ٹریفک سگنلز کی پابندی، محفوظ معاشرے اور زندگی کی ضمانت

ٹریفک سگنلز کی پابندی، محفوظ معاشرے اور زندگی کی ضمانت
تحریر: محمد راشد تبسم
تصور کیجیے کہ آپ چند لمحوں کی جلد بازی میں سرخ بتی کو نظر انداز کرتے ہوئے چوراہا عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر یہی چند لمحے کسی کی پوری زندگی بدل سکتے ہیں۔ سڑک پر سفر کرنے والا ہر فرد، خواہ وہ گاڑی چلا رہا ہو، موٹر سائیکل پر سوار ہو یا پیدل چل رہا ہو، اس کی سلامتی ٹریفک قوانین کی پابندی سے وابستہ ہے۔ یہی شعور اجاگر کرنے کے لیے دنیا بھر میں ہر سال 5اگست کو انٹرنیشنل ٹریفک لائٹس ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ ٹریفک لائٹس محض روشنیاں نہیں بلکہ نظم و ضبط، قانون کی پاسداری اور محفوظ سفر کی علامت ہیں۔
آج دنیا بھر میں گاڑیوں کی تعداد اور شہری آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کا دبائو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ایسے حالات میں ٹریفک سگنلز صرف ٹریفک کو منظم کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک محفوظ اور مہذب معاشرے کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ ٹریفک سگنل کا پہلا تجربہ 1868ء میں لندن میں کیا گیا، تاہم تکنیکی خرابی کے باعث وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ بعد ازاں 5اگست 1914ء کو امریکی شہر کلیولینڈ میں پہلا کامیاب برقی ٹریفک سگنل نصب کیا گیا، جسے جدید ٹریفک مینجمنٹ کا نقطہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔ بعد میں زرد روشنی اور تھری پوزیشن سگنل کی شمولیت سے یہ نظام مزید موثر اور محفوظ بن گیا۔
آج کا جدید ٹریفک نظام مصنوعی ذہانت، سینسرز اور کیمروں کی مدد سے ٹریفک کے بہاو کا تجزیہ کرتا ہے اور اسی کے مطابق سگنلز کا دورانیہ تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس سے ٹریفک کی روانی بہتر ہوتی ہے، ایندھن کے ضیاع میں کمی آتی ہے اور فضائی آلودگی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی سمیت مختلف ادارے جدید ٹریفک مینجمنٹ سسٹمز کے ذریعے قوانین پر موثر عمل درآمد اور ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
اس تمام پیش رفت کے باوجود دنیا بھر میں ٹریفک قوانین سے غفلت ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ہر سال قریباً 11لاکھ 60ہزار افراد سڑک حادثات میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد مستقل معذوری کا شکار ہوتے ہیں۔ تیز رفتاری، غیر محتاط ڈرائیونگ، دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ان حادثات کی نمایاں وجوہات ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے سے حادثے کا خطرہ قریباً چار گنا بڑھ جاتا ہے، جبکہ رفتار میں معمولی اضافہ بھی جان لیوا حادثات کے امکانات میں نمایاں اضافہ کر دیتا ہے۔ اسی طرح سیٹ بیلٹ اور معیاری ہیلمٹ کا استعمال حادثات کی شدت کم کرنے میں انتہائی موثر ثابت ہوتا ہے، اسی لیے ترقی یافتہ ممالک ان حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کراتے ہیں۔
پاکستان میں بھی ٹریفک حادثات ایک سنگین قومی مسئلہ بن چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2021ء میں ملک بھر میں قریباً 28ہزار افراد ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوئے۔ اسی طرح ریسکیو 1122کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 ء کے دوران صرف پنجاب میں روڈ حادثات کے نتیجے میں تقریباً 4800افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جو اس مسئلے کی مسلسل سنگینی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان حادثات کے باعث پاکستان کو سالانہ قریباً 12ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ملکی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً تین فیصد کے برابر ہے۔ حکام کے مطابق ملک میں اوسطاً ہر پانچ منٹ بعد ایک شخص ٹریفک حادثے میں ہلاک یا شدید زخمی ہوتا ہے، جو اس مسئلے کی شدت اور موثر حفاظتی اقدامات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
پاکستان میں ٹریفک حادثات میں سب سے زیادہ موٹر سائیکلیں ملوث ہوتی ہیں۔ ریسکیو 1122کی رپورٹ کے مطابق قریباً 75فیصد حادثات میں موٹر سائیکلیں شامل ہوتی ہیں، جبکہ رکشوں، کاروں، بسوں اور ٹرکوں کا تناسب اس سے کہیں کم ہے۔ ہیلمٹ استعمال نہ کرنا، ون ویلنگ، تیز رفتاری، سرخ بتی عبور کرنا اور غلط سمت سے گاڑی چلانا حادثات کی نمایاں وجوہات ہیں۔ ماہرین کے مطابق بغیر لائسنس ڈرائیونگ، کم عمر افراد کا گاڑیاں یا موٹر سائیکلیں چلانا اور ٹریفک قوانین سے ناواقفیت بھی حادثات میں اضافے کے اہم اسباب ہیں۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں میں قریباً 41فیصد تعداد پیدل چلنے والوں کی ہے، جو محفوظ پیدل گزرگاہوں اور موثر شہری منصوبہ بندی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
حادثات کی روک تھام صرف سخت قوانین بنانے سے ممکن نہیں۔ موثر قانون سازی اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے جب عوام بھی قانون کی پابندی کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ سرخ بتی پر رکنا، رفتار کو مقررہ حد میں رکھنا، لین کی پابندی کرنا، پیدل چلنے والوں کو راستہ دینا اور دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون سے اجتناب ایسے بنیادی اصول ہیں جو ہزاروں قیمتی جانیں بچا سکتے ہیں۔
اسی طرح ٹریفک قوانین سے متعلق شعور اجاگر کرنے کا آغاز گھروں، اسکولوں اور تعلیمی اداروں سے ہونا چاہیے۔ بچوں کو کم عمری ہی سے سڑکوں پر محفوظ رویوں اور ٹریفک قوانین سے آگاہ کیا جائے، جبکہ ڈرائیونگ لائسنس کے نظام کو مزید موثر اور عملی تربیت پر مبنی بنایا جائے۔ میڈیا، تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی اور متعلقہ سرکاری ادارے مشترکہ آگاہی مہمات کے ذریعے قانون کی پابندی کو ایک سماجی رویہ بنا سکتے ہیں، جس سے حادثات میں نمایاں کمی لانا ممکن ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ٹریفک لائٹس محفوظ اور منظم معاشرے کی علامت ہیں۔ سرخ بتی پر چند لمحوں کا انتظار شاید معمولی محسوس ہو، مگر یہی چند لمحے کسی ماں کی گود اجڑنے، کسی بچے کے یتیم ہونے یا کسی خاندان کی خوشیاں بکھرنے سے بچا سکتے ہیں۔ انٹرنیشنل ٹریفک لائٹس ڈے ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ سڑک پر احتیاط صرف قانون کی پابندی نہیں بلکہ انسانی زندگی کے احترام کا اظہار بھی ہے۔ اگر ہر شہری ٹریفک قوانین کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لے تو محفوظ سڑکیں، ذمہ دار شہری اور ایک مہذب معاشرہ محض خواب نہیں بلکہ حقیقت بن سکتے ہیں۔




