مفت LPGسلنڈر کی بارش

مفت LPGسلنڈر کی بارش
خواجہ عابد حسین
رزق آسمان سے آتا ہے، لیکن یہ تو زمین پر سیلاب کے ساتھ آیا! مہاراشٹر کے پٹال گنگا میں ہندوستان پٹرولیم کا بوتلنگ پلانٹ سیلاب میں ڈوب گیا۔ حکام نے بتایا کہ موسلادھار بارش کے باعث پلانٹ کی حفاظتی دیوار گر گئی، جس سے سیلابی پانی براہِ راست احاطے میں داخل ہو گیا۔ اس کے بعد سلنڈر بہہ کر پاتال گنگا دریا اور کھارپاڑا کریک میں چلے گئے۔ اور قریباً تین ہزار ایل پی جی سلنڈر، کچھ بھرے ہوئے، کچھ خالی، پٹال گنگا ندی میں بہہ نکلے۔ اب ویڈیوز دیکھیں تو دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ لوگ دریا کے غضب میں اتر کر سلنڈر پکڑ رہے ہیں، جیسے کوئی خزانہ مل گیا ہو۔
عام آدمی تو سوچتا ہے ، ہمارے لیے معجزہ ہے۔ گھر میں گیس ختم ہونے والہ تھی، سرکار کی سبسڈی والا سلنڈر بھی مہنگا پڑ رہا تھا، اور اب مفت میں سلنڈر ندی میں تیر رہے ہیں۔ ایک بھائی نے تو کمنٹ بھی کیا’’ ہرمز کا راستہ بند تھا تو گیس کا بحران پڑا، اب ندی میں گیس آ گئی‘‘۔ ہنستے ہنستے رونے لگتے ہیں۔
سچ پوچھیں تو عام آدمی کی حالت یہ ہے کہ وہ سوچتا ہے کہ اگر سلنڈر بہہ رہے ہیں تو اللہ کی طرف سے حلال رزق سمجھ کر اٹھا لوں۔ گھر میں بچے رو رہے ہوں، چولہے پر کھانا پکانی کو کچھ نہ ہو، تو کیا کرے؟ پولیس والے کہتے ہیں خطرناک ہے، مت چھوئو، انتظامیہ کہتی ہے HPCLوالوں کے حوالے کر دو۔ لیکن بھائی، جب پیٹ کی آگ ہو تو خطرہ بھی نظر نہیں آتا۔ لوگ جان ہتھیلی پر رکھ کر پانی میں اتر رہے ہیں۔ یہ غربت کی کہانی ہے، مہنگائی کی کہانی ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے اتنا بڑا LPGپلانٹ ندی کے کنارے کیوں بنا دیا گیا؟ اتنی بڑی کمپنی، اتنی بڑی سرکار، سیلاب کا پہلے سے اندازہ تھا یا نہیں؟ بارش تو ہر سال ہوتی ہے مہاراشٹر میں۔ کیا پلانٹ کی جگہ کا انتخاب غلط تھا؟ کیا حفاظتی انتظامات ناکافی تھے؟ تین ہزار سلنڈر ایک دم بہہ جائیں ، یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ اگر یہ سلنڈر پھٹ جاتے یا کسی بڑے سانحے کا سبب بنتے تو پھر کیا ہوتا؟
عام آدمی کہتا ہے: ’’ ہم تو بس ایک سلنڈر اٹھا کر گھر لے آئے، لیکن اصل مجرم وہ ہیں جنہوں نے پلانٹ کو ایسی جگہ بنایا جہاں سیلاب آ سکتا ہے‘‘۔
کچھ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ خواتین بھی مردوں کے ساتھ پانی کے قریب کھڑی ہیں۔ کوئی سلنڈر تھامنے میں مدد کر رہی ہے، کوئی بچوں کو روک رہی ہے کہ وہ نہ جائیں۔ ایک طرف خوف، دوسری طرف امید۔ اگر سلنڈر گھر آ جائے تو ماں کو کچھ دن کی سکون مل جائے گا۔ لیکن اگر خاوند یا بیٹا پانی میں بہہ جائے تو؟ یہ درد صرف عورت ہی جانتی ہے۔ٔاب انتظامیہ اپیل کر رہی ہے کہ جو بھی سلنڈر ملے واپس کر دو۔ ٹھیک ہے، خطرہ ہے، گیس بھرا سلنڈر پانی میں پھٹ سکتا ہے۔ لیکن جو لوگ غریب ہیں، ان کے لیے یہ ’’ مفت کا تحفہ‘‘ لگتا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ مذاق بھی اڑا رہے ہیں کہ ’’ اب گیس والے گھر گھر نہیں جائیں گے، ندی سے لے لو‘‘ ۔
اللہ سب کو عقل دے۔ جو سلنڈر ملے تو احتیاط سے HPCLیا حکام کے حوالے کر دیں۔ مگر ساتھ ہی حکام سے بھی پوچھیں کہ آخر ایسا ہوا کیوں؟ عام آدمی کا درد یہ ہے کہ جب اس کی جیب خالی ہو تو ہر چیز مفت کی نظر آتی ہے، چاہے خطرہ کتنا ہی ہو۔
یہ واقعہ ہمیں دو باتیں سکھاتا ہے: ایک تو یہ کہ ترقی کا نام پلانٹ بنانا نہیں، بلکہ محفوظ اور منصوبہ بند ترقی ہے۔ دوسرا یہ کہ جب تک غربت اور مہنگائی ہے، عام آدمی ہر ’’ مفت‘‘ چیز کو رزق سمجھے گا ، چاہے وہ ندی میں تیرتا ہوا سلنڈر ہی کیوں نہ ہو۔





