
گزشتہ روز جمعرات (9 جولائی) کو ایران کے جنوبی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم امریکا نے ایران پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔
ایرانی نیم سرکاری میڈیا کے مطابق جمعرات کی شب صوبے بوشہر کے مختلف علاقوں اور قریبی شہر چوغادک میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر ایک امریکی اسرائیلی پروجیکٹائل بوشہر کے مضافات میں واقع فوجی ہیڈکوارٹر سے ٹکرایا، بوشہر وہ صوبہ ہے جہاں تہران کی واحد سول جوہری تنصیب واقع ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق جنوبی شہر کنارک میں بھی مزید 3 دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
بوشہر کے نائب گورنر برائے سیاسی و سیکیورٹی امور احسان جہانیان نے سرکاری خبر رساں ادارے کو بتایا کہ آج صوبے کے کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں جوہری تنصیب کے اطراف کا علاقہ، چوغادک شہر میں واقع ایک فوجی اڈہ اور صوبے کے جنوبی حصے میں ماہی گیری کی ایک بندرگاہ شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ شہر میں سنا جانے والا دھماکا فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کے باعث ہوا، تاہم حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ان دھماکوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکی فوج نے ایران میں کوئی فضائی حملہ یا فوجی کارروائی نہیں کی۔
میڈیا رپوٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان 7جولائی سے حملوں کا تبادلہ جاری ہے، تہران نے خلیجی خطے میں واقع متعدد امریکی فوجی مقامات کو بھی نشانہ بنایا، جن میں قطر، بحرین اور کویت شامل ہیں، جس کے باعث جون کے وسط میں طے پانے والی جنگ بندی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مہر نیوز ایجنسی نے دھماکوں کی وجوہات، ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
تازہ حملوں کی یہ اطلاعات ایسے وقت سامنے آئیں جب ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کو امام علی رضا کے روضے کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا







