CM RizwanColumn

آزاد کشمیر انتخابات، وہی خرافات

جگائے گا کون؟
آزاد کشمیر انتخابات، وہی خرافات
تحریر: سی ایم رضوان
آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے ( میرپور ڈویژن) کی تمام نشستوں کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ چکے۔ تین اضلاع ( میرپور، بھمبر اور کوٹلی) کی نشستوں پر مسلم لیگ ( ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ مسلم لیگ ( ن) نے پہلے مرحلے کی نشستوں میں سے اکثر پر کامیابی حاصل کر کے برتری قائم کی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر رہی مگر کئی اہم حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔ چند دیگر نشستوں پر آزاد امیدواروں اور مقامی جماعتوں کا ووٹ بینک بھی تھوڑا بہت نظر آیا۔ تاہم پہلے مرحلے کے ان نتائج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وفاق اور متعدد صوبوں میں اہم اتحاد قائم کرنے والی دونوں بڑی جماعتیں ( ن لیگ اور پی پی پی) آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی قریب ترین مقابلے میں ہیں اور آزاد کشمیر کی اگلی حکومت کے قیام میں اگلا مرحلہ بھی شاید اس حوالے سے انتہائی مضحکہ خیز ہو کہ وہاں بھی مرکز کی طرح ان دونوں کو ایک دوسرے سے اتحاد قائم کرنا پڑے۔
افسوس کہ آزاد کشمیر انتخابات میں ان دونوں جماعتوں کے حامی گروہوں کے مابین تشدد اور لڑائی جھگڑے کے ایک واقعہ میں پیپلز پارٹی کے کارکن ایک شہری کی جان چلی گئی۔ حالانکہ جمہوری عمل کا مقصد عوامی رائے کی پرامن ترجمانی ہوتا ہے، نہ کہ سیاسی محاذ آرائی میں قیمتی جانوں کا زیاں۔
جہاں تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ( ن) کے رہنمائوں کے حالیہ سخت اور متحارب بیانات کا تعلق ہے، تو پاکستانی اور آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ انتخابی لفاظی اور پوسٹ الیکشن سیاسی مصلحت میں واضح فرق ہوتا ہے۔ لیکن اگر نتائج کے بعد کل کلاں دونوں جماعتوں کو حکومت سازی کے لئے جنرل انتخابات 2024ء کی طرح ایک دوسرے کا سہارا لینا پڑا، تو اس کا حل بھی یہ دونوں جماعتیں نکال لیں گی اور آزاد کشمیر میں اتحادی حکومت بنانے کے لئے یہ ماضی کی طرح یا تو ’’ علاقائی استحکام اور مجبوری‘‘ کا بیانیہ بنا کر انتخابی تلخیوں کو ’’ انتخابی جوش و خروش‘‘ قرار دے کر سائیڈ پر کر دیں گے اور مرکزی اور علاقائی قیادت کا نیا بیانیہ یہ ہو گا کہ آزاد کشمیر میں سیاسی عدم استحکام سے بچنے اور عوامی مسائل کے حل کے لئے باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈالنا وقت کی ضرورت ہے یا پھر متوقع اتحادی حکومت کی تشکیل کے وقت اقتدار اور عہدوں کی آپس میں تقسیم کر لی جائے گی اور موجودہ متحارب سیاسی بیانیے کے زخموں کو بھرنے کے لئے صدر، وزیر اعظم، اسپیکر اور اہم وزارتوں کی برابر یا متناسب تقسیم کا فارمولا طے کر لیا جائے گا۔ جیسا کہ مرکز میں دیکھا جا رہا ہے کہ جب دونوں فریقین کو اقتدار میں جگہ مل جاتی ہے تو انتخابی مہم کے بیانات خود بخود پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں۔ متوقع اتحاد کے لئے مرکزی سیاق و سباق کو آزاد کشمیر کی حکومت سازی کیلئے بھی استعمال کر لیا جائے گا چونکہ وفاقی سطح پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ( ن) کے تعلقات قائم ہیں۔ اسی طرح کی سیاسی معاہداتی حکمتِ عملی آزاد کشمیر میں بھی اپنا اثر دکھا سکتی ہے۔ اکثر اوقات دیکھا بھی یہی گیا ہے کہ دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادتیں مقامی رہنمائوں کو انتخابی محاذ آرائی ختم کر کے ’’ سیاسی مفاہمت ‘‘ پر راضی کر لیتی ہیں۔ پچھلی چند دہائیوں کی سیاسی تاریخ، خاص طور پر پی ڈی ایم کی تشکیل اور اس سے قبل میثاق جمہوریت اور حالیہ سالوں میں وفاق میں بننے والے اتحاد، اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں جماعتوں کے لئے ’’ سخت بیانیے سے دور ہٹنا‘‘ اور ’’ مفاہمت کا راستہ اپنا لینا‘‘ کوئی مشکل یا نئی بات نہیں۔ عوام کے سامنے ان بیانات کی تاویل دینا بھی سیاسی لیڈروں کے لئے کبھی باعث شرم نہیں رہا۔
اب بھی پیپلز پارٹی کا ن لیگ کو ’’ فارم 47کی پیداوار‘‘ قرار دینا اور ساتھ ہی وفاق میں اس کے ساتھ شراکتِ اقتدار جاری رکھنا، ایک تضاد دکھائی دیتا ہے۔ لیکن پاکستانی سیاست کے عملی اور ڈھانچہ جاتی تناظر میں اس بیانیے کی اپنی ایک خاص حکمتِ عملی اور سیاسی معنویت ہے۔ گو کہ اس تضاد کو وفاقی اتحاد کے تناظر میں عوامی سطح پر تنقیدی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
ریکارڈ گواہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے 2024ء کے عام انتخابات کے بعد حکومت کا براہِ راست حصہ بننے ( وزارتیں لینے) کے بجائے باہر سے حمایت دینے کی پالیسی اپنائی۔ اب فارم 47کا بیانیہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی ن لیگ کی حکومتی مقبولیت یا ناکامیوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں لینا چاہتی۔ وہ ایک طرف وفاق میں ن لیگ کو سہارا دے کر نظام جاری رکھے ہوئے ہے۔ دوسری طرف ن لیگ کو فارم 47کا طعنہ دے کر عوامی سطح پر خود کو ن لیگ کی پالیسیوں اور عوامی غصے سے الگ رکھتی ہے۔ یوں اپنے سیاسی بیانیے اور ووٹ بینک کی حفاظت کی ناکام کوشش میں یہ جمہوری چیمپئن بدنام ہو رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کا بنیادی مقابلہ پنجاب اور دیگر علاقوں میں ن لیگ کی جگہ لینا یا کم از کم اپنے منشور اور ساخت کو قائم رکھنا ہے۔ اگر وہ ن لیگ کی الیکشن میں کامیابی کو مکمل طور پر تسلیم کر لے، تو اس کا اپنا ن لیگ مخالف ووٹ بینک ( خاص طور پر پنجاب اور آزاد کشمیر میں) متاثر ہوتا ہے۔ لہٰذا، ’’ فارم 47‘‘ کا بیانیہ ان کے کارکنوں اور ووٹروں کو یہ باور کرانے کا ذریعہ ہے کہ ’’ ہم ن لیگ کو اصولی طور پر حقیقی عوامی نمائندہ نہیں مانتے، بلکہ محض ایک مجبوری کی حد تک ان کے ساتھ کھڑے ہیں‘‘۔ القصہ پیپلز پارٹی کا یہ بیانیہ اصولوں کی جنگ کم اور ’’ سیاسی خطرات سے بچائو‘‘ کی چال زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ طعنہ ن لیگ کو کمزور رکھنے اور پیپلز پارٹی کے اپنے سیاسی وجود کو وفاقی اتحاد میں آزاد رکھنے کا ایک ہتھیار ہے حالانکہ وفاقی اتحاد میں پیپلز پارٹی جب بھی ن لیگ کی کسی پالیسی ( مثلاً بجٹ، خصوصی ترقیاتی فنڈز، یا گورنروں کی تعیناتی) سے غیر مطمئن ہوتی ہے، تو وہ اس بیانیے کو بطور دبائو استعمال کرتی ہے۔ اس بیانیے کا واضح پیغام یہی ہوتا ہے کہ بھٹو پارٹی کے پاس عوامی، سیاسی اور اخلاقی جواز کمزور ہے، لیکن ہماری سیاسی تاریخ میں ’’ انتخابی محاذ‘‘ اور ’’ وفاقی ضرورت‘‘ ہمیشہ دو الگ پٹریوں پر چلے ہیں۔ آزاد کشمیر کے انتخابات میں اس وقت پیپلز پارٹی اور ن لیگ آمنے سامنے لڑ رہی ہیں، لہٰذا وہاں ن لیگ پر حملہ آور ہونا اس کی انتخابی ضرورت ہے۔ لیکن اسلام آباد پہنچتے ہی دونوں جماعتوں کے لئے سسٹم کا تسلسل پہلی ترجیح بن جاتا ہے۔ لہٰذا پیپلز پارٹی کا یہ بیانیہ ن لیگ سے وفاق میں اتحاد ختم کرنے کا اشارہ ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے ووٹ بینک کو بچانے حکومت کے گناہوں سے پاک رہنے اور ن لیگ کو بیک فٹ پر رکھنے کا سیاسی آلہ ہے۔ ن لیگ بھی اس حقیقت کو سمجھتی ہے، اسی لئے شدید تکرار کے باوجود وہ اس طرح کے بیانات کو انتخابی اور سیاسی لفاظی مان کر نظر انداز کر رہی ہے۔
دوسری طرف آزاد کشمیر کا سیاسی منظر نامہ اکثر اسلام آباد اور مظفرآباد کے درمیان پاور پلے، پارٹی بیانیوں اور انتخابی گہما گہمی میں ہی الجھا رہتا ہے۔ اس تمام شور و غل میں وہ حقیقی اور روزمرہ عوامی مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں جو عام کشمیری کی زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔ یہاں کی سیاست کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں کی مقامی جماعتیں اپنے بنیادی منشور کی بجائے اسلام آباد میں بیٹھی طاقتور سیاسی جماعتوں کے ملاپ اور اشاروں پر انتخاب لڑتی ہیں۔ اس نوعیت کے انتخابات کے لئے منشور اور بیانیہ بھی یہی دیکھتا ہے کہ مرکز میں کس کی حکومت ہے اور مظفرآباد میں تخت کسے ملے گا، جس کے نتیجے میں مقامی اور گلی محلوں کے مسئلے ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں اور یوں آزاد کشمیر کے انتخابی جلسوں کے فلک شگاف نعروں کے درمیان عام آدمی کے بنیادی مطالبات کہیں پاتال میں دب کر رہ جاتے ہیں اور منگلا جیسے اہم پاور پراجیکٹ کا حامل خطہ ہونے کے باوجود آزاد کشمیر کے مقامی باشندے مہنگی بجلی اور طویل لوڈ شیڈنگ کی شکایات کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح آزاد کشمیر کے بڑے اضلاع کے علاوہ نیلم، جہلم ویلی، سدھنوتی اور دیگر دور دراز علاقوں میں معیاری ہسپتالوں اور یونیورسٹیوں کا سخت فقدان ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں مریضوں کو راولپنڈی یا اسلام آباد ہی لانا پڑتا ہے۔ بنیادی انفراسٹرکچر بھی زبوں حالی کا شکار ہے۔ سیاحت کے حوالے سے مشہور ہونے کے باوجود آزاد کشمیر کی اندرونی سڑکیں خستہ حال ہیں، پینے کا صاف پانی نایاب ہے اور زلزلے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کا کام اکثر التوا کا شکار رہتا ہے۔ ان حالات میں سیاسی جماعتوں کے غیر حقیقت پسندانہ بیانیے کھل کر کام دکھاتے ہیں۔ انتخابات کے دوران زیادہ تر گفتگو نظریاتی باتوں، ایک دوسرے پر الزام تراشی اور دفاعی یا فارن پالیسی کے گرد گھومتی ہے۔ لہٰذا جب سیاست کا محور محض ایک دوسرے کو غدار یا نااہل ثابت کرنا ہو تو وہاں روزگار، ریونیو ماڈل اور بلدیاتی اختیارات جیسے زمینی مسائل پر بات کرنے کی گنجائش ہی ختم ہو جاتی ہے۔ آزاد کشمیر کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن مقامی سطح پر صنعتی زونز یا روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ نالج اکانومی اور آئی ٹی انڈسٹری کی عدم موجودگی کی وجہ سے نوجوان یا تو برطانیہ، خلیجی ممالک ہجرت کرنے پر مجبور ہیں یا پھر راولپنڈی، اسلام آباد منتقل ہو جاتے ہیں۔ افسوس کہ آزاد کشمیر میں بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر کسی بھی جماعت کے پاس کوئی جامع اور عملی معاشی روڈ میپ دکھائی نہیں دیتا۔ یعنی جب روایتی سیاسی جماعتوں نے عوام کے بنیادی اور معاشی مسائل پر بات کرنا ہی چھوڑ دی، تو اس کا نتیجہ عوامی اضطراب کی صورت میں ہی سامنے آئے گا۔ پچھلے کچھ عرصے میں آٹے کی سبسڈیز، بجلی کے بلوں میں کمی اور ٹیکس اصلاحات کے لئے جو احتجاجی لہر اٹھی، اس نے واضح کیا تھا کہ کشمیر کے عوام اب سیاسی نعروں سے زیادہ اپنے معاشی حق اور حقوقِ زندگی پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے عوام کو اپنے آئینی و معاشی حقوق، صحت، تعلیم، اور مقامی سطح پر مضبوط بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے لیکن انتخابی سیاست محض حکومت بنانے اور گرانے کے فارمولوں کے گرد گھومتی ہے، جس سے عام کشمیری کا روزمرہ مسئلہ زیرِ بحث آنے کے بجائے دب جاتا ہے۔
اب پہلے مرحلے کے بعد ایک طرف بلاول انتخابات کو تھوڑا متنازع قرار دے رہے ہیں، مریم نواز ایکس پر جشن منا رہی ہیں۔ مبینہ بدانتظامی پر ایک اسسٹنٹ کمشنر کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ ایسی خرافات سے کشمیری عوام کو کیا ملے گا وہی جو پہلے مل رہا ہے اور بس۔

جواب دیں

Back to top button