
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گزشتہ رات ایران پر کیے گئے حملے تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے ردعمل میں کیے گئے، جبکہ ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
فیفا ورلڈ کپ فائنل کے بعد واشنگٹن روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران عسکری لحاظ سے تقریباً اپنی تمام اہم صلاحیتیں کھو چکا ہے۔ ان کے بقول ایران کے پاس اب بھی کچھ میزائل، ڈرون اور محدود پیداواری صلاحیت موجود ہے، تاہم یہ پہلے جیسی نہیں رہی۔
امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آبنائے ہرمز پر اب امریکہ کا کنٹرول ہے، جبکہ ایران کسی بھی اہم صورتحال پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی پوزیشن میں نہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ "ہم نے آج رات ایک بار پھر ایران کو سخت نشانہ بنایا اور یہ کارروائی ہلاک ہونے والے تین امریکی فوجیوں کے اعزاز میں کی گئی۔” ان کا کہنا تھا کہ امریکی کارروائیوں کا مقصد ایران کی ممکنہ جوہری اور میزائل صلاحیت کو مزید محدود کرنا ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے بتایا کہ ایران کے خلاف حملوں کی نئی لہر شروع کر دی گئی ہے۔ سینٹکام کے مطابق یہ مسلسل نویں رات ہے جب امریکی افواج ایران میں عسکری اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں، اور یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور شہری ملاحوں کو لاحق خطرات کم کرنے کے لیے جاری رہیں گی۔







