آبنائے ہرمز، جنگ کا دہانہ اور پاکستان کی آزمائش

آبنائے ہرمز، جنگ کا دہانہ اور پاکستان کی آزمائش
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
آبنائے ہرمز نقشے پر ایک تنگ سا راستہ دکھائی دیتا ہے، مگر دنیا کی معیشت، خطے کی سیاست اور عام آدمی کے روزمرہ خرچ کا ایک حصہ اسی سے بندھا ہوا ہے۔ جب وہاں کشیدگی بڑھتی ہے تو صرف بحری راستے غیر محفوظ نہیں ہوتے، منڈیاں اثر انداز ہوتی ہیں، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو آتا ہے، اور اس کا اثر آخرکار ان گھروں تک پہنچتا ہے جہاں پہلے ہی مہینے کے آخر میں حساب ملانا مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی موجودہ کشیدگی کو صرف ایک دور دراز سفارتی بحران سمجھنا غلط ہوگا۔ امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان تنا نے خطے کو مستقل خطرے کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ جنگ بندی کی بات ہوتی ہے، پھر اس کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آتے ہیں، پھر سفارتی رابطوں کی خبریں آتی ہیں، اور اسی دوران سمندر میں خوف برقرار رہتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب اعتماد ٹوٹ جاتا ہے تو ہر واقعہ اپنے حجم سے بڑا دکھائی دینے لگتا ہے۔ ایک حملہ، ایک غلط اندازہ، ایک اشتعال انگیز بیان، یا ایک عسکری حرکت، پوری فضا کو پھر سے آلودہ کر سکتی ہے۔
ایسے وقت میں پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے سب سے پہلے توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔ نہ یہ کہنا درست ہے کہ سارا بوجھ پاکستان پر ہے، نہ یہ کہ پاکستان غیر متعلق ہے۔ اس بحران کا اصل مرکز وہ فریق ہیں جو براہ راست اس کشمکش میں شامل ہیں یا جن کے فیصلوں سے اس کشیدگی کی سمت طے ہوتی ہے۔ جنگ ہو یا جنگ بندی، حملہ ہو یا جواب، الزام ہو یا انکار، اس سب کی بنیادی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان نہ اس بحران کا خالق ہے، نہ فیصلہ کن قوت، اور نہ وہ ملک جو اکیلا اس تنازع کو سلجھا سکتا ہو۔ اس کا کردار اگر ہے تو ایک ذمہ دار، محتاط اور محدود سفارتی کردار ہے۔ یہی بات واضح رہنی چاہیے۔ پاکستان کشیدگی کم کرنے کی بات کر سکتا ہے، رابطے کی حمایت کر سکتا ہے، اور اگر متعلقہ فریق چاہیں تو بات چیت کے لیے نرم فضا پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ مگر اس سے زیادہ کوئی دعویٰ حقیقت سے دور ہوگا۔ خارجہ پالیسی میں خواہش اور اختیار ایک چیز نہیں ہوتے۔ بہت سے ملک امن چاہتے ہیں، مگر سب کے پاس امن نافذ کرانے کی طاقت نہیں ہوتی۔ پاکستان بھی انہی ملکوں میں شامل ہے جو اثر تو ڈال سکتے ہیں، مگر فیصلہ نہیں لکھ سکتے۔
پاکستان نے عمومی طور پر یہی کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہونی چاہیے، مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری سے نکلنا چاہیے، اور حالات کو مزید بگاڑنے سے گریز کرنا چاہیے۔ یہی ایک ذمہ دار ریاست کی زبان بھی ہے۔ لیکن اس عمومی موقف سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ اسلام آباد خود کو اس پورے بحران کا عملی منتظم سمجھتا ہے۔ ایسا کہنا نہ صرف مبالغہ ہوگا بلکہ پاکستان کے سرکاری موقف پر ایسی نیت منسوب کرنا بھی ہوگا جو اس نے خود بیان نہ کی ہو۔ آبنائے ہرمز کے معاملے میں اصل خرابی یہ ہے کہ یہاں صرف فوجی طاقت کا مسئلہ نہیں، اعتماد کی شدید کمی کا مسئلہ بھی ہے۔ اگر دو فریق ایک دوسرے پر مسلسل یہ الزام لگا رہے ہوں کہ دوسرا معاہدہ توڑ رہا ہے، تو محض بیانات سے کشیدگی کم نہیں ہوتی۔
اس پوری صورت حال کا انسانی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ جب عالمی خبرناموں میں آبنائے ہرمز کی خبر چلتی ہے تو ہمارے یہاں اکثر اسے صرف تیل کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، حالانکہ معاملہ اس سے کہیں وسیع ہے۔ تیل مہنگا ہو تو ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو اشیائے ضروریہ کے نرخ بڑھتے ہیں۔ بجلی کی لاگت پر اثر پڑتا ہے۔ صنعت کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ درآمدی دبائو بڑھتا ہے۔ اور پھر یہ سب ایک خاموش زنجیر کی صورت میں عام زندگی کو دباتا چلا جاتا ہے۔ ایک گھر کے باورچی خانے میں اخراجات کا بوجھ بڑھتا ہے۔ ایک تنخواہ دار شخص کے بجٹ میں دراڑ پڑتی ہے۔ عالمی تنازعات ہمیشہ نقشوں پر نہیں، کئی بار راشن کی فہرست میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔
یہی سبب ہے کہ پاکستان کے لیے مکمل لاتعلقی بھی ممکن نہیں۔ جغرافیہ اور معیشت دونوں اسے اس بحران سے جوڑتے ہیں۔ خلیج میں پاکستانی افرادی قوت موجود ہے، سمندری تجارت کی اپنی اہمیت ہے، توانائی کا اپنا بوجھ ہے، اور خطے کی سلامتی کا اپنا سوال ہے۔ چنانچہ پاکستان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب اس سے بے تعلق ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ تعلق ہونا اور فیصلہ کن ہونا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ کچھ حلقے یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو اس سارے معاملے سے دور رہنا چاہیے، کیونکہ ملک پہلے ہی داخلی سیاسی کشمکش، معاشی دبائو اور سلامتی کے مسائل سے گزر رہا ہے۔ اس بات میں وزن ضرور ہے۔ جو ریاست اپنے اندر کئی الجھنوں میں گھری ہو، وہ باہر کے بحرانوں میں بڑی ذمہ داری اٹھانے سے گریز کرتی ہے۔ مگر اس رائے کی بھی ایک حد ہے۔ بیرونی دنیا سے نظریں بند کر لینے سے بیرونی اثرات ختم نہیں ہوتے۔ اگر آبنائے ہرمز میں بے یقینی طول پکڑتی ہے تو اس کی معاشی اور نفسیاتی قیمت پاکستان کو بھی ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ اس لیے درست راستہ مکمل فاصلہ نہیں، محتاط تعلق ہے۔
ادھر یورپی ممالک اور دوسرے متاثرہ ملکوں کی روش بھی کچھ ایسی ہی رہی ہے کہ وہ تشویش کا اظہار تو کرتے ہیں، مگر عملی سطح پر ان کی رفتار سست دکھائی دیتی ہے۔ وہ خطرے کو جانتے ہیں، مگر براہ راست سیاسی رسک لینے سے بچتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ باتیں بہت ہوتی ہیں اور بھروسہ کم بنتا ہے۔ اگر یہ کیفیت قائم رہی تو خطے میں بے یقینی مزید گہری ہو سکتی ہے۔ سمندری تجارتی راستوں پر دبائو بڑھے گا، انشورنس مہنگی ہوگی، سرمایہ کار محتاط ہوں گے، اور معمولی واقعہ بھی غیر معمولی ردعمل کو جنم دے سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں سب سے زیادہ نقصان ہمیشہ ان ملکوں اور معاشروں کو ہوتا ہے جو پہلے ہی کمزور معاشی بنیادوں پر کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود اصل حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ اس بحران کے حل کی کنجی پاکستان کے پاس نہیں، اصل فریقوں کے پاس ہے۔ اگر وہ جنگ بندی کو سنجیدگی سے نہ لیں، اگر وہ ایک دوسرے کو دیوار سے لگانے کی پالیسی پر قائم رہیں، اگر ہر واقعے کو اپنی طاقت دکھانے کا موقع سمجھیں، تو پھر کوئی بھی بیرونی خیر خواہ محدود ہی رہتا ہے۔ پاکستان زیادہ سے زیادہ اتنا کر سکتا ہے کہ کشیدگی کم کرنے والی آوازوں کا حصہ بنے، یک طرفہ صف بندی سے بچے، اور اگر موقع ملے تو رابطے کی گنجائش ختم نہ ہونے دے۔ آبنائے ہرمز کے بحران میں پاکستان ایک ذمہ دار علاقائی ملک ہے۔ وہ امن، تحمل اور مذاکرات کی حمایت کر سکتا ہے۔ اگر فریقین چاہیں تو رابطے کے لیے ایک مناسب فضا میں حصہ ڈال سکتا ہے۔ مگر جنگ روکنا، معاہدے پر عمل کرانا، یا تنازعے کا فیصلہ کن حل انہی قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو اس بحران کی اصل فریق ہیں۔





