یومِ استحصالِ کشمیر: بھارتی جبریت اور عالمی خاموشی

یومِ استحصالِ کشمیر: بھارتی جبریت اور عالمی خاموشی
تحریر: رفیع صحرائی
تاریخ کے صفحات محض وقت کے گزرنے کا عدد نہیں ہوتے، بلکہ یہ اقوام کی حیات، ان کی عزتِ نفس اور ان کے جغرافیائی و تاریخی وجود کی شاہراہ کا تعین کرتے ہیں۔ تاریخ میں بعض ایام ایسے آتے ہیں جو سیاہ حاشیوں سے رقم ہوتے ہیں اور جن کی کسک نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ 5اگست 2019ء برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا ایسا ہی تاریک دن ہے جب بھارتی سامراج نے سنگھ پریوار اور ہندوتوا کے متکبرانہ گھمنڈ میں آئینِ ہند کے آرٹیکل 370اور 35۔A کی متنازع دھجیاں بکھیر کر ریاستِ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ایک لمحے میں ختم کر دی۔ یہ محض ایک آئینی ترمیم نہ تھی، بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، شملہ معاہدہ، عالمی قوانین اور خود بھارت کے اپنے بانی رہنماں کے وعدوں کے ساتھ ایک کھلا دھوکہ اور تاریخی غداری تھی۔ ویسے بھی بھارتی حکمرانوں کی تاریخ ایسی دھوکہ بازیوں سے بھری لڑی ہے۔
آرٹیکل 370اور 35۔Aکوئی عام آئینی شقیں نہیں تھیں، یہ کشمیری عوام کے لیے اپنی سرزمین پر حقِ ملکیت، نوکریوں اور تشخص کی واحد ضمانت تھیں۔ یہ ایسی دیوار تھیں جو وادی کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے سے روکتی تھی۔ درحقیقت یہ دیوار کشمیریوں کے تشخص کی محافظ تھی۔ مودی حکومت نے کٹر ہندوستانی ووٹروں کو خوش کرنے اور کشمیر کی تاریخی و اسلامی شناخت کو ہندو اکثریت میں بدلنے کی جو شاطرانہ سازش کی، اس نے وادی کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر دیا۔ آرٹیکل کی منسوخی کے ساتھ ہی بھارتی فوج نے خونخوار درندوں کی طرح پورے خطے کو محاصرے میں لے لیا۔ انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر دی گئی، مواصلاتی رابطے منقطع کر دئیے گئے۔ اس دوران بزرگ و جوان قیادت کی غیر قانونی نظر بندی اور معصوم کشمیریوں پر مظالم کی جو داستان رقم کی گئی اس نے استعمار کے بدترین دور کی یاد تازہ کر دی۔مودی سرکار کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے کشمیر کو ’’ ترقی اور قومی دھارے‘‘ سے جوڑ دیا ہے، دراصل ظلم اور جارحیت پر پردہ ڈالنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ کیا 8لاکھ سے زائد سنگین بردار فوجیوں کی سایہ تلے ’’ ترقی‘‘ ممکن ہے؟ کیا ہزاروں گمشدہ نوجوانوں، بیوائوں کے آنسوئوں اور مظلوموں کے آہوں پر کوئی جمہوریت کھڑی ہو سکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ترقی کا یہ کھوکھلا منتر صرف بھارتی میڈیا کے من گھڑت پراپیگنڈے کا حصہ ہے۔
دسمبر 2023ء میں بھارتی سپریم کورٹ نے مودی حکومت کے اس غیر آئینی اور غاصبانہ اقدام کو آئینی توثیق دے کر یہ ثابت کر دیا کہ بھارتی عدلیہ بھی ہندوتوا کے نظریے کی غلام بن چکی ہے اور وہاں مظلوم کشمیریوں کو انصاف ملنے کی کوئی توقع باقی نہیں رہی۔
پاکستان کے لیے مسئلہ کشمیر محض ایک سفارتی یا جغرافیائی تنازع نہیں ہے، یہ ہماری شہ رگ کا معاملہ ہے، یہ نظریہ پاکستان، قومی غیرت اور نظریاتی وابستگی کا وہ لاثانی رشتہ ہے جسے کوئی آئینی ترامیم ختم نہیں کر سکتیں۔ 5اگست کو ’’ یومِ استحصالِ کشمیر‘‘ کے طور پر منانا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ریاستِ پاکستان اور اس کے 24کروڑ عوام اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ پاکستان کا موقف پہلے بھی واضح تھا اور آج بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دئیے بغیر خطے میں امن کا قیام ایک دیوانے کا خواب ہے۔
یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ مودی کے اس اقدام نے جنوبی ایشیا کو ایٹمی تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ پاک بھارت تعلقات منجمد ہو چکے ہیں، تجارت معطل ہے اور اعتماد سازی کے تمام پل مسمار ہو چکے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عالمی برادری کی ضمیر کی رگ کب پھڑکے گی؟ اقوامِ متحدہ، انسان دوست مغربی ممالک اور حقوقِ انسانی کی تنظیمیں غزہ سے لے کر کشمیر تک صرف بیان بازی اور زبانی جمع خرچ تک کیوں محدود ہیں؟ کیا عالمی برادری اس وقت جاگے گی جب جنوبی ایشیا کا یہ شعلہ پورے خطے کے امن کو بھسم کر دے گا؟
کشمیر محض ایک زمین کا ٹکڑا نہیں، یہ شناختی جنگ، انسانی وقار، شہادتوں اور قربانیوں کا ایک جاری باب ہے۔ فتح ہمیشہ بارود اور بندوقوں کی نہیں بلکہ لازوال جذبے کی ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنی آزادی پر قربان ہونے کا فیصلہ کر لیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں غلام نہیں رکھ سکتی۔ مودی سرکار نے 5اگست کا فیصلہ کر کے آگ سے کھیلنے کی کوشش کی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو مزید متحرک کرے، سفارتی محاذ پر بھارتی مظالم کا نقاب چاک کرے اور عالمِ اسلام کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے مودی کے نازی پسندانہ چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرے۔
5اگست کا دن صرف دکھ اور احتجاج کا دن نہیں، بلکہ یہ تجدیدِ عہد کا دن ہے، اس عہد کا کہ جب تک وادیِ کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع نہیں ہوتا اور جب تک آخری کشمیری اپنے حق کے لیے لڑ رہا ہے، پاکستان کا ہر شہری ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ کشمیریوں کی خون سے لکھی گئی داستانِ عزیمت ایک دن رنگ لائے گی، اور یہ ظلم کا اندھیرا چھٹ کر رہے گا۔




