Column

آبی بحران: زراعت، معیشت اور قومی سلامتی کے لئے بڑھتا خطرہ

غلام مصطفیٰ جمالی
پانی زندگی کی بنیاد ہے۔ انسان ہو یا حیوان، درخت ہوں یا فصلیں، صنعت ہو یا معیشت، ہر شعبہ پانی سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پانی کو مستقبل کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی دستیابی تیزی سے کم ہو رہی ہے اور اگر اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں ملک کو صرف زرعی اور معاشی مشکلات ہی نہیں بلکہ سماجی، ماحولیاتی اور قومی سلامتی کے حوالے سے بھی بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے اور زراعت کا دارومدار پانی پر ہے۔ جب پانی کم ہوگا تو فصلیں متاثر ہوں گی، پیداوار میں کمی آئے گی، خوراک مہنگی ہوگی، بے روزگاری بڑھے گی اور قومی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
پاکستان کو قدرت نے دریائوں، گلیشیئرز اور زیرزمین پانی کی شکل میں بے شمار آبی وسائل عطا کیے ہیں، لیکن بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلی، پانی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال، آبی ذخائر کی کمی، نہری نظام کی خستہ حالی اور پانی کے ضیاع نے اس نعمت کو بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں فی کس پانی کی دستیابی خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ ایک وقت تھا جب فی کس پانی کی دستیابی ہزاروں مکعب میٹر تھی، لیکن آج یہ مقدار مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے، جو مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کہیں شدید بارشیں اور سیلاب تباہی مچاتے ہیں تو کہیں طویل خشک سالی زندگی کو مشکل بنا دیتی ہے۔ شمالی علاقوں کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے ابتدا میں سیلاب کا خطرہ بڑھتا ہے، لیکن طویل مدت میں دریاں میں پانی کی مقدار کم ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ بارشوں کے بدلتے ہوئے نظام نے کسانوں کے لیے فصلوں کی منصوبہ بندی بھی دشوار بنا دی ہے۔ گرمی کی شدت میں اضافہ، پانی کی قلت اور زمین کی زرخیزی میں کمی مل کر زرعی پیداوار پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔
سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان، چاروں صوبے پانی کے مسئلے سے کسی نہ کسی شکل میں متاثر ہیں۔ سندھ کے کاشتکار اکثر دریائے سندھ میں پانی کی کمی کی شکایت کرتے ہیں، بلوچستان کے کئی اضلاع شدید خشک سالی کا شکار رہتے ہیں، جنوبی پنجاب میں زیرزمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے جبکہ شہری علاقوں میں بھی صاف پینے کے پانی کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ پانی کے معاملے کو صرف ایک صوبائی مسئلہ نہیں بلکہ قومی مسئلہ سمجھا جائے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں پانی کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ نہروں سے لیکیج، فرسودہ آبپاشی نظام، کھیتوں میں روایتی طریقوں سے آبپاشی، گھروں میں پانی کا بے دریغ استعمال اور بارش کے پانی کو محفوظ نہ کرنا اس بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ اگر جدید ڈرپ اور اسپرنکلر آبپاشی نظام کو فروغ دیا جائے، نہروں کی مرمت کی جائے، بارش کے پانی کو ذخیرہ کیا جائے اور عوام میں پانی بچانے کا شعور پیدا کیا جائے تو بڑی حد تک اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں نئے آبی ذخائر کی تعمیر بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بہت محدود ہے، جس کے باعث سیلاب کے دنوں میں کروڑوں ایکڑ فٹ پانی سمندر میں چلا جاتا ہے جبکہ خشک موسم میں پانی کی شدید کمی محسوس ہوتی ہے۔ اگر بروقت ڈیم، چھوٹے آبی ذخائر اور بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبے مکمل کیے جائیں تو نہ صرف زرعی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ بجلی کی پیداوار، سیلاب پر قابو اور پینے کے پانی کی فراہمی میں بھی بہتری آئے گی۔
زرعی شعبے میں بھی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ایسی فصلوں کی کاشت کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے جن میں پانی کم استعمال ہوتا ہو۔ کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر بیج، پانی بچانے کے طریقے اور حکومتی رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ کم پانی سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔ زرعی تحقیق کے اداروں کو بھی اس حوالے سے مزید فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
پانی کا بحران صرف حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم روزمرہ زندگی میں پانی کے استعمال میں احتیاط کریں، نل کھلا نہ چھوڑیں، گاڑیاں اور صحن دھونے میں پانی کا ضیاع کم کریں، درخت لگائیں اور نئی نسل کو پانی کی اہمیت سے آگاہ کریں تو یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات بھی بڑے نتائج دے سکتے ہیں۔ قومیں صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ عوامی شعور سے بھی ترقی کرتی ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ پانی کے معاملے پر سیاست کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دی جائے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد، باہمی مشاورت اور آئینی اصولوں کے مطابق فیصلے ہی اس مسئلے کا پائیدار حل فراہم کر سکتے ہیں۔ آبی وسائل کے بہتر انتظام کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مثر منصوبہ بندی اور شفاف پالیسی سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آج اگر ہم نے پانی کی قدر نہ کی تو کل آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ پانی کا بحران محض مستقبل کا خدشہ نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت ہے جس کے آثار ملک کے مختلف حصوں میں واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ اس لیے حکومت، متعلقہ اداروں، ماہرین، کسانوں، صنعت کاروں، تعلیمی اداروں اور عام شہریوں کو مل کر ایسی قومی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جو پانی کے ہر قطرے کو محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہو۔ اگر بروقت دانشمندانہ فیصلے کیے گئے، پانی کے ضیاع کو روکا گیا، جدید ٹیکنالوجی کو اپنایا گیا اور قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ آبی وسائل کا بہتر انتظام کیا گیا تو پاکستان اس چیلنج پر قابو پا سکتا ہے۔ بصورت دیگر پانی کی قلت صرف کھیتوں کو بنجر نہیں کرے گی بلکہ معیشت، معاشرت اور قومی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہی وقت ہے کہ پانی کو محض ایک قدرتی نعمت نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی خودمختاری اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت سمجھتے ہوئے اس کے تحفظ کو قومی ترجیح بنایا جائے۔

جواب دیں

Back to top button