عام آدمی معاشی طور پر ناکام کیوں

عام آدمی معاشی طور پر ناکام کیوں
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
کوئی پہیلی نہیں، سیدھی سیدھی بات کرتے ہیں، سینئر اینکر کالم نگار اور کامیاب منصف جاوید چودھری کا ایک ویڈیو کلپ دیکھا جس میں وہ بات کر رہے تھے ’’ اگر آپ کے تین دوست کاروباری ہیں تو چوتھے آپ بھی کاروباری بن جائو گے، اگر آپ کے تین دوست نمازی ہیں تو آپ بھی نمازی بن جائو گے ‘‘۔ میں کہتا ہوں کہ ساتھ بیٹھنے والے اگر کھوٹی نیت والے ہیں تو آپ بھی کھوٹے نیت والے بن جائیں گے۔ صحبت کا انسانی زندگی پر بڑا عمل دخل ہے، جاوید چودھری صاحب کا تہہ دل سے مشکور ہوں، جو اکثر معلوماتی ویڈیو بنا کر پاکستانیوں کی کردار سازی اور ان کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ چودھری صاحب کا ویڈیو کلپ دیکھ کر میں بھی گہری سوچ میں پڑگیا اور ماضی کے لمحات کو سوچنا لگا کہ انسان کی مشکلات اس کی اپنی ذات سے نہیں دوسروں کے حسد کی وجہ ہیں، یقینا یہ عمل آپ بھی کر کے دیکھ سکتے ہیں، آپ کو بھی گزارے لمحات کی سمجھ آ جائے گی، کہ قبر تک لے جانے میں کس کا کتنا کردار تھا۔ جاوید چودھری صاحب کی بات میں کتنا دم ہے۔ ہم زندگی میں ناکام کیوں ہوتے ہیں، اس کی کیا وجوہات ہیں ؟ ناکامی کی ان وجوہات میں حکومت یا پھر معاشرے کا کتنا عمل دخل ہے، یہ ٹاپک کافی اہم ہے۔ حکومت اور معاشرہ کہاں تک ہماری زندگیوں کو متاثر کرتا ہے، اس حوالے سے ہماری حکومتوں کی کوششیں بہت ہی محدود ہیں۔ آج تک عام لوگوں اس نظام کو نہیں سمجھ سکے کہ یہ نظام کیسے چلتا ہے۔ معاشی، سماجی اور معاشرتی مسائل پر بھی سیاست سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ عام آدمی اس نظام کو کیسے اپنے لئے ہموار بنا کر کامیاب زندگی گزار سکتا۔ حکومت وقت نے بھی اس حوالے سے کوئی خاص پالیسی نہیں بنائی، کوئی کردار سازی نہیں کی ہے، جو اقدامات کئے گے وہ زیادہ تر طاقتور حلقوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے تھے۔ قیام پاکستان کے وقت صرف 10فیصد صنعتیں ملیں، جن میں کپاس اور ٹیکسٹائل شامل تھیں، 75کروڑ میں نے صرف 20کروڑ ملے۔ ابتدائی دور میں آباد کاری، نئی حکومت، فوج اور انتظامیہ کے بنیادی ڈھانچے کے مسائل تھے۔ جن کے حل میں مخلص قیادت، لوگوں نے اپنا سب کچھ قربان کیا۔ آج جمہوری لیڈروں کی پالیسی کی وجہ سے کپاس اور ٹیکسٹائل سیکٹر تباہ حال ہے، جو زمین کپاس کی کاشت کے لئے موزوں تھی، وہاں پر شوگر ملز لگا کر ویلیو ایڈڈ انڈسٹری کو تباہ کر دیا ہے۔ اجناس کی درآمد کر رہے ہیں ، جس کا بل 10 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ایسے حالات میں عام بندہ خود کو کیسے بہتر کر سکتا ہے ۔ ویسے کامیاب زندگی کا مطلب دولت کے انبار نہیں بلکہ ضروریات زندگی کے آسانی سے میسر ہونے کا نام ہے۔ گزارے سالوں میں حکومتی پالیسیوں کی طرح لوگوں نے بھی خود کو نہیں بدلا۔ حکومتوں پر تکیہ کرتے رہے۔ کامیابی کے لیے اپنے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر مند بنایا جاتا، اس سے عام آدمی کی زندگی میں بہتری ممکن ہوتی، طاقتور کاروباری حلقوں نے بھی کوئی شعور نہیں دیا۔ معاشرتی قدروں کی بحالی پر بھی حقیقی کام نہیں ہوا، جس کا جو من چاہا اس نے وہ کچھ کیا اور حکومتوں کی سرپرستی شامل رہی۔ کامیاب زندگی کے لیے انسان کو خود آگے آنا ہو گا، ان تین الفاظ کو اپنی زندگی میں شامل حال رکھنا چاہئے ، انسان کئی حالتوں میں بے بس ہے اور اس بے بسی کو کمزوری نہیں بلکہ شکری سمجھنا چاہئے۔ مسکراہٹ اور سلام کو زندگی کا حصہ بنا لیں۔ میں نے سعودی عرب سے آنے والے سے پوچھا کہ یار سعودی عرب کے لوگ کیسے ہیں، ان میں کون سی خوبی نمایاں ہے، اس نے سوچ کر جواب دیا اور بولا، سعودی عرب کے لوگ سلام کرنے میں ہمیشہ پہل کرتے ہیں، ان میں یہ خوبی نمایاں ہے، جو عمل انسان کو اللّہ کے قریب کرتا ہے، وہ شکر کے کلمات ہیں۔ روزانہ کی گفتگو پر غور کریں تو کئی کفریہ کلمات ادا کر رہے ہوتے ہیں، اور پھر ان کلمات پر فخر محسوس کرتے ہیں، یہی کلمات انسان کے رزق میں کمی اور تنگ دستی کا سبب بنتے ہیں، خدائی دعوے مت کریں، اللّہ سے فضل، رحم کی دعا کریں، خالق اللّہ ہے۔ انسانوں کی خوشامد کے لیے سارا وقت ضائع کرتے ہیں، لیکن جو عمل آپ کی زندگی بدل دے وہ اللّہ کے سامنے سجدہ ہے اور نماز کے بعد چند منٹ مسجد میں بیٹھ کر اللّہ پاک سے اپنی ساری حاجات کی دعائیں ہیں۔ خالق کو بتائیں کہ آپ مشکل میں ہیں، جب آپ اللّہ سے اپنی ضروریات کا سوال کریں گے تو اللّہ رحیم کریم ہے، وہ کبھی بھی مایوس نہیں کرے گا بلکہ جھولی بھر کر رزق دے گا، جب رزق کی فراوانی ہو تو اپنے سے کمزور انسانوں کا خیال رکھیں۔ سچ کا ساتھ دیں۔ ہمارے ہاں سچ گوئی سے لوگ ڈر رہے ہیں، جب انسان میں طاقت آتی ہے تو پھر وہ بندے کو بندہ نہیں سمجھتا، محترم جناب اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ جس کو جو مقام ملا ہے وہ اللّہ کی عنایت ہے، ہم کون ہوتے ہیں اللّہ کے حکم کی حکم عدولی کرنے والے۔ بس کامیابی کا راستہ بہت آسان ہے، صرف سوچنے کا انداز بدلنا ہو گا اور عمل تو کامیابی کی ضمانت ہے۔ دنیاوی زندگی میں تعلیم کے ساتھ خود کو ہنر مند بنائیں، کامیابی آپ کی دہلیز پر دستک دے گی۔





