ادارہ سازی کا معمار۔۔۔ اسپیکر ملک محمد احمد خان کے تین سال ( باب دوم)

ادارہ سازی کا معمار۔۔۔ اسپیکر ملک محمد احمد خان کے تین سال ( باب دوم)
گوہر ہاشمی
اسٹینڈنگ کمیٹیاں: پارلیمان کا دھڑکتا ہوا دل
جمہوریت کا حسن صرف انتخابات میں نہیں، بلکہ انتخابات کے بعد قائم ہونے والے ان اداروں میں ہوتا ہے جو عوامی اعتماد کی حفاظت کرتے ہیں۔ پارلیمان انہی اداروں میں سب سے نمایاں ہے، مگر پارلیمان کی اصل روح ایوان میں ہونے والی تقاریر سے زیادہ ان کمیٹی رومز میں جلوہ گر ہوتی ہے جہاں شور نہیں بلکہ دلیل بولتی ہے، جہاں سیاست نہیں بلکہ ریاست زیرِ بحث آتی ہے، اور جہاں حکومت سے صرف سوال نہیں بلکہ جواب بھی طلب کیا جاتا ہے۔
اسی لیے دنیا کے معروف پارلیمانی ماہرین ایک جملہ بار بار دہراتے ہیں:
’’ Committee is Parliament at Work‘‘، یعنی ’’ اسٹینڈنگ کمیٹیاں دراصل عمل کرتی ہوئی پارلیمان ہیں‘‘۔
برطانیہ کی صدیوں پر محیط پارلیمانی تاریخ ہو، امریکی کانگریس کی روایات ہوں، کینیڈا، آسٹریلیا یا بھارت کی قانون ساز اسمبلیاں ہوں، ہر جگہ ایک حقیقت مسلم ہے کہ پارلیمان کی اصل طاقت اس کے کمیٹی نظام میں مضمر ہوتی ہے۔ ایوان میں قانون منظور ہو جاتا ہے، مگر اس قانون کی روح، اس کی باریکی، اس کے اثرات اور حکومت کی جواب دہی کا حقیقی امتحان کمیٹیوں میں ہوتا ہے۔
اگر پارلیمان کو ایک عظیم الشان باغ تصور کیا جائے تو اسپیکر اس کا نگران ضرور ہوتا ہے، لیکن اس باغ کو سرسبز رکھنے والے مالی اسٹینڈنگ کمیٹیاں ہوتی ہیں۔ یہی وہ ادارے ہیں جو قانون کے پودوں کی آبیاری کرتے ہیں، احتساب کے درختوں کو تناور بناتے ہیں اور عوامی اعتماد کے پھول کھلاتے ہیں۔ اگر یہ باغبان اپنی ذمہ داری ادا نہ کریں تو پارلیمان کی عمارت تو قائم رہتی ہے، مگر اس کی روح آہستہ آہستہ پعمردہ ہونے لگتی ہے۔
پنجاب اسمبلی کے حالیہ تین برسوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کے حامی اس دور کی ایک اہم خصوصیت کمیٹی نظام کو فعال بنانے کی کوشش کو قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق کمیٹیوں کو محض رسمی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے اجلاسوں، محکموں کی بریفنگ، کارکردگی کے جائزوں اور سفارشات پر عملدرآمد کو زیادہ مثر بنانے پر توجہ دی گئی۔ اس نقطہ نظر کے مطابق پارلیمانی نگرانی کو ایک زندہ عمل کی صورت دینے کی کوشش اس دور کی نمایاں پہچان رہی۔
پارلیمانی نگرانی (Parliamentary Oversight)دراصل جمہوریت کا وہ ستون ہے جس کے بغیر عوامی نمائندگی ادھوری رہ جاتی ہے۔ اگر قانون سازی کو جمہوریت کا دماغ کہا جائے تو نگرانی اس کا ضمیر ہے۔ حکومت کو وسائل عوام دیتے ہیں، اختیار آئین دیتا ہے اور جواب دہی پارلیمان یقینی بناتی ہے۔ یہی وہ سلسلہ ہے جو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم رکھتا ہے۔
کسی بھی محکمہ کا بجٹ، اس کی سالانہ کارکردگی، ترقیاتی منصوبے، عوامی شکایات، انتظامی اصلاحات اور آئندہ اہداف، یہ سب امور اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں کمیٹیوں کو ’’ پارلیمان کی ورکشاپ‘‘ کہا جاتا ہے، جہاں فیصلے صرف اکثریت کی بنیاد پر نہیں بلکہ تحقیق، اعداد و شمار اور مشاورت کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں۔
ملک محمد احمد خان کے دور میں اس تصور کو تقویت دینے کی کوشش نظر آتی ہے کہ اسمبلی صرف قراردادیں منظور کرنے والا ایوان نہیں بلکہ ایک ایسا ادارہ بھی ہے جو حکومت کے ہر شعبے کی آئینی نگرانی کرے۔ جب متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور اعلیٰ افسر منتخب نمائندوں کے سامنے اپنی کارکردگی پیش کرتے ہیں، سوالات کے جواب دیتے ہیں اور سفارشات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کراتے ہیں تو درحقیقت یہی عمل جمہوریت کو طاقتور بناتا ہے۔
ایک مضبوط کمیٹی نظام حکومت کے لیے رکاوٹ نہیں بلکہ رہنمائی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اچھی حکومت وہ نہیں جس سے کبھی غلطی نہ ہو، بلکہ وہ ہے جو اپنی خامیوں کی نشاندہی کو قبول کرے اور انہیں دور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اسی لیے ترقی یافتہ ممالک میں حکومتیں کمیٹیوں کی تنقید کو مخالفت نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔پنجاب اسمبلی میں اس سوچ کو فروغ دینا، کمیٹیوں کی افادیت کو نمایاں کرنا اور ان کے کردار کو موثر بنانے کی کوشش اس وسیع تر تصور سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے کہ اداروں کی مضبوطی ہی جمہوریت کی مضبوطی ہے۔ ان کے حامی اس عمل کو محض انتظامی پیش رفت نہیں بلکہ ادارہ جاتی ارتقا کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی اصل کامیابی صرف اجلاسوں کی تعداد میں نہیں ہوتی بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ ان کی سفارشات کس حد تک پالیسی سازی پر اثرانداز ہوتی ہیں، کتنے عوامی مسائل حل ہوتے ہیں، کتنے محکمے زیادہ جواب دہ بنتے ہیں اور قانون سازی کا معیار کس حد تک بہتر ہوتا ہے۔ یہی وہ پیمانے ہیں جن پر دنیا کی ہر سنجیدہ پارلیمان اپنا احتساب کرتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کمزور پارلیمانوں میں حکومتیں طاقتور ہوتی ہیں، مگر مضبوط پارلیمانوں میں ادارے طاقتور ہوتے ہیں۔ اور جب ادارے طاقتور ہوں تو حکومتیں بھی زیادہ ذمہ دار، زیادہ شفاف اور زیادہ عوام دوست بنتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اگر پنجاب اسمبلی کے اس دور کی شناخت چند نمایاں نکات میں کی جائے تو کمیٹی نظام کی فعالیت، پارلیمانی نگرانی کو موثر بنانے کی کوشش اور ادارہ جاتی اصلاحات کا بیانیہ ان عناصر میں شامل دکھائی دیتا ہے جنہوں نے اسمبلی کے کردار کو صرف قانون سازی تک محدود رکھنے کے بجائے نگرانی، احتساب اور بہتر حکمرانی کی سمت وسعت دینے کی کوشش کی۔
جمہوریت کی عمارت صرف اینٹ اور پتھر سے نہیں بنتی۔ اس کی بنیاد اعتماد، قانون اور جواب دہی پر رکھی جاتی ہے۔ اور اس بنیاد کو مضبوط رکھنے والے ستون اگر کوئی ہیں تو وہ یہی اسٹینڈنگ کمیٹیاں ہیں، جو خاموشی سے کام کرتی ہیں مگر ان کے فیصلوں کی بازگشت پورے نظامِ حکومت میں سنائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر بالغ جمہوریت اپنے کمیٹی نظام پر فخر کرتی ہے، کیونکہ یہی وہ جگہ ہے جہاں پارلیمان واقعی کام کرتی ہوئی پارلیمان بن جاتی ہے۔





