بیڈ گورننس اور انتظامی یونٹس

بیڈ گورننس اور انتظامی یونٹس
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان سے موجودہ نظام ناکام ہوگیا ہے، ملک بھر میں ایک نئی بحث شروع ہو چکی ہے۔ گو مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے وزیر داخلہ کے اس بیان پر پارٹی رہنمائوں کو تحمل ا ور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر داخلہ کے بیان کو نظر انداز کرنے کو کہا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ کے موجودہ نظام کی ناکامی بارے بیان سے سیاسی رہنمائوں کے بیانات کا پینڈورا باکس کھل گیا ہے۔ میاں نواز شریف جو طاقتور حلقوں سے چپقلش کی پاداش میں دو مرتبہ اقتدار سے محروم کر دیئے گئے، اور انہیں ملک چھوڑنا پڑا، پھونک پھونک کر چل رہے ہیں۔ اگرچہ ان کے چھوٹے بھائی وزیراعظم اور پنجاب میں ان کی ہونہار بیٹی مریم نواز وزیراعلیٰ ہیں، جن کا اقتدار طاقتور حلقوں کا مرہون منت ہے۔ بظاہر نواز شریف طاقتور حلقوں سے محاذ آرائی کے حق میں نہیں ہیں، انہیں اس بات کا ادراک ہے اگر ان کی جماعت نے آنکھیں دکھانے کی کوشش کی تو انہیں اقتدار کی مسند سے اتارا جا سکتا ہے۔ موجودہ صورت حال میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون دونوں نازک دوراہے پر کھڑی ہیں، نئے صوبوں کے قیام سے دونوں جماعتوں کی اپنے اپنے صوبوں پر گرفت کمزور ہونا قدرتی امر ہے۔ پنجاب جو سولہ کروڑ کی آبادی کا سب سے بڑا صوبہ ہے، دنیا کے بہت سے ملک پنجاب سے کم آبادی پر مشتمل ہیں۔ اتنے بڑے صوبے میں بیڈ گورننس کا ہونا کوئی انہونی بات نہیں ہے، جس صوبے میں وفاقی سروسز کے افسران اور صوبائی سروس کے افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ کا معاملہ حل طلب ہو، ستھرا پنجاب میں کام کرنے والے ہزاروں سینیٹری ورکرز ماہانہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کر رہے ہوں، وہاں گڈ گورننس کی امید عبث ہے۔ ایک طرف وزیراعلیٰ اربوں روپے کا جہاز خرید رہی ہیں، جس کی چنداں ضرورت نہیں تھی، دوسری طرف ہزاروں ملازمین اپنے تنخواہوں کے لئے سڑکوں پر ہوں، وہاں اچھے کی امید کم ہی رکھنی چاہیے۔ جہاں تک وفاقی اور صوبائی افسران کی تعیناتی کی بات ہے، آج سے کئی برس قبل یہ اصول طے کر دیا گیا تھا کہ پنجاب میں نصف وفاقی سروس اور نصف صوبائی سروسز کے افسران کو پوسٹنگ دی جائے گی۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے، ملک کے عوام مہنگائی کے ہاتھوں رل گئے ہیں، لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں روزمرہ کی اشیائے ضرورت کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں دیکھا جائے تو نئے صوبے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ غریب عوام حصول انصاف کے لئے دربدر ہیں، اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، جب کہ سیاست دان سب اچھے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کی تازہ ترین رپورٹ ہے ملک کے پچاس فیصد عوام غربت کا شکار ہیں، اس کے برعکس سیاست دان ملک کی ترقی کے دعویٰ دار ہیں۔ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے آئے روز اعلیٰ افسران کے اکھاڑ پچھاڑ سے معاملات درست نہیں ہو سکتے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے جن افسران کو لگایا جائے وہ اس عہدے کے اہل بھی ہیں یا نہیں۔ پنجاب کے بہت سے اضلاع میں وفاقی سروس کے بہت سے ایسے افسران کو ڈپٹی کمشنر لگایا گیا جو اس عہدے کے اہل نہیں تھے، مگر انہیں ایک سال سے زیادہ کام کرتے ہو گیا تو انہیں تبدیل کرنے کا خیال آیا۔ راولپنڈی جیسے بڑے شہر کے ڈپٹی کمشنر کی اسامی گریڈ بیس کی اور کمشنر کے لئے گریڈ اکیس کا ہونا ضروری ہے، یہاں تو گریڈ اٹھارہ اور انیس کے ڈپٹی کمشنر لگائے گئے، اور اب انہیں ان کے عہدوں سے تبدیل کیا گیا ہے۔ آئی جی پولیس کو لگائے چند ماہ بھی نہیں ہوئے ہیں کہ ان کی جگہ نئے آئی جی کو لگانے کی باتیں چل رہی ہیں، کبھی کسی خاتون پولیس افسر کو آئی جی لگانے کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے۔ عام طور پر صوبوں میں چیف سیکرٹری اور آئی جی کو تین سال کے لئے لگایا جاتا ہے۔ میرے خیال میں چیف سیکرٹری پنجاب جو نگران دور سے پہلے کے لگے ہوئے ہیں، انہیں تین سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے، اگر انہیں تبدیل کیا جاتا ہے تو کوئی ہرج نہیں، لیکن آئی جی کو کئی روز تک انٹرویو کرنے کے بعد لگایا گیا اور اب ان کی تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی بلکہ ہر سیاسی جماعت کے ادوار میں ارکان پارلیمنٹ خواہ ان کا تعلق وفاق سے ہو یا صوبوں سے ہو، من پسند افسران کو لگوانے کے لئے دوڑ دھوپ کرتے ہیں، یہی صورت حال پنجاب میں بھی ہے، آئے روز افسران کے تبادلوں کا طوفان اس بات کا غماز ہے صوبے میں گڈ گورننس نہیں ہے۔ اب آتے ہیں نئے صوبوں کے قیام کی طرف، تو نئے صوبے اس لئے بھی ضروری ہیں پنجاب جیسے بڑے صوبے پر حکومت کی گرفت کمزور ہو چکی ہے، عوام کے گوناگوں مسائل حل طلب ہیں، نارتھ اور سائوتھ پنجاب علیحدہ علیحدہ صوبے بننے سے عوام کے جائز مسائل حل کرنے میں بڑی مدد ملے گی، اور اس کے ساتھ مبینہ طور پر لوٹ مار کا جو بازار گرم ہے، اس میں بھی کمی کی امید کی جا سکتی ہے۔ جس صوبے کی وزیراعلیٰ لوگوں کو مہنگائی کے چنگل سے نجات دلانے کی بجائے بڑے بڑے پل، میٹرو بس سروس اور جہاز خرید رہی ہو، ایسے صوبے کے عوام کی زندگیاں اجیران نہیں بنیں گئی تو کیا ہوگا۔ قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں کو اربوں کے اشتہار دے کر عوام کے دلوں پر حکمرانی ممکن نہیں، عوام کے دل جیتنے کے لئے ان کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ یوں بھی حقیقت یہ ہے ملک کے عوام پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ نون سے مایوس ہو چکے ہیں اور وہ کسی مسیحا کی متلاشی ہیں۔ موجودہ قیادت نے ملک کو مقروض سے مقروض تر بنا دیا ہے سرمایہ کاری نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایک ملک سے قرض لے جہاں دوسرے ملک کا قرض اتارا جائے، ایسی حکومت سے عوام کو کبھی اچھے کی امید نہیں رکھنی چاہیے، لہذا اب وقت آگیا ہے ملک کے باگ دوڑ کسی نئی قیادت کے حوالے کی جائے، تاکہ ملک کے عوام سکھ کا سانس لے سکیں اور ہمارا ملک بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔





