پسے ہوئے طبقے پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔
برآمدات میں اضافہ اور درآمدات پر قابو پانا بھی وقت کی پکار ہے۔ خام مال کی بجائے تیار شدہ اشیا کی برآمدات کو فروغ دیا جائے اور غیر ضروری پرتعیش اشیا کی درآمد پر مکمل پابندی لگائی جائے۔ قیمتی زرِمبادلہ بچے گا تو معیشت سنبھلے گی۔
حقیقی کفایت شعاری پر حکومتی سطح پر عملدرآمد بہت ضروری ہے۔ حکومتی اخراجات، شاہانہ پروٹوکول، اور غیر ضروری ترقیاتی منصوبوں میں نمایاں کمی کی جائے۔
ستمبر کے آئی ایم ایف مذاکرات سے قبل حکومت کو قوم کے سامنے آ کر یہ واضح کرنا ہوگا کہ اس قسط کے بعد کا اگلا قدم کیا ہے؟ کیا ہم چند ماہ بعد پھر اسی کشکول کے ساتھ نئے معاہدے کی لائن میں کھڑے ہوں گے، یا اس بار واقعی معیشت کی پائیدار بنیاد رکھی جا رہی ہے؟
قرض اگر مجبوری ہے تو اسے مجبوری ہی رہنے دیا جائے، اسے قومی مزاج اور عادت نہ بنایا جائے۔ پاکستان کے عوام پہلے ہی مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبائو میں ہیں۔ اب مزید بوجھ ڈالنے سے پہلے حکومت کو قوم کو اعتماد میں لینا ہوگا، کیونکہ جس قرض کی قسط عوام نے بھرنی ہے، اس کا فیصلہ بھی عوام کی مرضی اور ان کی منتخب پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button