حوثی حملہ اور عالمی تجارت کا امتحان

اداریہ۔
بحیرہ احمر اور باب المندب ایک بار پھر عالمی تشویش کا مرکز بن گئے ہیں۔ 11اگست کو تجارتی جہاز ’’ تہامہ‘‘ پر حوثیوں کے حملے نے نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ بلکہ بین الاقوامی بحری تجارت اور آزادانہ جہاز رانی کے مستقبل پر بھی سنگین سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ اس افسوس ناک واقعے میں تین پاکستانی شہریوں سمیت چار افراد ابتدائی حملے میں جاں بحق ہوئے جبکہ بعد ازاں امدادی کارروائی کے دوران مزید ہلاکتیں ہوئیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق ایک پاکستانی شہری زخمی بھی ہوا۔ یمن کے حکام کے مطابق جہاز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا اور ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے دوران بھی حملہ کیا گیا۔ یہ واقعہ عالمی تجارت کے اہم راستے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تجارتی جہاز کو نشانہ بنانا بے گناہ انسانی جانوں اور بحری سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان نے سعودی حکام اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے رابطہ کرکے واقعے کی مزید تفصیلات حاصل کرنے اور جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن واپس لانے کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔ پاکستانی شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ تجارتی جہازوں اور ان پر کام کرنے والے عام ملاحوں کو جنگی تنازعات کا نشانہ کیوں بنایا جائے؟ ایک ملاح کا کام تجارت اور روزگار ہے، کسی جنگ کا فریق بننا نہیں۔ یہ کارکن اپنے خاندانوں کے لیے رزق کمانے سمندر کا سفر کرتے ہیں۔ ان کی جانوں کو سیاسی یا عسکری اختلافات کی قیمت بنانا کسی بھی اخلاقی اور انسانی اصول کے مطابق قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتا ہے اور ایشیا، مشرق وسطیٰ، افریقا اور یورپ کے درمیان تجارتی روابط میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر اس راستے پر مسلسل حملے ہوتے رہے تو جہاز رانی کے اخراجات، انشورنس کی لاگت، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اور عالمی سپلائی چین متاثر ہوسکتی ہیں۔ اس کا نقصان بالآخر عام صارف کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کی زد میں ہے۔ مختلف فریق اپنے مفادات کے لیے طاقت استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں تجارتی راستوں کو جنگی میدان بنانا صورت حال کو مزید پیچیدہ کرتا ہے۔ اگر تجارتی اہداف نشانہ بنتے رہے تو کوئی بین الاقوامی راستہ محفوظ نہیں رہے گا۔ حوثیوں کی جانب سے یہ موقف سامنے آتا رہا ہے کہ ان کی کارروائیاں علاقائی جنگ اور سعودی یا دیگر فریقوں کے خلاف دبائو سے متعلق ہیں، لیکن کسی بھی سیاسی یا عسکری مقصد کے لیے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا ایک الگ سوال پیدا کرتا ہے۔ کسی بھی مسئلے پر احتجاج یا دبائو کے ایسے راستے اختیار ہونے چاہئیں جو بے گناہ جانوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔ طاقت کا بے جا استعمال اخلاقی بنیاد بھی کمزور کر دیتا ہے۔ پاکستان کا موقف واضح اور اصولی ہونا چاہیے۔ پاکستان بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کی حمایت کرتا ہے۔ دفتر خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان سعودی قیادت میں بحری سلامتی کے حوالے سے قائم اتحاد کا حصہ ہے اور عالمی بحری راستوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمے داریاں ادا کرنے کو تیار ہے۔ یہ پالیسی قومی مفاد سے ہم آہنگ ہے، کیونکہ پاکستان کی تجارت اور توانائی کی ضروریات محفوظ سمندری راستوں سے وابستہ ہیں۔ تین پاکستانیوں کی شہادت نے اس مسئلے کو ہمارے لیے مزید حساس بنا دیا ہے۔ ان جاں بحق شہریوں کے خاندانوں کا دکھ صرف ایک خبر یا اعداد و شمار نہیں۔ ان کے گھروں میں ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے جسے کوئی معاوضہ پُر نہیں کر سکتا۔ حکومت کی ذمے داری ہے کہ میتوں کی فوری واپسی، زخمی شہری کے بہترین علاج اور متاثرہ خاندانوں کی مکمل معاونت کو یقینی بنائے۔ مستقبل میں خطرناک بحری علاقوں میں پاکستانی شہریوں کے لیے بہتر حفاظتی انتظامات بھی ضروری ہیں۔ عالمی برادری کے لیے بھی یہ واقعہ ایک سنجیدہ پیغام ہے۔ محض مذمتیں کافی نہیں۔ بین الاقوامی پانیوں میں شہری جہاز رانی کے تحفظ کے لیے موثر اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ اور متعلقہ اداروں کو ایسے طریقۂ کار پر توجہ دینا ہوگی جس سے تجارتی راستے محفوظ رہیں۔ تاہم مسئلے کا مستقل حل صرف بحری گشت یا دفاعی اقدامات میں نہیں۔ یمن کے بحران سمیت مشرق وسطیٰ کے تنازعات کا سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا۔ جب تک محاذ آرائی اور بداعتمادی جاری رہے گی، بحری راستے خطرات سے دوچار رہیں گے۔ طاقت کے بجائے مذاکرات، فریقین کے درمیان رابطے اور علاقائی امن کے لیے سنجیدہ سفارت کاری ہی پائیدار راستہ ہے۔ پاکستان کو ذمے دارانہ سفارت کاری کا کردار مضبوط کرنا چاہیے۔ سعودی عرب سے برادرانہ تعلقات اور امن کی حمایت پاکستان کو مثبت کردار ادا کرنے کا موقع دیتی ہے۔ ہمارا پیغام واضح ہونا چاہیے کہ کسی بھی تنازع کا بوجھ عام شہریوں، ملاحوں اور تجارتی کارکنوں پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ بحیرہ احمر میں تازہ حملہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کے کسی ایک حصے میں بھڑکنے والی آگ کی لپیٹ بہت دور تک پہنچ سکتی ہے۔ آج تین پاکستانی خاندان اس سانحے کا درد برداشت کر رہے ہیں؛ کل کوئی اور شہری اس کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس لیے عالمی برادری کو خاموش تماشائی بننے کے بجائے امن، محفوظ جہاز رانی اور بین الاقوامی قانون کے تحفظ کے لیے عملی قدم اٹھانا ہوگا۔ تجارت کو جنگ کا ہدف نہیں، امن کا ذریعہ بننا چاہیے۔ سمندر سرحدوں کو ملاتے ہیں، انہیں خون سے رنگنا انسانیت کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں۔
شذرہ۔۔
مصنوعی ذہانت، روزگار کا بدلتا منظرنامہ
مصنوعی ذہانت نے دنیا بھر میں کام کرنے کے انداز کو تیزی سے تبدیل کرنا شروع کردیا ہے اور پاکستان بھی اس تبدیلی سے الگ نہیں۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ابتدائی سطح کی ملازمتوں میں کمی اور بنیادی نوعیت کے کاموں کا خودکار ہونا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مستقبل کی ملازمتیں روایتی مہارتوں کے بجائے جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ صلاحیتوں کی متقاضی ہوں گی۔ پاکستان میں ابتدائی سطح کے ٹیکنالوجی روزگار میں قریباً 25فیصد کمی اور نوجوان سافٹ ویئر ماہرین کی ملازمتوں میں کمی تشویش کا باعث ضرور ہے، لیکن اسے ٹیکنالوجی کے خلاف خطرے کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ مصنوعی ذہانت بنیادی ویب سائٹس، ایپلی کیشنز، ڈیزائن، مواد، ترجمے اور سافٹ ویئر ٹیسٹنگ جیسے کام تیزی سے انجام دے رہی ہے، مگر اسی کے ساتھ نئے شعبوں میں روزگار کے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ ہمارے نوجوان اس تبدیلی کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔ اگر تعلیم اور تربیت کا نظام آج بھی صرف روایتی پروگرامنگ اور بنیادی کمپیوٹر مہارتوں تک محدود رہا تو روزگار کے مواقع مزید سکڑ سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی، کلائوڈ کمپیوٹنگ، جدید سافٹ ویئر اور مشین لرننگ سمیت مستقبل کی مہارتوں سے آراستہ کیا جائے۔ پاکستان کے لیے خوش آئند پہلو یہ ہے کہ ٹیکنالوجی اور مواصلاتی خدمات کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کے پاس عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اپنا مقام مضبوط کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ حکومت کی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت 2030ء تک لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ تاہم صرف پالیسی بنانا کافی نہیں۔ نوجوانوں کو معیاری تربیت، جدید لیبارٹریوں، وظائف، انٹرنیٹ کی بہتر سہولت اور عملی تجربے کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ جامعات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان مضبوط روابط بھی ضروری ہیں تاکہ تعلیم اور مارکیٹ کی ضروریات میں موجود خلا ختم ہوسکے۔ مصنوعی ذہانت روزگار کی دشمن نہیں، یہ روزگار کی نوعیت تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی ہے۔ پاکستان اگر بروقت اپنے نوجوانوں کو نئی مہارتیں فراہم کر دے تو آج کا چیلنج کل کی معاشی طاقت بن سکتا ہے۔ ہمیں مصنوعی ذہانت سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے سیکھنے اور اپنے نوجوانوں کے مستقبل کو اس کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔







