امن کی فاختہ، شاخِ زیتون اور ایک بھولا ہوا سبق

پیامبر
قادر خان یوسف زئی
مذاکرات کی کوئی سرگوشی سنائی دیتی ہے، امید کا ایک دیا ٹمٹماتا ہے، لیکن پھر حقیقت کی تیز ہوا اسے بجھا دیتی ہے۔ کبھی جنیوا، کبھی استنبول، کبھی جدہ، اب مسقط میں عمان کی ثالثی کی افواہیں ہوں یا چین کی جانب سے پیش کیا گیا امن فارمولہ یہ سب سفارتی کوششیں ہیں یا محض عالمی ضمیر کو تھپکی دے کر سلانے کی لوریاں؟ ان کوششوں کا بار بار ناکام ہونا محض اتفاق نہیں، بلکہ یہ ایک گہری اور پیچیدہ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جہاں جنگ کا جاری رہنا، شاید اس کے خاتمے سے زیادہ، بعض طاقتوں کے مفاد میں ہے۔
روس، یوکرین جنگ کا المیہ محض میدانِ جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسی انسانی سانحہ ہے جس کے اعداد و شمار روح کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، فروری 2022ء سے اب تک کم از کم 15172عام شہری ہلاک اور 41378زخمی ہو چکے ہیں۔ صورتحال بہتر ہونے کے بجائے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ سال 2026ء کے پہلے چھ ماہ میں شہریوں کی ہلاکتوں میں 2025ء کی اسی مدت کے مقابلے میں 37فیصد اور 2024ء کے مقابلے میں 114فیصد کا ہوشربا اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ، قریباً 37لاکھ افراد اپنے ہی ملک میں بے گھر ہیں جبکہ 59لاکھ پناہ گزین در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ اس تباہی کے بیچ انسانی امداد کی کوششیں بھی دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ 2025ء میں یوکرین کے لیے انسانی ہمدردی کے منصوبے کو درکار فنڈز کا صرف 65فیصد ہی مل سکا، جو اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ دنیا اس بحران سے تھکنے لگی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ جنگ عالمی سطح پر توانائی اور خوراک کے سنگین بحران کو بھی جنم دے چکی ہے، جس نے غریب اور ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔
تو پھر امن مذاکرات کیوں کامیاب نہیں ہوتے؟ اس کی وجوہ اتنی ہی پیچیدہ ہیں جتنی یہ جنگ خود۔ سب سے بڑی اور بنیادی وجہ قابلِ اعتبار سکیورٹی ضمانتوں کا فقدان ہے۔ یوکرین کسی بھی قسم کی علاقائی قربانی دینے سے پہلے ایسی ٹھوس اور ناقابلِ تنسیخ ضمانتیں چاہتا ہے جو مستقبل میں روسی جارحیت کو روک سکیں۔ لیکن مغربی طاقتیں، خاص طور پر امریکہ، ایسی ’’ آہنی ضمانتیں ‘‘ دینے سے ہچکچا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مغربی ممالک کی داخلی سیاست اور حالیہ انتخابات اس تنازع کے لیے ان کی مسلسل حمایت پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔ رینڈ کارپوریشن جیسے تھنک ٹینکس کے مطابق، مغربی ممالک کی یہی ہچکچاہٹ مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS)کی تحقیق بتاتی ہے کہ جو ضمانتیں پیش کی بھی جا رہی ہیں، وہ مبہم اور مشروط ہیں۔ ایسی ضمانتیں جو یوکرین کی کسی ایک غیر ارادی غلطی پر بھی کالعدم ہو سکتی ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے لائف جیکٹ تو دی جائے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ پانی میں چھینٹیں نہ اڑائے۔
دوسری بڑی وجہ فریقین کے درمیان ’’ قابلِ اعتبار عزم‘‘ کا بحران ہے۔ مذاکرات کی میز پر کیے گئے وعدوں پر اعتبار کون کرے؟ یوکرین کو خدشہ ہے کہ جنگ بندی محض روس کے لیے اپنی فوج کو دوبارہ منظم کرنے اور نئے حملے کی تیاری کا ایک وقفہ ثابت ہوگی۔ اسی طرح، روس کو یہ یقین نہیں کہ یوکرین نیٹو کی عسکری توسیع کا مرکز نہیں بنے گا۔ یہ باہمی عدم اعتماد ایک ایسے زہریلے دائرے کو جنم دیتا ہے جہاں ہر فریق سمجھوتہ کرنے کو اپنی کمزوری اور دوسرے کی فتح سمجھتا ہے۔ رینڈ کارپوریشن اسے ’’ زمین کے بدلے سکیورٹی‘‘ کے ناقص فارمولے کی ناکامی قرار دیتا ہے، جہاں دونوں فریقوں کو یہ یقین دلانا ناممکن ہو گیا ہے کہ امن کا وعدہ واقعی حقیقی ہے۔
تیسرا اور شاید سب سے اہم نکتہ زمینی حقائق اور علاقائی مطالبات کا ٹکرائو ہے۔ روس ان علاقوں پر اپنا کنٹرول تسلیم کروانا چاہتا ہے جن پر اس نے قبضہ کیا ہے، جبکہ یوکرین اپنی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ یہ ایک ایسا ڈیڈ لاک ہے جہاں کوئی بھی فریق پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ یوکرین کے لیے اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی چھوڑنا قومی بقا اور شناخت پر حملے کے مترادف ہے، جبکہ روس کے لیے ان علاقوں سے دستبردار ہونا اپنی فوجی مہم کی ناکامی اور عالمی سطح پر سبکی کا باعث ہوگا۔ اس صورتحال میں مذاکرات محض ایک دوسرے کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے دبا ڈالنے کا ایک ذریعہ بن کر رہ گئے ہیں۔
یقیناً، کچھ حلقوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ امن کا راستہ صرف میدانِ جنگ سے ہو کر گزرتا ہے۔ ان کے نزدیک، جب تک ایک فریق کو فیصلہ کن فوجی برتری حاصل نہیں ہو جاتی، تب تک حقیقی مذاکرات ممکن نہیں۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ روس صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے اور یوکرین کو عسکری طور پر اتنا مضبوط کرنا چاہیے کہ وہ ماسکو کو اپنی شرائط منوانے پر مجبور کر سکے۔ یہ سوچ بظاہر پرکشش نظر آتی ہے، لیکن اس میں ایک بنیادی خامی ہے۔ یہ اس انسانی قیمت کو نظر انداز کر دیتی ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ ادا کی جا رہی ہے۔ مزید ہتھیاروں کا مطلب ہے مزید تباہی، مزید ہلاکتیں اور ایک ایسی جنگ جو نسلوں تک اپنے زخم چھوڑ جائے گی۔ مزید برآں، طاقت کے اس استعمال کا سب سے بھیانک پہلو یہ ہے کہ اس میں ایک فریق دنیا کی سب سے بڑی جوہری طاقت ہے؛ روسی قیادت کی جانب سے بار بار دئیے جانے والے جوہری انتباہات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ تنازع کسی بھی لمحے قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔ کیا ایک ’’ فتح‘‘ ان گنت انسانی جانوں کے ضیاع اور دنیا کو تباہی کے دہانے پر دھکیلنے کا جواز پیش کر سکتی ہے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسی جنگیں اکثر ایک ’’ غیر مساوی تعطل‘‘ پر ختم ہوتی ہیں، جہاں دونوں فریق تھک ہار کر بیٹھ تو جاتے ہیں، مگر تنازع کی بنیادی وجوہات جوں کی توں رہتی ہیں۔
آخر میں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس اندھیری سرنگ کے آخر میں کوئی روشنی ہے؟ امن کا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ اس کے لیے محض بلند و بانگ دعوئوں اور مبہم وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا فریم ورک بنانا ہوگا جس میں سکیورٹی کی ضمانتیں محض کاغذ کا ٹکڑا نہ ہوں، بلکہ ان پر عملدرآمد کا ایک واضح اور قابلِ بھروسہ نظام موجود ہو۔ جنگ بندی کی نگرانی کے لیے غیر جانبدار مبصرین اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری اور سخت کارروائی کا طریقہ کار وضع کرنا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر، عالمی طاقتوں کو اپنے تنگ نظر مفادات سے بالاتر ہو کر یہ سمجھنا ہوگا کہ یوکرین کی آگ صرف اس کے اپنے گھر کو نہیں جلا رہی، بلکہ اس کے شعلے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ اگر آج اس آگ کو نہ بجھایا گیا تو کل تاریخ ہم سے یہ سوال ضرور پوچھے گی کہ جب امن کی فاختہ شاخِ زیتون تلاش کر رہی تھی، تو دنیا کے طاقتور ممالک کیا کر رہے تھے۔





