آخر کب تک؟

3 ذرا سوچئے
آخر کب تک؟
امتیاز احمد شاد
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک نہایت کٹھن معاشی اور سماجی دور سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور گیس کی قلت، پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور بنیادی ضروریاتِ زندگی تک محدود رسائی نے عام آدمی کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ملک کا متوسط اور غریب طبقہ روز بروز معاشی دبا کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے۔ عوام کی اکثریت کے لیے دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ اور یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔ ایسی صورتحال میں جب پٹرول کی قیمت کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کرنے کی بات کی جاتی ہے تو عوام میں بے یقینی اور اضطراب مزید بڑھ جاتا ہے، کیونکہ ہر نئی قیمت زندگی کے تمام شعبوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
پاکستانی معاشرے میں مہنگائی صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر گھر کی کہانی بن چکی ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش، آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، گوشت اور دودھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ تنخواہیں اپنی جگہ پر جمی ہوئی ہیں جبکہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں ایک مزدور یا سفید پوش طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص اپنی ماہانہ آمدنی کو کس طرح پورا کرے، یہ ایک سنگین سوال بن چکا ہے۔
ایک طرف بجلی کا بحران عوامی زندگی کو بری طرح متاثر کر رہا ہے تو دوسری طرف بجلی کے بھاری بھرکم بل لوگوں کی کمر توڑ رہے ہیں۔ یونٹ ریٹ، مختلف ٹیکسز اور سرچارجز نے بجلی کو ایک مہنگی ترین سہولت بنا دیا ہے۔ بہت سے گھرانے بجلی کا استعمال کم کرنے پر مجبور ہیں جبکہ چھوٹے کاروبار بجلی کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے کے باعث بند ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ملکی معیشت کو مزید نقصان پہنچا رہا ہے۔
گیس کا بحران سردیوں میں ایک مستقل اذیت بن جاتا ہے۔ شہری علاقوں میں صبح اور شام کے اوقات میں گیس کی عدم دستیابی معمول بن چکی ہے جبکہ دیہی علاقوں کی صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہوتی ہے۔ خواتین کھانا پکانے کے لیے متبادل ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہوتی ہیں، جس سے اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ کئی صنعتیں گیس کی قلت کے باعث اپنی پیداوار کم کر دیتی ہیں جس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔
بنیادی ضروریاتِ زندگی جیسے صاف پانی، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات اور مناسب رہائش آج بھی لاکھوں پاکستانیوں کے لیے خواب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی کمی، ادویات کی مہنگی قیمتیں اور نجی علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے عام آدمی کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اسی طرح معیاری تعلیم بھی مہنگی ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث غریب اور متوسط طبقے کے والدین اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ یا ان کی روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ پاکستان میں قریباً ہر چیز کی قیمت کا تعلق نقل و حمل کے اخراجات سے ہے۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ، سبزی، پھل، دودھ، آٹا، سیمنٹ، ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اگر قیمتوں میں روزانہ تبدیلی ہوگی تو مارکیٹ میں استحکام ختم ہو جائے گا، کاروباری طبقہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگا اور عام صارف کے لیے اپنے ماہانہ بجٹ کی منصوبہ بندی تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔
پٹرول کی قیمتوں میں اتار چڑھائو صرف نجی گاڑی رکھنے والوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر شہری اس سے متاثر ہوتا ہے۔ رکشہ، ٹیکسی، بس، ویگن اور مال بردار گاڑیوں کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، جس کا براہ راست اثر روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں افراد پر پڑتا ہے۔ دیہی علاقوں سے شہروں تک آنے والی زرعی پیداوار بھی مہنگی ہو جاتی ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارف کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
اس تمام صورتحال کا سب سے زیادہ منفی اثر نوجوان نسل پر پڑ رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں جبکہ ملازمت پیشہ افراد اپنی تنخواہوں سے گھریلو اخراجات پورے کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ مایوسی، ذہنی دبا اور مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر نوجوانوں کو روزگار، معاشی استحکام اور بہتر مواقع فراہم نہ کیے گئے تو اس کے اثرات معاشرتی ترقی پر بھی مرتب ہوں گے۔
معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ عوام کا اعتماد بھی متاثر ہو رہا ہے۔ جب بار بار قیمتوں میں اضافہ ہو، یوٹیلیٹی بل مسلسل بڑھتے رہیں اور آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو تو لوگوں میں احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے۔ ایک مضبوط معیشت صرف اعداد و شمار سے نہیں بنتی بلکہ اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب عام شہری خود کو معاشی طور پر محفوظ محسوس کرے اور اسے یقین ہو کہ اس کی محنت کا ثمر اسے بہتر زندگی کی صورت میں ملے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوامی مشکلات کو صرف اعداد و شمار کی روشنی میں نہ دیکھے بلکہ زمینی حقائق کو بھی مدنظر رکھے۔ بجلی اور گیس کے شعبے میں اصلاحات، ٹیکس نظام میں بہتری، توانائی کے متبادل ذرائع کی ترقی ، زرعی اور صنعتی شعبے کی حوصلہ افزائی، بے روزگاری کے خاتمے کے لیے عملی منصوبہ بندی اور مہنگائی پر موثر کنٹرول وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں بھی ایسا نظام اختیار کیا جانا چاہیے جو عوام اور کاروباری طبقے دونوں کے لیے استحکام اور پیش بینی فراہم کرے۔
پاکستان بے پناہ وسائل، باصلاحیت افرادی قوت اور روشن امکانات رکھنے والا ملک ہے، لیکن جب تک معاشی پالیسیاں عوامی فلاح کو مرکزِ نگاہ نہیں بناتیں، اس وقت تک مہنگائی، توانائی کے بحران اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل عوام کی زندگی کو متاثر کرتے رہیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسی پالیسیاں تشکیل دی جائیں جو وقتی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی استحکام، معاشی انصاف اور عوامی خوشحالی کو یقینی بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر پاکستانی قوم کو موجودہ مشکلات سے نکالا جا سکتا ہے اور ایک مضبوط، خوشحال اور مستحکم پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔





