بھارت کو چارج شیٹ کیا جائے

بھارت کو چارج شیٹ کیا جائے
اعجاز الحق ( صدر مسلم لیگ ضیاء الحق شہید)
5اگست کا دن کشمیری عوام پر بھارت کے غیر قانونی تسلط کے حوالے سے ایک اہم دن ہے۔ آج سے سات برس قبل 2019ء میں اسی دن بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے بھارتی آئین کی دفعات 370اور 35اے کو منسوخ کر کے جموں و کشمیر اور لداخ کے علاقوں کے بھارت میں ضم کرنے کی مذموم کوشش کی۔ اس حرکت کے ذریعے ایک طرف مقبوضہ علاقوں کو ہڑپنے کا منصوبہ بنایا گیا تو دوسری جانب ان علاقوں میں موجود مسلم آبادی کے عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کرنے کی گھنائونی سازش کی گئی۔ مودی سرکار نے اپنی اس حرکت کی مخالفت میں اٹھنے والی کشمیری حریت پسندوں کی آوازوں کو دبانے کے لیے مقبوضہ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا، جس کے نفاذ کو آج سات سال مکمل ہوگئے ہیں، اس دوران مقبوضہ کشمیر میں نئے آباد کار لاکھوں ہندووں کو کشمیری ڈومیسائل دے دیا گیا ہے، جس کا مقصد کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ اس سلسلے میں بھارتی مردم شماری کمیشن نے ہندو اکثریت والے کشمیری علاقے کی نشستیں 83سے بڑھا کر 90کر دی ہیں اور ہندو اکثریت پر مشتمل ایک مکمل نیا ڈویعن بنایا گیا ہے تاکہ ہندو بالادستی ہو، جبکہ انسانی حقوق کی چیمپئن عالمی تنظیمیں اور عالمی قیادتیں اس بھارتی ہٹ دھرمی پر مکمل خاموشی اختیار کیے بیٹھی ہیں اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے غیور عوام نے مودی سرکار کی جانب سے 5اگست 2019ء کو مارے جانے والے شب خون کو یکسر مسترد کیا ہے، اور مسلسل سراپا احتجاج ہیں۔ رد عمل میں بھارت پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے، پہلگام کے واقعہ کی آڑ میں اس نے مئی میں پاکستان پر بلا جواز حملہ کیا تھا مگر منہ کی کھائی۔ پاکستان نے معرکہ حق بنیان مرصوص کی صورت میں اسے خوب سبق سکھایا اور منہ توڑ جواب دیا، رافیل تباہ کرکے اس کی فضائیہ سکرپپ بنا دی گئی، اس کے دفاعی نظام کی تکہ بوٹی کردی اور پورے بھارت میں کئی ہفتے ہو کا عالم رہا، اور پورے ملک میں آج بھی قبرستان جیسی خاموشی ہے۔ بھارت در اصل اس خطے کا تھانیدار بننا چاہتا ہے، اس لیے وہ پاکستان کے خلاف ہر وقت جارحیت کرنے کے مکروہ منصوبے بناتا رہتا ہے، مگر جب اس کے حکمرانوں کو خواب میں راجیو گاندھی کے ماتھے پر شہید صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی وہ بات، کہ ’’ میں ہندوستان کو صفحہ ہستی سے مٹا دوں گا‘‘، سن کر آنے والا پسینہ یاد آتا ہے تو ان کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔
گزشتہ پون صدی سے مقبوضہ کشمیر میں عالمی استعمار کی مدد سے بھارتی غیر قانونی قبضہ ہے، کشمیریوں پر ہر طرح کے مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ 1989ء سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں کشمیریوں کی شہادت ہو چکی ہے اب بھارت قید مسلمانوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں شہید کر رہا ہے، بھارتی حکومت اپنی مکارانہ پالیسی کے تحت مقبوضہ کشمیر میں اب تک لاکھوں غیر مقامی ووٹرز کا غیر قانونی اندراج کر چکی ہے، جس سے مقامی افراد میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔ کشمیری مسلمانوں کے خلاف استعمال کے لیے بھارتی فوج اور پولیس مقبوضہ کشمیر میں ویلج ڈیفنس گارڈز کے نام پر شدت پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) کے دہشت گردوں میں اسلحہ بانٹ رہی ہے۔ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں شراب اور منشیات کے اڈے قائم کروا رہی ہے۔ بھارت قوانین میں غیر قانونی ترامیم سے بھارتی فاشسٹ حکومت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں معاشی ترقی کے منصوبے روکے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کو روزگار کا ملنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے اسی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے آگے بڑھیں اور بھارت کو چارج شیٹ کیا جائی۔ مودی سرکار کی جانب سے بھارتی ناجائز زیر قبضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے اور اسے دو حصوں میں تقسیم کرکے بھارتی سٹیٹ یونین کا حصہ بنانے کے جبری اقدام کے آج 5اگست کو سات سال پورے ہو گئے ہیں، اس جبری اقدام کے خلاف کشمیریوں کی آواز دبانے اور ان کی ممکنہ مزاحمت روکنے کے لیے پوری مقبوضہ وادی کو فوجی محاصرے میں دینے کے بھی آج سات سال مکمل ہوگئے، مگر دس لاکھ فوجیوں کی موجودگی میں بھی کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد میں کمی نہیں آئی۔ بھارتی مظالم کے آگے اپنے حوصلے پست نہیں ہوئے، کشمیری عوام نے، جنہوں نے کشمیر کو خودمختاری دینے کا بھارتی چکمہ بھی کبھی قبول نہیں کیا اور بھارتی تسلط سے آزادی کی صبرآزما اور جانی و مالی قربانیوں سے لبریز بے مثال تحریک گزشتہ پون صدی سے جاری رکھی ہوئی ہے، اس وقت مقبوضہ وادی بھارتی فوج کے محاصرے میں ہی، کشمیریوں پر نئے مظالم کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تحت کشمیر میں عوام پر زندگی تنگ ہورہی ہے۔ کشمیری عوام اپنے معمولات زندگی سے محروم ہو گئے ہیں، ان کا روزگار اور کاروبار چھن گیا، ان کے بچوں کا تعلیمی اداروں میں جانا ناممکن ہوگیا، اور مریضوں کو ہسپتال لے جانا اور ان کے لیے ادویات تک خریدنا ناممکنات میں شامل ہوگیا۔ اس طرح کشمیری عوام انتقال کر جانے والے اپنے عزیزوں کی تدفین اپنے گھروں کے صحنوں میں دفنانے پر مجبور ہوگئے۔ تاہم اس خوف و جبر کے ماحول میں بھی کشمیریوں نے ہمت نہیں ہاری اور ملک سے باہر مقیم کشمیریوں نے دنیا کے چپے چپے میں تحریک آزادی کا پیغام پہنچا کر عالمی برادری کو بھارتی مظالم سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ کیا ہے۔ پاکستان نے بھی سفارتی ذرائع اور کوششیں بروئے کار لاکر سلامتی کونسل، یورپی اسمبلی، امریکی کانگریس اور برطانوی پارلیمنٹ سمیت ہر نمائندہ عالمی اور علاقائی فورم تک مظلوم کشمیریوں کی آواز پہنچائی ہے اور بھارتی چہرہ بے نقاب کیا ہے۔ یو این سلامتی کونسل کے تین ہنگامی اجلاس ہوئے، جن میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اس کی قراردادیں روبہ عمل لانے کا تقاضا ہوا، اور دنیا بھر میں مختلف نمائندہ فورموں کی جانب سے مقبوضہ وادی کی 5اگست 2019ء سے پہلے کی آئینی حیثیت کی بحالی کے مطالبات بیک آواز سامنے آنے لگے ہیں۔ بھارت مسئلہ حل کرنے کی بجائے ہٹ دھرم دکھا رہا ہے، مودی سرکار اقوام عالم کے کسی احتجاج اور عالمی قیادتوں و نمائندہ عالمی اداروں کے کسی دبائو کو خاطر میں نہیں لا رہی، مگر اس کے برعکس پاکستان کشمیر پر اپنے دیرینہ اصولی موقف میں فرق نہیں آنے دیا۔ کشمیری عوام آج5اگست کو مقبوضہ وادی کے علاوہ دنیا بھر میں یوم استحصال اور یوم سیاہ منائیں گے۔ اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کرتے ہوئے دنیا بھر میں آواز بلند کریں گے۔ پاکستان مسلم لیگ ( ضیاء الحق شہید) بھی عہد کرتی ہے کہ ہم شہید صدر ضیاء الحق کی طرح سینہ سپر ہو کر کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، پورا پاکستان آج مکمل ہم آہنگی سے کشمیریوں کی جدوجہد کا ساتھ دے رہا ہے، آج 5اگست کا دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں یومِ سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔ پاکستان کی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے ایسے ہی جذبے سے آزادی ملے گی اور کشمیر بھارتی جبر و تسلط سے آزاد ہوگا۔




